قیصر عباس صابرکالملکھاری

چیف جسٹس صاحب ، اک نظر ماتحت عدلیہ کی طرف بھی : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

”دیامر بھاشا ڈیم بنانے کی بات کی تو جنت نظیر علاقے دہشتگردی کی لپیٹ میں آگئے کون ہے جو پاکستان کی ترقی نہیں چاہتا؟“
” مجھے افسو س ہے کہ میں اپنے ادارے میں تبدیلی نہیں لاسکا۔ “
”جو کچھ ملتان کے ہسپتالوں میں دیکھ کر آرہا ہوں میراسر سن ہوچکا ہے۔ “
جناب چیف جسٹس صاحب آپ کی محنت اور لگن کو سلام ، ہفتہ وار دو چھٹیاں انسانی حقوق کے لئے وقف کرنا اور سوئے ہوئے ضمیروں کو جگانا بھی آپ کا بڑا کام ہے ۔ستر سال بعد بے بس عورت کو مکان کا قبضہ دلا کر آپ انفرادی دعا کے حق دار بھی ٹھہرے مگر اجتماعی دعائیں جو لاکھوں میں ہیں وہ بھی آپ کی منتظر ہیں کہ تعلق ان دعاﺅں کا آپ کے براہ راست ماتحت ادارے سے ہے۔
علاقہ مجسٹریٹ /سول جج سے لیکر عدالت عالیہ کے بااختیار افسران تک ان دعاﺅں کے راستے میں رکاوٹ ہیں جو لاکھوں دلوں سے نکل سکتی ہیں آپ بہتر جانتے ہیں کہ اپنے شوہر سے علیحدگی مانگنے والی لڑکی فیصلہ ہونے تک بوڑھی ہوچکی ہوتی ہے۔ کیا انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی طرح فیصلے کرکے کتنے گھرانے آباد نہیں کئے جاسکتے؟ایک ایک ماہ کی پیشی اور ہر پیشی کے لئے گھنٹوں انتظار اور پھر پیشی ، یہ معمول بن چکا ہے ماتحت عدلیہ کا ۔اسی لئے لوگ عدالتوں کی بجائے جرگوں اور پنچایتوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ نائب کورٹ ، سٹینو اورریڈر کے کردار سے آپ بھی واقف ہیں۔ عدالت کے معزز فیصلے کے بعد بھی بخشیش دیے بغیر مصدقہ نقل کا حصول مشکل ہے کیونکہ سٹینو کی مرضی ہوگی تو فیصلہ ٹائپ ہوگا ۔ بعض اوقات تو معزز جج بھی اس منہ زور عدالتی عملے کے سامنے بے بس نظرآتے ہیں۔ اس سارے عمل کے دوران اگر سائل پھٹ پڑے تو توہین عدالت کی کچے دھاگے سے لٹکتی تلوار اس کی باقی زندگی کے لئے کافی ہے۔
آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ پیشی لمبی لینی ہے یا چھوٹی ، اس کا انحصار بھی ریڈر کے مزاج پر ہوتا ہے۔ مزاج معتدل رکھنے کے لئے سائل کا سخی اور فراخ دل ہونا لازمی ہوتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے مسائل حل کرکے آپ لاکھوں دعاﺅں کے مستحق ہوسکتے ہیں اور دکھی دل کی دعائیں تو کم کم ہی رد ہوتی ہے۔
جناب چیف جسٹس صاحب ہائی کورٹس کے جج صاحبان ایماندار بھی ہیں اور محنت کش بھی مگر جج صاحبان تک جو کاز لسٹ آتی ہے وہ ان باغبانوں کے ہاتھوں سے گزر کر آتی ہے جو برق و شرر سے ملے ہوئے ہیں ۔ ارجنٹ کیسز ہر جج صاحب کے دوگھنٹے لے جاتے ہیں، ضمانتوں کی بڑی تعداد ، ڈویژنل بنچ میں کیسوں کی سماعت اور پھر پرانے کیسوں کی باری آتی ہے تب تک عدالت کا وقت ختم ہوچکا ہوتا ہے اور یا جج صاحب طویل کیسز کی سماعت کے بعد تھک چکے ہوتے ہیں۔ یہ روز کا معمول ہے کہ آدھی لسٹ سماعت کرنے کے بعد بقیہ کیس لیفٹ اوور کردیے جاتے ہیں۔ دور دراز سے آئے سائل صبح آٹھ بجے سے عدالت کے برآمدے میں کھڑ ے اپنی پکار کے منتظر جب یہ سنتے ہیں کہ کیس لیفٹ اوور ہوگیا ہے تو انصاف کے دروازنے پر کھڑے وہ بے انصافی کا شکار ہوجاتے ہیں۔جیلوں میں فیصلوں کے منتظر ہزاروں قیدی اسی لیفٹ اوور کا شکار ہیں ۔ اگر لسٹ بناتے وقت برانچ کا عملہ اور بااختیار افسر کیسز کی تعداد کم رکھیں تو کوئی سائل مایوس نہ لوٹے کہ اب تو ایسی کوئی زنجیر بھی نہیں جس تک ہرسائل کے ہاتھ پہنچ سکیں۔ اہم کیسوں کی اپیلوں کی سماعت کو سب سے کم اہمیت اور عدالت کا آخری وقت آخرکیوں دیا جاتا ہے ؟
ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان اگراپنے اختیار سماعت میں رہتے ہوئے بروقت فیصلے کریں تو ہائی کورٹس میں کیسز کی تعداد کم سے کم ہو مگر افسوس اس بات کا ہے کہ جو ضمانت سیشن جج کو لینی چاہیے وہ سپریم کورٹ تک پہنچ جاتی ہے جس سے سائل کا پیسہ اور عدالتوں کا وقت ضائع ہوتا ہے ۔
جناب چیف جسٹس صاحب آپ جب کسی شہر کا دورہ کرتے ہیں تو انصاف سے محروم لوگ آپ کی گاڑی کے آگے لیٹے دکھائی دیتے ہیں ۔ان کا یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ آپ کے زیر سایہ چلنے والے عدالتی نظام میں وہ خرابیاں ہیںجنہیں دور کرکے آپ فرداً فرداً دعاﺅں کی بجائے اجتماعی دعائیں لے سکتے ہیں کہ عدالتوں سے انصاف کا حصول سب سے بڑا بنیاد ی انسانی حق ہے اور آپ اپنی زندگی انسانی حقوق کے لئے وقف کرچکے ہیں۔ اس نظام کا حصہ ہونے کی وجہ سے میں خود کو بھی اس خرابی کا ذمہ دار سمجھتا ہوں ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker