قیصر عباس صابرکالمگلگت بلتستانلکھاری

کتاب کی رشوت جہنمی نہیں بناتی : صدائے عدل/قیصرعباس صابر

پہاڑوں کی اپنی ہی عطا ہےاور الگ اصول ہیں کہ کبھی جھیل کرومبر تک پہنچنے کےلئے جان پر کھیلنا پڑتا ہے اور کبھی چلتے چلتے لولو سر جھیل قدموں میں بچھی ہوتی ہے۔ناران سے بابوسر تک ہوٹلوں کی بہتات نے اب ناران شہر کی اجارہ داری توڑ کر رکھ دی ہے،ایک کمی موبائل فون سگنل کی تھی اور اب وہ بھی نہیں رہی۔بٹّہ کنڈی کا علاقہ منی ناران بن چکا تھا اگر لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو ادھورے چاند کا پورا منظر پھر سے دیکھتے،وہی منظر جس میں وہ روبرو تھا اور کنہار کا کنارا تھا،وفا کا استعارہ تھا۔
ہم اپنے راستے میں پڑے لالہ زار،دودی پت اور بٹّہ کنڈی کو بلاوجہ تو نظرانداز نہیں کرتے جارہے تھے،قراقرم پر سندھ سائیں اور نانگا پربت کے پہلو میں آباد فیری میڈوز کو بھی تو بغیر چھوئے گزرجانا تھا کہ اب کی بار نئے جہان ہمارے منتظر تھے۔استور اور راما کے جنت کدے بھی ہمیں روک نہیں سکتے تھے تو پھر لولو سر جھیل کا نیلا پتھر بھلا کیسے روکتا؟ سر راہ پڑا ہوا ہیرا مگر ہم نے محنت نہیں کی تھی تو اس کا لطف کیوں لیتے،چلہ نہیں کاٹا تو وجدان کیسا؟لولو سر جھیل کے کنارے پر بنی تازہ دکانیں جھیل کے تقدس کو مجروح کر رہی تھیں مگر ہمیں کیا کہ ہم تو ان دیکھے جہانوں کی طرف گامزن تھے۔آیت زہرا نے کنول اور عبدالللہ کو دیکھ شور مچایا اور رکنا چاہا مگر “ہمیں جانے کی جلدی تھی”ہم گزرتے چلے گئے،لولو سر کوئی کم تر جھیل نہ تھی،طویل اور زندہ جھیل تھی جو صرف اس لیے عام تھی کہ وہ سب کےلئے میسر تھی۔
خلطی جھیل کی طرح یہ کسی بستی کو ڈبو کر نیلو نیل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی عطا آباد جھیل کی طرح کسی حادثے کی پیداوار تھی بس ایک شاندار اور لبرل جھیل تھی جو اپنے چاہنے والوں کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالتی تھی ،جو تاوان وصول بھی نہیں کرتی تھی بلکہ آرام سے میسر آجاتی تھی ۔شکر ہے کہ کشتی کے ٹھیکیدار ابھی یہاں نہیں آئے تھے ورنہ یہ بھی نیلام ہوچکی ہوتی،سیف الملوک کی طرح کوٹھا بن چکی ہوتی۔
ہم نے اس قدر طویل اور پرسکون جھیل نہیں دیکھی جو بابو سر ٹاپ کی طرف جانے والوں کو دس منٹ تک نیلگوں کئے رکھتی ہے۔آنکھوں کی تھکن اتارتی ہے اور بدلے میں کچھ نہیں مانگتی۔ہم بھی بس گزر گئے اور آگے سندھ سائیں کی طرف بڑھتے گئے۔بابو سر ٹاپ سے پہلے جلکھڈ کا جیپ سٹاپ آیا جہاں سے جیپ دودی پت سر جھیل کی طرف لے جاتی تھی اور وہاں منفی درجہ حرارت آپ کو حوصلہ ہی نہیں دیتا کہ جھیل کو دیکھا جائے۔گزشتہ سالوں کی کچھ یادیں دودی پت سر جھیل کی تصویر اور تصور کو تازہ دم کرتی تھیں،ذرا اس جھیل کے عقب میں ضلع کوہستان تھا جس کے پالتو کتوں نے خون کی ہولی کھیلی تھی اور شناخت کرنے کے بعد بچوں کے سامنے ان کے زمینی خداؤں کو قتل کیا تھا پھر نعرہ تکبیر کے نعرے بلند کرتے ہوئے کمین گاہوں کی طرف لوٹ گئے تھے۔بابوسر ٹاپ پر بنی مسجد اب بہت زیادہ رقبے تک پھیل چکی تھی،ابھی چند سال پہلے صرف ایک مرلہ زمین گھیری گئی تھی۔
بابوسر ٹاپ پر موجود پولیس اہلکاروں نے گلگت جانے کی وجہ پوچھی۔۔
گلگت پر تحقیقی کام”وبا کے دنوں میں سیاحت” بذات خود ایک اجازت نامہ تھا۔ہم نے اپنے تصنیفی ثبوت پیش کیے تو سرکاری سیلوٹ میں بابوسر کی اترائی اترنے کی اجازت دی گئی۔ایک کتاب کی رشوت اس سے الگ تھی،ایسی رشوت جو ہم دونوں فریقین کو جہنمی نہیں بناتی تھی۔ہم ہر برس کی طرح بہت آرام سے اترتے چلے گئے،بابوسر کی چڑھائی ختم ہوئی تو ایک آسان راستہ ،بہترین سٹرک کی شکل میں ہمارا منتظر تھا۔ہم بہت جلد چلاس موڑ پر دریائے اباسین تک پہنچنے والے تھے اور سندھ سائیں کی زیارت نصیب ہونے والی تھی۔
چلاس موڑ پر چیک پوسٹ بالکل بے ضرر ثابت ہوئی کہ اندراج تک نہ کیا گیا۔کوئی سوال و جواب بھی نہ ہوئے۔بس ذرا سا انتظار ڈوگر راشد اور کچھ بوتلیں پانی کی،کچھ پیکٹ بسکٹ کے۔پھر ہم قراقرم کے راہی ہوئے۔شاہرائے قراقرم ایک تاریخ جو چینی قوم کے مقدر بدلنے کا نصاب ثابت ہوئی ۔جدید دنیا سے چائینا کا پہلا رابطہ اسی سٹرک کے سبب ممکن ہوا۔1979 سے پہلے دنیا کی کوئی فلائٹ چین نہیں اترتی تھی ۔وہاں کے مسلمان عمرہ اور حج کی سعادت کےلئے نوکیلے پتھروں پر رینگتے ہوئے راولپنڈی آتے تھے اور پاکستانی ائرپورٹس سے ہوائی سفر کا آغاز کرتے تھے۔چین کے مسلمان قرآن کی زیارت کئے بغیر دنیا چھوڑ جاتے تھے۔پھر قراقرم نے سفر آسان کردئیے اور بیجنگ،کاشغر،اڑمچی،خنجراب،سوست،ہنزہ،نگر،گلگت،دیامر،چلاس،بشام ، مانسہرہ اور راولپنڈی کا واحد رابطہ شاہرائے قراقرم بن گئی۔ 1400 سے زائد مزدوروں اور انجینئر ز نے سڑک بناتے ہوئے جان دی تو ان کا خون معاشی انقلاب کا سنگ میل ثابت ہوا۔آج سی پیک نامی منصوبہ دراصل شاہرائے قراقرم کی ہی توسیع ہے۔ہم اس تاریخی سڑک پر رواں ہوئے جو رائے کوٹ پل تک ٹوٹ چکی تھی اور دریائے سندھ کنارے دھول اڑتی تھی۔عین گونر فارم کے بازار میں جہاں ہم عرفان الللہ سے ملا کرتے تھے،پھر رک گئے،پتہ چلا وہ فیری میڈوز جا چکے ہیں۔ہماری دائیں جانب بلند پہاڑوں پر نانگا پربت کے سامنے پریوں کی چراگاہ،فیری میڈوز تھی ،عون عباس اور کنول راشد کی شدید خواہش کے باوجود ہم وہاں نہ جا سکے کیونکہ ہمیں اب کے وادی غذر بلاتی تھی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker