قیصر عباس صابرکالملکھاری

چیف جسٹس صاحب ، از خود نوٹس جاری رکھیں : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

چیف جسٹس صاحب نہ جانے قوم سے کیوں خفاہیں کہ از خود نوٹس لئے ہفتوں گزر گئے ۔ امیدیں وابستہ کرکے مظلوم عوام آپ کی راہیں تکتی ہے، بہت سے ناجائز قبضے ، دو نمبر ادویات ، جعلی پولیس مقابلے ، رشوت کے عوض سرکاری نوکریاں ، کاغذی سکول، اغواء برائے تاوان ، فنڈز میں گھپلے ، سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن کا راج ، کم عمر بچیوں کا زبردستی نکاح، منافع بخش سیٹوں پر پوسٹنگ ، ہسپتالوں میں زائد میعاد ادویات سے مریضوں کا علاج، سرکاری اداروں کے اساتذہ کی اکیڈمیوں میں مصروفیت ، انسانی سمگلنگ ، دو نمبر پیسے کی بیرون ملک منتقلی ، سرکاری رقبوں کی ننانوے سالہ لیز پر قانونی لوٹ مار، ایک ادارے کی دوسرے میں مداخلت ، محکمہ نہر، ریلوے اور ڈاک کے کمرشل پلاٹوں پر غیر قانونی پلازے او رسب سے بڑھ کر مختلف محکموں کے افسروں کی دوسرے محکموں میں ڈیپوٹیشن ویسے ہی ہے جیسے پہلے تھی ، مزاج اور حالات بھی نہیں بدلے مگر آپ نے قوم کو ایسے ’’رہزنوں‘‘ کے رحم و کرم پر چھوڑ کر از خود نوٹس لینا کیوں چھوڑ دیا ہے؟
ابھی کالم یہاں تک پہنچا تھا کہ ٹی وی پر خبر دیکھی کہ آپ نے ڈی پی او پاکپتن کے شاہی حکم پر تبادلے پر از خود نوٹس لے لیا ہے ۔ شکریہ، آپ کی واپسی کا شکریہ۔آپ نے جس قدر تیزی اور مسلسل محنت سے نواز حکومت کی ’’کرپٹ ٹیم‘‘ کو منزل مقصود تک پہنچایا قوم آپ کو مسیحا مان چکی ہے مگر یہ مسیحائی محدود مدت اور مخصوص لوگوں کیلئے نہیں بلکہ مسائل کے مکمل حل تک ہونی چاہیے۔ آپ کو رحیم یار خان کے نواح میں درجن بھر ظالموں کے ہاتھوں ایک نوجوان کو الٹا لٹکا کر ہڈیاں توڑنے اور پھر ایس ایچ او کے حوالے کرکے حوالات بند کرنے پر بھی از خود نوٹس لینا چاہیے ۔ چیف صاحب آپ کو یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے پاس طلبہ و طالبات کیلئے صوابدیدی نمبروں اور پوزیشنوں کے اختیارات پر بھی از خود نوٹس لینا چاہیے کہ پروفیسر حضرات نمبر دینے کے لئے طالبات کو کس قسم کی فرمائشوں اور آزمائشوں سے گزارتے ہیں ۔ زکریا یونیورسٹی ملتان میں طالبہ کے ساتھ پروفیسر کی حرام خوری اور پھر جیل یاترا کی داستان الم بھی تو آپ تک پہنچی ہوگی ۔ اسلامیہ یونیورسٹی میں پروفیسر کی ’’گڈ بک‘‘ میں آنے والی بچی اعلیٰ نمبر لیتے ہی اب اپنے استاد کی دوسری بیوی ہے۔ جناب چیف صاحب ! آپ کے از خود نوٹس قوم کا آخری سہارا تھے حکومت کے بدلتے ہی آپ نے ہسپتالوں کے دورے بند کردیے ہیں ۔ ابھی کل وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دورے کے دوران ان کا پروٹوکول ایک مریض بچی کی جان لے گیا۔ آپ قوم کا آخری سہارا ہیں ۔ آپ کو بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ہاؤس جاب جونئیر ڈاکٹرز کی بااختیار ڈیوٹی پر بھی نوٹس لینا چاہیے کہ عین اسی وقت سینئر ڈاکٹرز اپنی کمرشل علاج گاہوں میں بااخلاق او رباادب ہوکر فرائض انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس صاحب ! آپ دیکھیں کہ ٹرانسپورٹر ز کس قدر جنگل کے بادشاہ ہیں کہ ملتان سے سرگودھا تک صرف شالیمار بس کمپنی کی اجارہ داری ہے کہ گزشتہ پچیس سالوں سے کوئی دوسری کمپنی روڈ پر اپنی بس نہیں چلاسکی۔ اسی طرح ملتان میانوالی روڈ پربھی ایک کمپنی نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں ۔ محکمہ ریلوے کو ناکام کرانے میں انہی بس کمپنیوں کا ہاتھ ہے کہ اگر ریلوے بروقت اور سستا سفر فراہم کرے تو کون ان بسوں کو مہنگے کرایے ادا کرے؟آپ کے حکم کے بعد بھی میڈیکل کالجز طے شدہ فیسوں سے زیادہ وصول کررہے ہیں ۔ پنجاب کی ایک صوبائی وزیر تو مریض سے مشورہ کی فیس پانچ ہزار لیتی تھی اور موصوفہ ہی گائنی کے مہنگے علاج کی بانی ہیں۔ پھر علیم خان کو وہی صوبائی وزارت تحفہ میں دی گئی ہے جس کا کام رہائشی کالونیوں کی تعمیر و فروخت ہے ۔ کون نہیں جانتاکہ علیم خان نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لئے کتنے ناجائز قبضے کیے اور پانچ پانچ مرلے کی فائلیں اٹھا کر مدعی عدالتوں کے دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔اب وزارت ملنے کے بعد کون ان سے پنگا لے گا؟ لہذا پانچ سال بعد علیم خان ناقابل شکست ’’ملک ریاض‘‘ بن کر ابھر چکا ہوگا۔ اپنے اپنے کاروبار کے تحفظ کے لئے وزارتوں کی تقسیم پر بھی آپ کو نوٹس لینا چاہیے کہ آپ قوم کے بے لوث مسیحا ہیں۔
آپ کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر ہیلی کاپٹر کاسفر واقعی پچپن روپے فی کلومیٹر میں پڑتا ہے تو یہ سروس دور دراز کے مریضوں کو شہری ہسپتالوں میں منتقل کرنے کیلئے فراہم کروانی چاہیے کہ لوگ راستے میں ہی تڑپ تڑپ کر جان دے دیتے ہیں اور اگر ہیلی کاپٹر کا سفر مہنگا ہے تو وزیر اطلاعات کو آن دی ریکارڈ جھوٹ بولنے پر صادق و امین کی فہرست سے نکال باہر کرنا چاہیے۔ چیف صاحب آپ آخری امید ہیں اور امیدیں ہی مایوسی کا نعم البدل ہوا کرتی ہیں ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker