قیصر عباس صابرکالملکھاری

کھل پاکستان سیاسی مشاعرہ بسلسلہ تعزیراتِ نیا پاکستان :صدائے عدل/قیصر عباس صابر

چشم تخیل میں پاکستان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو کھُل پاکستان مشاعرہ میں بھرپور شرکت پر پوری قوم مبارکباد پیش کرتی ہے یہ مشاعرہ بسلسلہ تعزیرات نیا پاکستان منعقد کیا جا رہا ۔ صاحب ذوق سیاستدانوں کو نئے پاکستان میں بے وزن شاعری کی اجازت دے کر منتظمین مشاعرہ نے عوام و خواص دونوں کے دل جیت لیے ۔ زاد راہ کے ذمہ داروں نے مستند شاعروں کا کلام پڑھ کر دل کی بات کہنے کی اجازت بھی دے رکھی تھی ۔
پاکستان کی تاریخ میں یہ واحد مشاعرہ تھا جس میں کوئی مہمان خصوصی نہ تھا اور شعراءکرام کو گول میز پر دکھا یا گیا تھا ۔ اسٹیج سیکریٹری و میزبان نے مشاعرہ کے آغاز میں درج ذیل شعر سنا کرحاضرین کو” خاموش پیغام “ بھی پہنچادیا ۔
تمام صوفی و سالک سبھی شیوخ وامام
امید لطف پہ ایوان کج کلاہ میں ہیں
معززین عدالت بھی حلف اٹھانے کو
مثال سائل مبرم نشتہ راہ میں ہیں
سوشرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو ، سو غیرت کو راہ میں رکھ دو
وزیراعظم عمران خان :
لباس دار نے منصب نیا دیا ہے مجھے
میں آدمی تھا مسیحا بنا دیا ہے مجھے
شاہ محمود قریشی :
ساقی مرے خلوص کی شدت کو دیکھنا
پھر آ گیا ہوں گردش دوراں کو ٹال کر
بلاول بھٹو زرداری :
”خیر وشر”میں فیصلے کا وقت ہے ‘ ترکش سنبھال
اپنے لشکر سے مثال ” حر” نکلنا ہے تجھے
ریشمی رشتوں سے محسن اتنا بے پروانہ ہو
لغزشوں کی بھیڑ میں آخر سنبھلنا ہے تجھے
نوازشریف :
وہ پھول توڑتے ہیں ، اور میں خار چنتا ہوں
بچھڑتے جاتے ہیں یوں مجھ سے ہمسفر میرے
خزاں میں ولولہ پرکشائی کس نے دی
بہار آئی تو باندھے ہیں کس نے پر میرے
شہباز شریف :
سب اہل شہرتو در دشمن پہ جھک گئے
محسن کھلاکہ شہر کی تقدیر ہم نہ تھے
جمائماخان :
کیا ہے عہد تو اُس کو نبھاتے رہنا
میں جب تلک بھی جیوں مجھ کو چاہتے رہنا
ترجمان مجلس عمل :
اپنے اپنے بے وفاؤں نے ہمیں یکجا کیا
ورنہ تو میرا نہیں تھا اور میں تیرا نہ تھا
مولانا فضل الرحمن :
پیچ رکھتے ہو بہت صاحبو دستار کے بیچ
ہم نے سر گرتے ہوئے دیکھے ہیں بازار کے بیچ
سراج الحق :
قاتل اس شہر کا جب بانٹ رہا تھا منصب
ایک درویش بھی دیکھا اسی دربار کے بیچ
فاروق ستار :
غرور جاں کو مرے یار بیچ دیتے ہیں
قباکی حرص میں دستار بیچ دیتے ہیں
ریحام خان :
مزاج کسی طرح نہ تھا جدا اس کا
جب اپنے طور یہی تھے تو کیا گلہ اس کا
عائشہ گلا لئی :
اکیلے پن کی اذیت کا اب گلہ کیسا
فراز خود ہی تو اپنو ں سے ہو گئے تھے الگ
جاوید ہاشمی :
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
چوہدری شجاعت حسین :
اے دوست کوئے یار میں اگر بھیڑ بھاڑ ہو
تو بھی پھر اس میں گھسیڑم گھساڑ ہو
مریم نواز :
گنونہ زخم نہ دل سے اذیتیں پوچھو
جو ہو سکے تو حریفوں کی نیتیں پوچھو
شیخ رشید :
ذرا سی دیر میں ہم کیسے کھولتے اس کو
تمام عمر لگی جھوٹ بولتے اس کو
صدر ممنون حسین :
ہم اٹھے تیری گلی سے یوں
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
سیاسی مشاعرہ جاری تھا کہ ہال میں عرفان صدیقی داخل ہوئے اور سٹیج پر آئے بغیر اپنے بھائی کا بھیجا ہوا کلام سنانا شروع کر دیا کیونکہ وہ اپنے منصب کی وجہ سے مشاعرہ پڑھنے سے قاصر تھے ۔
مرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
مرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سرکا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
مرا قلم نہیں اس دُز دنیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
اس سمجھ نہ آنے والے کلام کے بعد منتظیمن مشاعرہ نے مائیک بند کر دیا اور پروگرام آئندہ 5 سال کے لیے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ زاد راہ کے لفافے تقسیم کیے بغیر ہی ختم کر دیا گیا ۔
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker