عمران عثمانیکالملکھاری

باجماعت نماز پر بضد مزاحمتی مولوی کی داستان : صدائے عدل/قیصرعباس صابر

میں محرومی میں پلا بڑھا ایک مولوی ہوں اور مزاحمت میری پہچان ہے۔اس لئے کورونا اور اس وبا کے نتیجے میں نماز کے اجتماعات کو ترک کرنے کے ممکنہ حکومتی فیصلے کے خلاف علم بغاوت بلند کرتا ہوں کیونکہ میرے شوق،تفریح،کھیل کود اور اعلانیہ عشق معاشقے سب میرے بچپن میں ہی مجھ سے چھن گئے تھے اس لئے مجھے بغیر سوچے سمجھے بغاوت کرنا اچھا لگتا ہے۔میں نے مزاحمتی رویہ اپنے دادا استاد سے وراثت میں لیا تھا جب پاکستان بننے کے فیصلے کے خلاف جمعہ کے خطبات میں وہ قوم کو اکسایا کرتے تھے کہ ایک انگریز قسم کے کلین شیو مسٹر جناح کو بھلا کیونکر ہم پیشوا تسلیم کر سکتے ہیں اور وہ کافر دیس کا پڑھا لکھا کیسے ہمارا لیڈر ہوسکتا ہے؟
اس سے پہلے ہمارے روحانی اجداد ہر نئی دریافت کی مخالفت کر چکے ہیں۔جب بلب بنایا گیا اور قدرت کے نظام میں خلل ڈالتے ہوئے رات کے فطری اندھیرے کو اجالے میں تبدیل کیاگیا تو اس سائنس دان کا کیا حشر ہوا؟ پھر جب چاند اور سیاروں پر کمند ڈالنے کی بات ہوئی تو تب بھی ہم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
گویا ہم روز اوّل سے کافرانہ اقدامات کے خلاف مزاحمت کی آواز بنے رہے اور ہم نے اپنے موقف کی تائید کےلئے جانیں لیں بھی اور دیں بھی۔ریاضی،سائنس،الجبرا،شماریات،طب اور ادب کے تخلیق کاروں کو ہم نے کبھی کھل کر نہ کھیلنے دیا۔کسی کو سولی چڑھایا گیا تو کسی کی آنکھیں نوچ لی گئیں۔
یہ تو ابھی کل کی بات ہے کہ لاؤڈ سپیکر کو ہم نے حرام قرار دیا اور بلند آواز میں نشر ہونے والی موسیقی جہنم کا ایندھن پیدا کرنے لگی مگر جب وہ اذانوں ،خطبوں،مجالس،نعت خوانیوں اور چندہ جمع کرنے کے کام آیا تو ہم نے اسے حلال تسلیم کیا۔تصویر کو بھی تب جائز مانا گیا جب علمائے کرام اور مفتیان کی تصویریں اخبارات اور اشتہارات پر شائع ہوئیں اور ٹی وی پر سپیشل چینل چلنے لگے حرام کے ساتھ ساتھ حلال استعمال انہیں قابل قبول بناتا گیا۔
جب دم درود کے کاروبار کو نقصان پہنچانے کے لئے گولی،ٹیکہ،سیرپ اور کیپسول مارکیٹ میں لائے گئے تو بھی ہم نے مزاحمت کی اور اسے کفار کی سازش قرار دیا مگر جب یہی ادویات حلال وصال اور افزائش نسل کے لئے مفید ثابت ہوئیں تو پھر بوقت مجبوری اسے قبول کرلیاگیا۔الٹراساؤنڈ اور ایکسرے جیسے فحاشی پھیلانے والے ہتھیار تو آج بھی ہمارے معاشرے کے خلاف ایک یہودی سازش ہیں۔جسم کے اندر ہونے والی توڑ پھوڑ کو یا عورت کے بطن میں پلنے والے بچے کوجب اللہ نے راز رکھا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اسے فاش کرنے والے؟
اب ایک وائرس کے نام پر جب بیت اللہ اور مسجد نبوی کو بند کردیا گیا تو بہت برا ہوا ہے اگر میرا بس چلے تو ان پاک دروازوں پر لگے تالوں کو توڑ کر اندر چلا جاؤں اور گڑ گڑا کر معافی مانگوں۔ پوری دنیا کا خالق ایک کورونا جیسے وائرس کو کیسے اپنے گھر میں گھسنے دےگا؟
میں چونکہ مزاحمتی مولوی ہوں اس لئے جامعتہ الا زہر کے کسی فتوے کو نہیں مانتا جو ہمیں باجماعت جمعہ نماز کی ادائیگی سے روکے،میں ہر سازش کو ناکام بنا دوں گا اور اگر نماز ادا کرتے ہوئے کورونا وائرس پھیلتا ہے اور موت آتی ہے تو وہ موت میرے نزدیک شہادت کی موت ہوگی۔ تمام فقہ کے مولوی اس بات پر میرے ساتھ متفق ہیں کہ ہم کسی مذہبی اجتماع کو منسوخ نہیں ہونے دینگے۔
کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں ریاست کے خلاف مزاحمت کرکے اپنے پیشے کو نفرت کو نشانہ بنا رہا ہوں اور لوگ میرے کئے کی سزا میرے پیشہ کے لوگوں کو دینگے مگر کیا کروں کسی کو ہنستے مسکراتے دیکھ کر مجھے اپنی محرومی میں پلنا بڑھنا یاد آ جاتا ہےاور مجھے یہ کھلکھلاتے چہرے اچھے نہیں لگتے۔
میں کورونا کو وبا نہیں ایک سازش مانتا ہوں جو مسلمانوں کو صرف عبادت سے روکنے کےلئے کفار نے ہماری رگ رگ میں اتاری ہے ورنہ مقامات مقدسہ کو چوم کر کتنے اندھوں کو بینائی ملی اور کتنے اپاہج چلنے پھرنے لگے ۔کیا کورونا ان معجزات سے بھی بڑھ کر ہے؟میں کسی لاک ڈاؤن یا کرفیو کو نہیں مانتا۔کوئی ماسک اور سینیٹائزر مسلمان کے جذبہ ایمانی سے بڑھ کر نہیں ہوسکتا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker