سلمان عابدکالملکھاری

سلمان عابد کا کالم :شہباز شریف کی سیاسی پریشانی

مسلم لیگ نون میں دو سیاسی بیانیہ کی لڑائی اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز نے سیاسی بیانیہ کی بنیاد پر سول بالادستی کی جنگ میں اداروں سے ٹکراو کی جو پالیسی اختیار کی ہوئی ہے اس پر پارٹی کے ایک بڑے طبقہ میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ اس طبقہ کی قیادت عملی طور پر شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے۔ وہ مزاحمت یا اداروں سے ٹکراو کے مقابلے میں مفاہمت اور اداروں کے ساتھ باہمی معاونت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ شہباز شریف کی یہ ڈھکی چھپی پالیسی نہیں بلکہ اس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں او ران کے بقول ٹکراو کی پالیسی پارٹی کے مفاد میں نہیں۔ لیکن نواز شریف اور مریم نواز سمجھتی ہیں کہ اب مزاحمت کی سیاست کو ہی طاقت دے کر اپنی ہی شرائط پر اسٹیبلیشمنٹ سے معاملات طے کر سکتے ہیں۔
حالیہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی ہم نے مسلم لیگ نون کے بیانیہ کی سیاسی جنگ کا ٹکراو دیکھا ہے۔ شہباز شریف عملی طور پر اس پوری انتخابی مہم سے علیحدہ رہے۔ انتخابی مہم براہ راست مریم نواز نے خود چلائی۔ کیونکہ مریم نواز شہباز شریف کو پارلیمانی سیاست تک محدود رکھنا چاہتی ہیں جبکہ خود پارٹی کی سیاسی میدان میں قیادت بھی کرنا چاہتی ہیں اور سیاسی فیصلوں میں اپنی برتری بھی قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پارٹی کے سربراہ شہباز شریف نہ صرف گومگوں کیفیت میں ہیں بلکہ وہ مریم نواز کی سیاست سے عملی طور پر سیاسی فاصلہ رکھے ہوئے ہیں، یہ سیاسی فاصلہ نمایاں طور پر دیکھا بھی جاسکتا ہے۔آزاد کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کی شکست نے مسلم لیگ نون کی قیادت میں پہلے سے موجود پریشانی میں اور زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ کیونکہ یہ تو بات یقینی تھی کہ وہاں حکومت تحریک انصاف کی ہی بنے گی مگر یہ مسلم لیگ نون کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکہ ہے کہ وہ ان انتخابات میں دوسری پوزیشن کی بجائے تیسری پوزیشن پر کھڑا کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا گیارہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ظاہر کرتا ہے کہ مسلم لیگ نون کے بیانیہ اور اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراو کی پالیسی کا بڑا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو رہا ہے اور وہ خود کو متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
اس انتخابی شکست کے بعد مسلم لیگ نون میں موجود مفاہمت سے جڑا گروپ کا شہباز شریف پر دباو بڑھ گیا ہے کہ وہ آگے بڑھ کر سیاسی معاملات کو خود سنبھالیں۔ کیونکہ مریم نواز کی سیاسی مقبولیت اور بڑے بڑے جلسوں کی سیاست سے ان کو ووٹ کی سیاست میں مدد نہیں مل رہی اور ٹکراو کی اس پالیسی کی وجہ سے پارٹی میں بالخصوص انتخابی سیاست سے جڑے افراد زیادہ پریشان نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ اگر پارٹی اس داخلی بیانیہ کے بحران سے باہر نہیں نکلتی او راسی تضاد میں آگے بڑھتی ہے تو اس کی بھاری قیمت ہمیں 2023 کے عام انتخابات میں بھی دینی پڑ سکتی ہے۔
اب سیالکوٹ میں پی پی 38 میں مسلم لیگ نون کی بڑی شکست نے پارٹی کو بڑا دھچکہ دیا ہے او راس سے پارٹی کا مورال کافی حد تک بگڑ گیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پارٹی میں گہرائی کے ساتھ سوچ و بچار شروع ہو گئی ہے کہ کیا وجہ ہے کہ پارٹی اوپر جانے کی جائے نیچے کی طرف جا رہی ہے اور اس کی کیا وجوہات ہیں اور کیا اس بحران سے نمٹنے کے لیے مستقبل کی کیا حکمت عملی ہونی چاہیے۔مریم نواز کی پالیسی اور ٹکراو کی سیاست سے شہباز شریف خاصے نالاں ہیں او راس کا اظہار وہ مختلف نجی محفلوں میں پارٹی اور میڈیا کے مختلف اہم لوگوں سے کر رہے ہیں۔ شہباز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ مریم ان کی بجائے نواز شریف کی طرف دیکھتی ہیں اور پارٹی کے صدر ہونے کے ناتے ان کی پالیسی کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔ شہباز شریف اس بات کا گلہ نواز شریف سے کرچکے ہیں کہ ٹکراو کی پالیسی خاندان اور جماعت کے مفاد میں نہیں۔ نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ شہباز شریف کے مقابلے میں مریم نواز کو سیاسی متبادل کے طور پر دیکھتے ہیں او ریہ ہی تضاد اس وقت نواز شریف اور شہباز شریف کی سیاست میں غالب نظر آتا ہے۔ شہباز شریف چاہتے ہیں کہ نواز شریف خود سے ان کے حق میں فیصلہ کریں کہ وہی پارٹی معاملات کو آگے بڑھائیں گے اور مریم نواز کو ان کی پالیسی کے تحت ہی چلنا ہوگا۔ لیکن بظاہر لگتا ہے کہ نواز شریف اس کے لیے فی الحال تیار نہیں۔
شہباز شریف کو اس بات پر بھی گلہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر اور وفد سے ملاقات کیوں کی او راس ملاقات کی وجہ سے شہباز شریف کی مفاہمت کی سیاست کو نقصان پہنچا ہے۔ کیونکہ ایک ایسے موقع پر جب افغان حکومت بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے مشکلات کو پیدا کرنے کے کھیل کا حصہ بنی ہوئی ہے اور پاکستان پر سنگین الزامات کی بوچھاڑ ہے تو ایسے میں پارٹی سربراہ نواز شریف کو بھی اس ملاقات سے گریز کرنا چاہیے تھا۔کیونکہ وہ جب بھی مفاہمت کی سیاست کو آگے بڑھاتے ہیں تو اس میں نواز شریف یا مریم نواز کا سیاسی ایجنڈا غالب آ جاتا ہے جو ان کو سیاسی طور پر کمزور کرتا ہے۔ شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ مریم نواز کے گرد جو ایک سیاسی گروہ ہے وہ خود ٹکراو کی سیاست کا حامی ہے اور یہ لوگ پارٹی کے مفاد سے زیادہ اپنے کسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ شہباز شریف کے پاس کیا سیاسی آپشن ہیں۔ کیونکہ آب تک کی سیاست کا جائزہ لیں تو سمجھ میں یہ ہی آتا ہے کہ شہباز شریف اسٹیبلیشمنٹ سمیت پارٹی کے اندر بھی بغیر کسی ٹکراو کے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ لیکن پارٹی کے معاملات اور بیانیہ کی اس جنگ میں ٹکراو پہلے بھی موجود تھا اور اب یہ ٹکراو اور زیادہ بڑھ گیا ہے۔ مسلم لیگ نون کو یہ کریڈیٹ دینا ہوگا کہ وہ ان تین برسوں میں بطور پارٹی متحد ہی رہی ہے او ران میں بڑی تقسیم پیدا نہیں ہو سکی۔لیکن اگر گومگو کی یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو پھر پارٹی کے اندر نہ صرف تقسیم یقینی ہوگی بلکہ پارٹی کمزور بھی ہوگی۔ شہباز شریف کو عام انتخابات سے قبل پارٹی کو اس بحران سے نکالنا ہے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ وہ خود سے آگے بڑھ کر اپنی قیادت کی عملی شکل پیش کریں۔ سیاست میں جب تک قیادت دو ٹوک موقف کے ساتھ سامنے نہیں آتی اور اپنے موقف پر بڑا سٹینڈ نہیں لیتی تو وہ خود بھی سیاسی مواقع کو ضائع کر دیتی ہے۔ یہ تاثر بھی بڑھ رہا ہے کہ نواز شریف بھارت، افغان، امریکی لابی سمیت ان قوتوں کے زیادہ قریب ہیں جو پاکستان مخالف ایجنڈے پر کھڑے ہیں۔
شہباز شریف کو چاہیے کہ وہ پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سمیت جنرل کونسل اور پارلیمانی پارٹی کے اجلاس طلب کرے اور موجودہ صورتحال میں پارٹی کی داخلی پالیسی اور حکمت عملی پر غور و فکر کر کے کچھ نیا تلاش کریں۔ کیونکہ اگر واقعی شہباز شریف مفاہمت کی سیاست کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو ان کے پاس بھی وقت بہت کم ہے۔ وہ پہلے ہی اپنا کافی وقت ضائع کرچکے ہیں اور اب کیونکہ سیاسی ماحول میں 2023 کا سیاسی ایجنڈا اور ماحول غالب ہو رہا ہے تو ایسے میں مسلم لیگ نون کو داخلی کشمکش اور تناو سے باہر نکلنا ہوگا۔شہباز شریف اس کام میں اپنی پارٹی کے سرگردہ افراد اور ارکان قومی، صوبائی اور سینٹ میں موجود ارکان کی مدد سے نواز شریف پر دباو بڑھا سکتے ہیں کہ وہ معاملات کا کنٹرول شہباز شریف کودیں۔ اگر شہباز شریف ایسا نہیں کرتے تو وہ خود بھی سیاسی طور پر تنہا ہوں گے اور پہلے ہی ان کے پارے میں یہ تاثر مضبوط بن رہا ہے کہ وہ بڑا فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ نواز شریف کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ البتہ شہباز شریف کی ایک سیاسی برتری یہ ہی ہے کہ پارٹی پر ان کا کنٹرول مریم نواز سے زیادہ ہے اور پارٹی کے لوگ جو طاقت ہیں ہیں وہ شہباز شریف کے حامی ہیں کیونکہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف کی مفاہمت کی سیاست ہی ان کے لیے اقتدار کی سیاست میں موجود مشکلات کو کم کر کے اقتدار کی سیاست کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker