اہم خبریںکھیل

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اہم غیر ملکی کھلاڑیوں کی پاکستان جانے سے معذرت

پی ایس ایل کی آخری چار ٹیموں میں جگہ بنانے والی ‘کوئٹہ گلیڈی ایٹرز’ کے اہم غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان جانے سے معذرت کرلی۔ پاکستان سپر لیگ کی ٹیم ‘کوئٹہ گلیڈی ایٹرز’ جس نے پہلے دونوں ایونٹ کے فائنل تک پہنچنے کا اعزاز حاصل کیا، تیسرے سال آخری چار ٹیموں کی دوڑ میں شامل ہونے کےبعد مشکل صورت حال کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
پہلے دو سیزن میں کوئٹہ کوالی فائر کی فاتح رہی ہے، لیکن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اس کے تمام اہم غیر ملکی کرکٹرز نے پاکستان جانے سے معذرت کر لی ہے۔
انگلینڈ کے 37 سالہ ٹیسٹ بیٹسمین کیون پیٹرسن کے ساتھ 27 سال کے جیسن رائے نے انکار کے ساتھ کوئٹہ کی مشکلات بڑھائی تھیں کہ 36 سالہ سابق آسڑیلوی کرکڑ شین واٹسن کا نام اس فہرست کا حصہ بننا کوئٹہ کے لیے اس لیے بھی بڑا دھچکا ہوگا،کیوں کہ واٹسن 9 میچوں میں 311 رنز اور 10 وکٹوں کے ساتھ سیزن تھری میں اس ٹیم کے سب سے بڑے پرفارمر ہیں۔
ٹورنامنٹ کے 26 ویں میچ میں لاہور قلندرز کے خلاف پانچ چھکوں کے ساتھ 22 گیندوں پر 42 رنز بنانے والے جنوبی افریقا کے 28 سالہ رویلی روسو کے بھی پاکستان جاکر کھیلنے کے امکانات کم ہیں۔
اسی طرح واٹسن کی طرح کوئٹہ کے آسڑیلوی بولر بین لافن بھی دستیاب نہیں جبکہ ایک اور آسڑیلوی ہیسٹنگ پہلے ہی اَن فٹ ہو کر ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔
بنگلہ دیش کے محمد اللہ جو سری لنکا میں ٹرائی سیریز کھیل رہے ہیں، 18 مارچ کو فارغ ہونے کے سبب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے پاکستان جانے والے کرکٹرز میں نمایاں کھلاڑی ہوں گے۔
یاد رہے کہ اس باربھی پی سی بی نے پاکستان جانے والے کھلاڑیوں کے لیے الگ سے 20 ہزار ڈالر رکھے تھے، تاہم اس کے باوجود انگلش اور آسڑیلوی کرکٹرز پاکستان جاکر کھیلنے سے گریز کر رہے ہیں۔
5 مارچ 2017ء کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں جب پی ایس ایل ٹو کا فائنل کھیلا گیا تھا،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اہم غیر ملکی کھلاڑیوں کی عدم موجودگی کے باعث پشاور زلمی سے 58 رنز سے ہار گئی تھی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker