قیصر عباس صابرکالملکھاری

علامہ طالب جوہری بھی رخصت ہوئے۔۔صدائے عدل/قیصرعباس صابر

علامہ طالب جوہری وہ عالم تھے جن پر انبیا کی وراثت نادم نہ تھی کہ وہ کبھی دربار کی زینت نہ بنے،کبھی دم توڑتی سرکار کا سہارا نہ ہوئے،کبھی کیمروں کے سامنے آنسووں کی نمائش نہ کی،وہ جانتے تھے کہ مرد کےلئے صبر اور ضبط کا حکم ہے اور یہی ایک عالم کی شان بھی،کبھی کسی صاحب مسند کے مرحوم اجداد کا جنازہ بھی نہ پڑھایا اور کہیں کسی صاحب دستار کے بیٹے کے نکاح کے گواہ بنے۔کبھی کسی مدرسے کے مہتمم یا سرپرست اعلی بھی نہ رہے۔کبھی کسی غاصب حکمران کی عصمت کی قسمیں بھی نہ کھائیں۔کبھی حکومت سے امداد لی اور نہ پختہ سڑک کےلئے فنڈز مانگے۔
دنیا میں پہچانے گئے مگر کراچی کے لوئر کلاس کے علاقے انچولی میں رہائش پذیر رہے کبھی کسی ہاوسنگ سوسائٹی میں منتقل نہ ہوئے،مرتے دم تک قرآن پاک کی تفسیر اور ناطق قرآن کے فضائل بیان کرتے رہے،آل محمد کے اعمال کو قرآن کی آیات سے ثابت کرتے رہے،کبھی کفر کے فتوے اور نفرت کے وارنٹ تقسیم نہ کئے۔جوش خطابت میں بھی ہوش کو دامن گیر رکھا،اگر کوئی ملنے بھی گیا تو لائیبریری میں ملاقات کی،گھر کے دروازے پر لینے اور رخصت کرنے گئے کہ کوئی دربان نہ تھا جو علم کے متلاشیوں کےلئے رکاوٹ بنتا۔
نثر لکھی،نظم کہی اور اشعار فضا ادب میں گھولے،غیر سیاسی زندگی کو رشوت کے طور پر ملنے والی عزت سے آلودہ نہ کیا۔
ان کا انداز بیاں دیکھئے
جسم نے اپنی عمر گزاری سندھ کے ریگستانوں میں
دل کم بخت بڑا ضدی تھا،آخر تک پنجاب رہا
بچھڑے تھے تو ساکت پلکیں سوکھے پیڑ کی شاخیں تھیں
اس سے بچھڑ کر دور چلے تو کوسوں تک سیلاب رہا
۔۔۔۔۔۔۔
جب کوئی وہم ہو تسلسل کا
عقل انسان اسے یقیں سمجھے
۔۔۔۔۔۔۔
اردو ادب پر اس قدر عبور تھا کہ نظم کی ہر شکل کو اظہار کا ذریعہ بنایا، غزل کو لطیف جذبات عطا کئے۔فلسفہ،ادب اور قرآن مجید پر گفتگو کرتے ہوئے وہ کبھی مولوی یا ذاکر نہ لگتے بلکہ پروفیسر لگتے کیونکہ ہم نے مولوی یا ذاکر کو ہمیشہ ایک گروہ کی خوشی کےلئے دوسرے گروہ کی دل آزاری کرتے ہوئے دیکھا اور سنا۔ایسے مورخ کہ تقابلی مطالعہ سے وہ صحیح اور غلط کو جدا جدا کر کے دکھا دیتے۔لغت کا بہتر استعمال انہیں لغوی اور معنوی مفاہیم تک پہنچا دیتا۔
اپنی نظم “جنگلوں کی نیم شب” میں ان کا اظہار قابل داد ہے کہ وہ موجودہ حالات کی عکاسی یوں کرتے ہیں:
خوف کی ٹہنی سے جکڑی
ایک کوئل بولتی ہے
جھاڑیوں میں کوئی ڈائن
اپنا جوڑا کھولتی ہے
اک بلائے نا گہانی
زرد شہپر تولتی ہے
غزل کے یہ اشعار پیام زیست بھی ہیں اور شاعری کا خوبصورت نمونہ بھی:
وہ جو اک سقراط جام زہر پی کر مرگیا
موت اس کی زیست کا سب سے بڑا اظہار تھی
اس کی فطرت کا کوئی رخ مجھ سے پوشیدہ نہ تھا
اک نئے اقرار کی خواہش پس اقرار تھی
ہم نے بارہا علامہ صاحب کو سامنے بیٹھ کر سنا۔یاد پڑتا ہے کہ ملتان میں ایک عشرہ توحید کے موضوع پر انہوں نے خطاب کیا تو اندازہ ہوا کہ موضوع پر جو باتیں اب سننے کو مل رہی ہیں پہلے ہمارا مقدر نہ ہوئیں،کسی کے دامن علم میں ایسے موتی کہاں تھے جو وہ ہم پر لٹاتا۔وہ ہمارے درمیان تھے تو اک سمندر موجزن تھا۔پچاس سالہ خطابت کے دوران ایک بار بھی مسلکی تضاد کو ہوا نہیں دی بلکہ اتحاد بین المسلمون کو اہمیت دی ۔قرآن مجید کی ایسی تفسیر کہ ہر اہل علم و ادب شوق سے سیراب ہوتا ہے اور ان کی تحقیق کو پسند بھی کرتا ہے۔علامہ صاحب عالم اسلام میں ایک روشن حوالہ تھے اور ایسا معتبر حوالہ کہ اوّل و آخر زبان و ادب اور قرآن و سنت کو اولیت حاصل رہی۔
ایسی شخصیت کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا بڑا سانحہ تو تسلیم کیا گیا مگر ان کے تحقیقی کام سے استفادہ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا جانا ضروری ہے-ایک ایسا خطیب جو ممبر آل محمد کا مقام جانتا ہو اور ممبر کا استمعال خوب نبھاتا ہو ان کا دنیا سے اٹھ جانا واقعی ایک بڑا خلا ہے۔اللہ پاک ان کے درجات بلند کرے۔آمین

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker