قیصر عباس صابرکالملکھاری

شمالی آنچل اور غذر کی پریاں ۔۔صدائے عدل/قیصرعباس صابر

لاک ڈاؤن نے وادیوں کا نسوانیت سے بھرپور حسن بحال کردیا تھا مگر پھر یوں ہوا کہ اگست کے دوسرے ہفتے میں تباہ ہوتی جاتی سیاحت کی نیلم پری کو بچانے کےلئے پہاڑوں کے در کھول دئیے گئے اور دس اگست کو ہی سڑکیں کم پڑ گئیں ،پہاڑوں کی وسعت سکڑ گئی۔لوگ جوق در جوق امڈ آئے ۔پاکیزہ وادیوں کی سانسوں میں پٹرول اور ڈیزل کا دھواں شامل ہوگیا۔بچے کھچے گلیشئر بھی پگھلنے لگے۔انتظامیہ کو راستے بند کرنا پڑے۔صد شکر کہ مئے خانہ شمال تک تماش بین نہیں پہنچے کہ وہاں پہنچنا روح کے چلے کے برابر کام ہے۔ناران،کالام،شوگر ان اور کمراٹ وادی کو آلودہ کرنے والے بتورا گلیشئیرز اور نلتر تک پہنچ جاتے تو شائد وہ وادی دس بار لاک ڈاؤن کرنے کے باوجود بھی اپنی فطری رنگت میں واپس نہ آتی۔
ہم مگر فطرت کے ثنا خواں تھے اور زعفران جیسی گھاس کا پاؤں تلے کچلا جانا ہمیں تکلیف دیتا تھا،ایک تصویر کےلئے جھیل میں پتھر پھینک کر پانی کے سکوت کو بے خواب کرنا گناہ لگتا تھا،ایک ٹک ٹاک کےلئے وادی کی کلائی میں دھند کی نازک چوڑی کو توڑنا پوری فطرت کا قتل لگتا تھا اس لئے لاک ڈاؤن کے دوران برفیلی بلندیاں جو سکھ کا سانس لیتی تھیں وہ ہم سے سرگوشیوں میں گویا تھیں اور ہم بے زبان ہوچکے تھے۔
بڑی بڑی شاہراہیں جھیلوں اور آبشاروں کو نگل رہی تھیں کہ آئیندہ سالوں میں شائد بروغل اور حراموش کی با پردہ پریاں خودکشی کرلیں کہ گاڑیوں کے ہارن ان کےلئے صور اسرافیل ہونگے۔ہمسایہ ممالک نے اپنے کاروبار کی وسعت کےلئے ہمارے دیس کی مقدس وادیوں تک کو بے توقیر کرنا ہے،ہم جانتے ہیں۔راستے بن گئے تو ماں دھرتی کا سودہ کرنے والے لہلہاتے جنگل کاٹ کھائیں گے اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے بالکل ایسے جس طرح بریگیڈئیر اسلم نے شنگریلا بنانے کے بعد فیری میڈوز تک کے ٹریک آسان کردئیے تھے تو لکڑ چور نانگا پربت کو ننگا کرنے پر تلے تھے۔
جھیلوں کے لطیف وجود چوٹیوں پر چھپے ہی بھلے لگتے ہیں اگر آپ مشق کئے بغیر محبوبہ کے لمس سے آشنا ہوجائیں تو پھر کوئی بھی رقابت کا دعوی کرسکتا ہے۔آپ نے اپنے بچوں کے چہروں پر دائمی مسکراہٹ دیکھنی ہوتو وادئ غذر سے بہتر کوئی جگہ نہیں جہاں پر ہوائیں گد گدی کرتی ہیں اور دریائے غذر کی پھوار ابدی مسرت کا اشنان دیتی ہے۔اجنبی راستوں پر مہربان لمحے آپ کا دامن بھرتے چلے جاتے ہیں ۔گاہکوچ سے غذر کے دیہاتوں تک انسانی وجود ایسے تھے کہ مقابلہ حسن کے بے ہودہ پیمانے بھی مات کھاتے تھے۔خوبصورت اور مشرقی حیا سے بھرپور چہرے جن کو نگاہ بھر کر دیکھنا بھی احساس گناہ سے توڑتا تھا اور ملبوس بھی بہت مہنگا،پہلی بار یہ شہادت ملتی تھی کہ آپ مہنگا لباس اپنے دل کےلئے ،صرف اپنی خوشی کےلئے پہن سکتے ہیں،یا پھر یہ بھی جھوٹی شہادت تھی کہ ان نسوانی چہروں پر نگاہیں ڈالنے والی آنکھیں کہیں دور کسی ملک میں یا کسی اپنے شہر میں چھٹی کی منتظر ہیں۔ہم میدانی علاقوں کے راجہ گدھ کیا جانتے کہ پاکیزہ جذبوں کی تجارت صرف آلودہ شہروں میں کی جاتی ہے۔
غذر روڈ پر ،پگڈنڈیوں سے پرے،ندیوں کی جھاگ میں،خوبانی کے باغوں کے آس پاس جتنے بھی مسکن تھے وہ پرستان کے غیر رجسٹرڈ محلے تھے ہم مگر اپنے سیاحتی اصولوں میں بندھے نابینا تھے کہ وادیوں کے عشق میں وادی والوں کو نظرانداز کئے جاتے تھے ورنہ دھمال ڈالنے کےلئے غذر کافی تھا،وہی دھمال جس میں پاؤں پتھر پہ بھی پڑجائے تو دھول اٹھتی ہے۔شمال کے آنچل میں پری چہرے تھے جو ہمارے ہم سفر تھے۔گوپس سے ایک بارات نکلی اور ہماری گاڑیاں قطار میں شامل ہوگئیں پھر ویڈیو بنانے والا مسلسل دس کلومیٹر تک ہمیں فلماتا رہا اور ہم وہاں سے سیدھے پھنڈر کی طرف نکل گئے جہاں پر بارات نے چھوٹے چھوٹے شامیانوں
میں اتر کر دلہن کے انتظار کو محدود کیا تھا۔باراتیوں نے باقاعدہ راشد ڈوگر اور کامران کو طعام کی دعوت دی تھی ۔غذر روڈ پر، گوپس کی بارات اور ہم اتفاقی باراتی جدا ہوگئے،دن اپنا پہلا پہر وقت کے حوالے کررہا تھا جب ہم نے حسن فطرت کو پہلا سجدہ کیا۔ہماری جبینوں پر دریائے غذر کی نمی تھی اور دل شکرانے کی تسبیح کرتے تھے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker