پنجابلکھاری

ہمارا رویہ اور قومی و علاقائی زبانیں ۔۔ قیصرشہزاد ساقی

یا شیخ زرد کتا کیا ہے؟فرمایا زرد کتا تیرا نفس ہے۔میں نے پوچھا یا شیخ نفس کیا ہے ؟فرمایا نفس طمع دنیا ہے۔میں نے سوال کیا یا شیخ طمع دنیا کیا ہے؟فرمایاطمع دنیا پستی ہے ۔میں نے استفسار کیا پستی کیا ہے ؟فرمایا پستی علم کا فقدان ہے ۔میں ملتجی ہوا یا شیخ علم کا فقدان کیا ہے ؟فرمایا دانشمندوں کی بہتات ۔میں نے کہا یا شیخ تفسیر کی جائے آپ نے تفسیر بصورت حکایت فرمائی کہ نقل کرتا ہوں :
”پرانے زمانے میں ایک بادشاہ بہت سخی مشہورتھا ایک روز اس کے دربار میں ایک شخص کہ دانشمند جانا جاتا تھا حاضر ہو کر عرض پرداز ہوا کہ جہاں پناہ دانشمندوں کی بھی قدر چاہیے۔بادشاہ نے اسے خلعت اور ساٹھ اشرفیاں دے کر بصد عزت رخصت کیااس خبر نے اشتہار پایا۔ایک دوسرے شخص نے کہ وہ بھی اپنے آپ کودانشمند جانتا تھادربار کا رخ کیا اور بامراد پھرا پھر تیسرا شخص کہ اپنے آپ کو اہل دانش کے زمرہ میں شمار کرتا تھا دربار کی طرف چلا اور خلعت لے کے واپس آیا۔پھر تو ایک تانتا بندھ گیا جو اپنے آپ کو دانشمند گردانتے تھے جوق در جوق دربار میں پہنچتے تھے اور انعام لے کر واپس آتے تھے ۔اس بادشاہ کا وزیر بہت عاقل تھا دانشمندوں کی ریل پیل دیکھ کر اس نے ایک روز سر دربار ٹھنڈا سانس بھرا۔بادشاہ نے اس پر نظر کی اور پوچھا کہ تو نے ٹھنڈا سانس کس باعث بھرا؟اس نے ہاتھ جوڑ کے عرض کی ۔جہاں پناہ جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں ۔فرمایا اماں ملی تو تب اس نے عرض کیا خداوند نعمت تیری سلطنت دانشمندوں سے خالی ہے۔بادشاہ نے کہا کمال تعجب ہے تو روزانہ دانشمندوں کو یہاں آتے اور انعام پاتے دیکھتا ہے اور پھر بھی ایسا کہتا ہے۔عاقل وزیر تب یوں گویا ہوا کہ آقائے ولی نعمت گدھوں اور دانشمندوں کی ایک مثال ہے کہ جہاں سب گدھے ہو جائیں وہاں کوئی گدھا نہیں ہوتا اور جہاں سب دانشمند ہو جائیں وہاں کوئی دانشمند نہیں رہتا۔“(انتظار حسین)
ہمارے ہاں دانشمندوں کی بہتات ہو گئی ہے جو ہمارے ارد گرد برساتی کھمبیوں کی طرح اگے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جب ہم دانشمندی اور روشن خیالی کے لیے انگریزی شناسی کو سند سمجھیں گے اور جو جتنی روانی اور تسلسل کے ساتھ انگریزی بول سکتا ہوگاوہ اتنا ہی بڑا مہذب کہلائے گاتواپنی مٹی سے کٹے دانشمندوں کی ریل پیل ہمیں نظرآتی رہے گی یہی وجہ ہے کہ ہر بندہ بغیر کسی دلیل کے اعلا عدلیہ ،فوج اور سیاسی امور( بے شک ان اداروں پہ بات ہونا ایک تعمیری عمل ہے پر ہر ایک قطیعت رکھتا ہے اپنے بیان میں) پر بے لاگ بحث کرتا ہوا نظرآتا ہے اور اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتا ہے ۔ان کی رائے میں یہ انانیت اور ڈھٹائی در اصل بدیسی زباں کے ساتھ ان کی رویے اور طور اطوار میں سرایت کر چکی ہے ۔انگریز سامراج طاقت کے نشے میں ایک خاص قسم کی افضلیت اور تفاخر کا شکار تھا وہ دیسی باشندوں کو nativeاورآدھے دماغ (half wit)کے القابات سے نوازتے تھے ۔سب سے پہلے انھوں نے جس چیز کو نشانہ بنایا وہ دیسی زبانیں اور کلچر تھاسب سے پہلے انھوں نے ہمیں گنگا کیا کہ ہمیں ایک نئی زباں دی اورجب زبان غیر شرح آرزو کا سہارا بنے تو وہ صرف لفظیات کی سطح تک متاثر نہیں کرتی بلکہ اپنا کلچر ،مزاج اور حسیات بھی ساتھ لے کی آتی ہے یہی حسیات ہمارے فصلی دانشوروں کے ساتھ چل رہی ہے جو ٹو یٹر ،فیس بک اور دوسری سماجی رابطوں کے واسطوں پر بڑی بڑی فلسفیانہ گتھیوں کو سلجھاتے ہوئے نظر آ تے ہیں ۔حالیہ دنوں میں ایک ایسی ہی دانشور خاتون کافی شہرت حاصل کر چکی ہیں جنھوں نے ایک اہلکار کے پنجابی بولنے پہ وہ تماشا کھڑا کیا اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اہلکار کو ڈانٹ پلا دی ”زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا“اس کے اس اقدام پرہرصاحب رائے نے انصاف کے ساتھ ماں بولیوں کی اہمیت و افادیت اور کسی زبان کے بولنے والوں کی اس کے ساتھ جذباتی وابستگی کا برملا اعتراف کیا ۔
پنجابی زباں اپنے لوک ادب اور تصوف کے حوالے سے اتنی امیر ہے کہ کوئی دوسری زبان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔خالص عشق اور مٹی میں گندھی شاعری اس کا خاصہ ہے ۔ہماری جدید نسل اپنی کم علمی کا غبار روایات کو طعن وتشنیع کر کے نکالتی ہے۔زبانیں مہذب یا غیر مہذب نہیں ہوتیں یہ چیز بولنے والوں سے متعلق ہوتی ہے۔ہر زبان کی اہمیت مقامی یا علاقائی لوگوں کے ہاں زیادہ محسوس کی جاتی ہے اسی وجہ سے لوگ اپنی زبان کو امرت اور دوسری زبانوں کو اکھڑ کہتے رہے ہیں۔جدید لسانیات کی رو سے یہ رویہ انتہائی غیر سائنسی ہے اور بالکل غلط ہے ۔کوئی زبان میٹھی ہوتی ہے نہ نمکین بلکہ ہر زبان بولنے والا فطری طور پر اپنی زبان سے لگاﺅ محسوس کرتاہے اسی زباں میں اس نے ماں کی لوریاں ،گیت اور ماں باپ کے مکالمے سنے ہوتے ہیں یہ بچپن کے نقش تمام عمر اس کے ساتھ چلتے ہیں ۔زبان انسان کا بہترین اکتساب ہے یہ ابلاغ کا فریضہ انجام دیتی ہے نہ کہ بولنے والوں کے اعلا یا رذیل ہونے کا ثبوت ہوتی ہے۔
ماں بولی کا دن پاکستان کے طول و عرض میں منایا گیا اور علاقائی زبانوں کی اہمیت اور افادیت پہ بڑے بڑے سیمینار منعقد ہوئے ہیں ۔ماں بولی کی اہمیت تو اپنی جگہ پر زبانوں کی اس مالا کے اوپر ہم نے قومی زبان کی صورت میں جو اک سچا موتی سجایا تھا کیا پچھلی سات دہائیوں سے ہم اس کے ساتھ انصاف کر پائے ہیں ہم نے اپنی زبان سے اپنے بچوں کو دور کر دیا ہے ان کی تعلیم کے دس بارہ سال تو صرف انگریزی کی موشگافیوں سے الجھتے ہوئے گزر جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر سال ٹاپرز تو ٹڈی دل کی طرح نمودار ہوتے ہیں پر کوئی سائنس دان کوئی نئی سوچ رکھنے والا سامنے نہیں آتا اور اذہان کرم خوردہ ہو چکے ہیں ۔ہمارے ایک دوست مقابلے کے امتحان میں انگریزی مضمون میں ناکام ہونے کے باوجود انگریزی کے گن گاتے ہوئے نہیں تھکتے اور اردو کے پی ایم ایس امتحان میں شامل ہونے پر نالاں ہیں کیا اس قوم کی ذہنی پستی پہ ماتم نہ کر لیا جائے ہمیں فرانس ،جاپان ،چین اور جرمنی کے ماڈل اپنے سامنے رکھنے ہیں اور اپنی زبان کو عزت دینی ہے ۔قومی زبان وہ دھارا ہے جو ہماری تمام علاقائی زبانوں کو اپنے اندر سموئے ہمارے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker