Uncategorized

وادی دو میل ، دریائے کنہار اور دریائے نیلم کا ملاپ : صدائے عدل/ قیصر عباس صابر

کشمیر کی وادی نیلم میں دریائے کشن گنگا کے بائیں کنارے پر بنی سڑک ہمیں دو سڈگاﺅ ں سے نکال کر جانے کن کن مشکل راستوں سے نکال کر ہمیں دو میل سے گزار رہی تھی۔ جہاں پر دو دریا باہم بغل گیر ہوتے تھے بلکہ دریائے کشن گنگا جیسا نومسلم دریا جسے نیلم کا نام دے کر ہم بہت مطمئن ہوچکے تھے اور ثواب کے منتظر بھی تھے ، اس کے پہلو میں دریائے کنہار بہت آرام سے گھس رہا تھا ، وہی دریائے کنہار جو ناران سے بابو سرٹاپ کی طر ف جاتے ہوئے بڑے دریائے کنہار سے جدا ہوتا تھا اور نہ جانے کن کن وادیوں سے گھومتا ہوا ، طواف کرتا ہوا دریائے کشن گنگا کے پاک پانی کو اشنان دیتا تھا۔
دو میل کی وادی اس سے بہت آگے تھی ، شاردہ کے بے رونق اور خشک مزاج شہر سے ہمیں کچھ خاص دلچسپی نہ تھی۔ فوزیہ کے ذہن میں شونٹر ویلی کے جو خواب تھے وہ اسے تھکنے نہ دیتے تھے ، بیزار نہ کرتے تھے ۔ عون ، حجاب کشمیری موسیقی میں مگن اپنی دھن میں رہتے تھے ، وہ بھی میرے جیسے تھے۔
شاردہ جہاں راجہ اشوک یا اس سے بھی قبل کے زمانے کے بدھ بھکشوﺅں کی عظیم عبادت گاہ ہوا کرتی تھی ، چالیس سے پچاس من وزنی پتھروں سے تیار کی گئی عبادت گاہ تو اب بھی موجود تھی مگر ہمیں فطرت سے زیادہ بھلا اک متروک شدہ عبادت گاہ میں کیا دلچسپی ہوسکتی تھی؟ وہ زمانے تاریخ نے بھی مدھم کرڈالے تھے جب بدھ مذہب کی تعلیم اور منطق و فلسفہ پڑھایا جاتا تھا بالکل سامنے نالہ سرگن دریائے کشن گنگا میں اپنی موت آپ مرتا دکھائی دیتا تھا، خو دکو غرق کرتا تھا ۔ ہم ابھی تھکے نہ تھے اور ایک حوصلہ دامن گیر تھا کہ ہماری منزل ابھی دور تھی ۔
کیل شہر شاردہ سے 19کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جہاں کالج، سکول اور ہوٹل سب کچھ تھا مگر بے چینی بھی تھی کہ یہی وہ علاقہ تھا جو بھارتی دراندازی اور درندگی سے زیادہ متاثر ہوتا تھا وہ جب چاہتے تھے گولے داغتے تھے ۔ کیل کے شہری کئی کئی دن گھروں سے دور ، پہاڑوں کی اوٹ میں چھپے زندگی کے دن گنتے تھے ۔ گولہ باری کے لئے خاص حالات و واقعات ضروری نہیں تھے وہ جب چاہتے تھے اس سبزوادی کو سرخ کردیتے تھے۔کیل کا علاقہ برف باری کے دنوں میں سب سے زیادہ چاندی پہنتا تھا،اوڑھتا تھا۔ یہ علاقہ صرف چند ماہ کے لئے سیاحوں سے آباد ہوتا تھا اس لئے دکاندا ر اپنا سال بھر کا منافع انہی چند ماہ میں کھرا کرتے تھے اس لئے بہت زیادہ مہنگائی تھی۔
کیل شہر کے کالج کا میدان ہمارے دائیں جانب بہت گہرائی میں تھا اور بہت ہی اونچائی میں اڑنگ کیل تھا، جہاں ایک چیئر لفٹ کے ذریعے جایا جاسکتا تھایا پھر پیدل چڑھائی تھی ۔ ہمارے میزبان غلام مرتضیٰ لائن میں کھڑے ہو کر چیئر لفٹ کی ٹکٹ خریدنے کا مشورہ دے رہے تھے مگر ہم ایک اڑنگ کیل کےلئے ، ایک چیئرلفٹ کےلئے وادیء شونٹر کو فراموش نہ کر سکتے تھے۔ غلام مرتضیٰ کو میں نے سمجھایا کہ ہم مری، پتر یاٹہ یا پھر ایوبیہ اسی لئے نہیں جاتے کہ وہاں وہ سب کچھ ہوتا ہے جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں مگر ہم نہیں، ہم دور دراز کی مشکل وادیوں تک جانا چاہتے ہیں چاہے اس کیلئے جیپ کے ہچکولے ہماری پسلیاں توڑ ڈالیں، چاہے ہمارے بدن کی چولیں ہل جائیں۔
جیپ جو ہمیں دوسڈ سے اڑنگ کیل کی اس ٹکٹ لائن تک لاتی تھی وہ ودای شونٹر تک نہ جاسکتی تھی اس لئے پھر یہاں نئی جیپ کی تلاش اور ڈرائیور سے سودا بازی شروع ہوئی۔ایک مہنگے مقام پر کھڑے ہوکر ہم سستی جیپ تلاش کرتے تھے اور کیل کی اس وادی میں جہاں اوپر اڑنگ کیل کا سبزہ زار تھا اس کے پار دشمن فوج کی چوکیاں تھیں اور وہیں پر وہ توپیں نصب تھیں جو اس وادی کے رنگوں میں لہو بھرتی تھیں۔ اس وادی کے پرندے ، تتلیاں اور نغمے سب زخمی ہوتے تھے تو یہاں کے باسی غاروں میں پناہ تلاش کرتے تھے ۔
کیل کے شمال مغرب کی جانب دریائے نیلم میں شونٹر نالہ ایک طغیانی سے شامل ہوتا ہے تو عین اسی جگہ نیلگوں پانی کی جھیل ہے جسے ”کشن گنگا“ جھیل کہا جاتا ہے۔
ہمیں معلوم تھا کہ اڑنگ کیل کی بلندیوں پر آپ چھوٹے دیوسائی پر خود کو محسوس کرتے ہیں اور ہم کیا کرتے کہ دیو سائی کے سب چہرے ہمارے سامنے کھل چکے تھے، چھوٹا پانی ، بڑا پانی اور شیو سر جھیل کے سب رنگ ہماری یادداشت کے طاقچے میں محفوظ رکھے تھے اور ہم اصل دیو سائی کی یادیں صرف اڑنگ کیل کے سبب کیسے دھندلا سکتے تھے، کیونکہ اب شونٹر وادی کے سامنے سب وادیوں ، سارے جھرنے اور تمام جھیلیں ماند تھیں۔
کیل اور اڑنگ کیل تو کیا، ہم نوری ٹاپ کے ” سرگن جھرنے“ خمار آلود گھنے جنگل اور تیرتے سیاہ بادل بھی نظر انداز کرسکتے تھے ۔ کشمیر کی اس وادی کے سب موسم دلکش تھے اور پھر اپر دومیل کے گاﺅں چٹہ کھٹہ کے پہلو میں شفاف جھیل بھی ہمارے قدم روک نہیں سکتی تھی۔
جیپ کیل سے دو میل تک ہر وہ حربہ کھیل چکی تھی جو ہمیں واپس بھگانے کے لئے کافی تھا، جب جیپ تیز پانی سے گزرتی تھی اور پھر بے نشان راستوں پر چڑھائی چڑھتی تھی تو ہم سمجھتے تھے کہ ہم ان دیکھے جہانوں کی طرف جا رہے تھے کہ ہمارے نیچے کوئی راستہ نہ تھا، صرف ڈرائیور کی چھٹی حس تھی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے غلام مرتضیٰ کی اجازت سے آگے بڑھتی جارہی تھی ۔ ہچکولوں نے بچوں کی ہڈیوں میں ایک خوف اتار دیا تھا ، اس سمے دن ڈھلنے کو تھا اور ابھی شونٹر ویلی کا کوئی نشان نہ تھا صرف ایک سفر تھا جو لاحاصل منزل کی طرف جاری تھا۔
یہ ساری وادی ، سب جھیلیں اور سبزہ زار دشمن ملک کے نشانے پر تھے کہ وہاں جو ملا خوف زدہ ہی ملا، صرف علاقائی جبر کے تسلط کے لئے وہ اس جنت جیسے علاقے کو جہنم بناتے تھے، بے گناہ محنت کش بچے بھی ان کا اکثر نشانہ بنتے تھے۔
بارش ہوسکتی ہے ؟بمباری ہوسکتی ہے؟ رات ہوگئی تو سرد یلی ہواﺅں کا سامنا مشکل ہوگا؟
میرا جواب صرف ایک تھا کہ جو بھی ہو، یہاں تک آگئے ہیں تو وادی شونٹر دیکھے بغیر نہیں جاسکتے۔ہم اس وقت وادی دو میل کے قدرتی حسن کے حصار میں تھے ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker