گزشتہ سے پیوستہ
پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ترقی طالب علموں کے لیے کتنی ثمر آور ہو گی اس کے لیے ضرورہ ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام کو سروس پروٹیکشن دی جائے۔ ان کی سالانہ تنخواہیں مناسب ہوں اور ان میں ممکن حد تک اضافہ کیا جائے۔ انہیں کم از کم بغیر کسی درست جواز کے ملازمت سے نہ ہٹایاجائے۔ کوئی اخلاقی ضابطہ طے کیا جائے تو نتائج بہتر آیئں گے۔
کیا وہ نجی تعلیمی ادارہ کسی بورڈ یا یونیورسٹی سے کسی ضابطے سے رجسٹرڈ ہوا۔ جس عمارت میں ادارہ کام کر رہا ہے اس عمارت کے مالک سے کوئی ایگری منٹ ہوا۔ بچوں سے داخلہ کے وقت ایفی ڈیوٹ دستخط ہوا۔ تو ادارے اساتذہ کرام سے کیوں کوئی ایگری منٹ طے نہیں کرتے۔ دوسرا یہ امر بھی غور طلب ہے کہ جب بلڈنگ کا کرایہ ہر سال بڑھ سکتا ہے۔ بجلی کا بل ہر سال بڑھ سکتا ہے ۔ بچوں کی فیسیں ہر سال بڑھ سکتی ہیں تو پھر اساتذہ کرام کی تنخواہوں میں ہر سال اضافہ کیوں نہیں ہوتا۔ جب تک تعلیمی ادارے اساتذہ کرام کو عزت اور معاشی تحفظ نہیں دیں گے تب تک پرائیویٹ اداروں میں خدمات دینے والے اساتذہ کرام پیشہ ور اساتذہ نہیں بن سکتے۔ دلجمعی اور لگن سے کام نہیں کر سکتے۔
ان کی سروس کا عدم تحفظ انہیں مستقل بنیادوں پر پیشہ ورانہ کام کرنے سے روکے رکھتا ہے۔ انہیں خوف ہوتا ہے کہ ادارہ کسی بھی وقت ان کو گھر بھیج سکتا ہے۔ اگر بات کی جائے بچوں کی کلاسز میں عدم دلچسپی کی تو پچاس فی صد سرے سے پہلے دن سے ہی کلاسز میں نہیں آتے۔ باقی پچاس میں سے پچیس فیصد ایسے طالب علم ہیں جو گھر سے کالج تک پہنچ تو جاتے ہیں مگر ان کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ وہ اپنی اپنی کلاسز میں بیٹھیں۔ لیکچرز سنیں۔ اساتذہ کرام سے فیض یاب ہوں ۔ پچاس میں سے باقی آخری پچیس فیصد کلاسز میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ جن میں سے دس پندرہ کے پاس کتابیں تک نہیں ہوتیں۔ ایسے طالب علم کلاس میں حاضر تو ضرور ہوتے ہیں مگر جسمانی طور پر ، یہ کبھی بھی ذہنی طور پر کلاس میں حاضر نہیں ہوتے۔ کلاس میں سو کی تعداد میں سے محض پانچ سے دس طالب علم بمشکل ذہنی اور جسمانی طور پر حاضر ہوتے ہیں۔ میں اساتذہ کرام کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں جو سردی گرمی میں بروقت اپنی اپنی کلاسز لیتے ہیں اور پورا سیشن دل لگی اور محنت سے طلبا کی آبیاری کرتے ہیں۔
میں ذاتی طور پر کوشش کرتا ہوں نصابی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ طلبا کی ذہنی، اخلاقی اور نفسیاتی تربیت بھی کروں۔ کلاس میں روزانہ حاضر ہونے ، کلاس روم کے تقدس کا خیال کرنے ، لیکچر پوری دلچسپی اور توجہ سے سننے ، اساتذہ کرام کو احترام دینے اور روز کا کام روز کرکے آنے جیسی تربیت کرنا میری روز کی عادت رہی ہے۔ لیکچر کے دوران کسی طالب علم کا بولنا ، ادھر ادھر دیکھنا ، غیر سنجیدہ ہو کر بیٹھنا ، طلبا کی لک ، پوسچر، ڈریسنگ یہاں تک کے بات کرنے کا انداز ہمیشہ سے میری تربیت کرنے کا محور رہے ہیں۔ ہاں لیکچر کے بعد طلبا کو لبرٹی بھی دیتا ہوں کہ وہ بلا خوف اعتماد سے جو پوچھنا چاہیں پوچھ لیں ، جو سمجھنا چاہیں سمجھ لیں ۔ میں تو اتنا یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ کی کلاس کا بچہ آپ کے مضمون میں کسی اور استاد سے مدد لیتا ہے تو یہ آپ کی پیشہ ورانہ توہین ہے۔
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ
