ماضی میں ایک دوسرے کو کرپشن،لاقانونیت،غربت،بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ قرار دینے والی ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ماسوائے جماعت اسلامی کے کسی نہ کسی حالت میں اقتدار کا حصہ ہیں مگر بد قسمتی سے ان کی اس شراکت داری کا عوام کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہورہا بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز نے مسائل حل کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر کے قوم کو نان ایشوز میں الجھا رکھا ہے تاکہ ان کی خراب کارکردگی عوام کی آنکھوں سے اوجھل رہے مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ عوام کا سیاسی شعور اب پہلے جیسا نہیں رہا اور نہ ہی سیاست کسی خاص طبقے تک محدود رہی ہے بلکہ اب ملک کے ہر چوک چوراہے پر سیاست اور سیاستدانوں کی کارکردگی زیر بحث ہے اس کے باوجود اگر کوئی سیاستدان اور سیاسی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ وہ بغیر کارکردگی کے عوامی اعتماد کے حصول کو یقینی بنا پائے گی تو یہ اس کی خام خیالی کے سوا اور کچھ نہیں ہے کیونکہ اب زبانی کلامی دعووں اور وعدوں کا دور گزرچکا ہے موجودہ حالات میں کامیابی صرف اس کا مقدر بنے گی جس نے سابقہ دور اقتدار میں عوامی مسائل کے حل کیلئے اقدامات کئے ہوں گے وگرنہ ناکامی و شکست کا سامنا کرنے پڑے گا۔
ادھر وکی اور ڈان لیکس کے بعد آڈیو لیکس کا معاملہ ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب کے سیاسی حلقوں میں بھی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے کہ بظاہر عوامی درد رکھنے والے سیاسی رہنما کس قدر ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں مگر دوسری جانب ان آڈیو لیکس کی ٹائمنگ سمیت کئی اہم باتیں لمحہ فکریہ ہیں کہ یہ ایسے موقعہ پر منظر عام پر لائی گئی ہیں جب وزیر اعظم شہباز شریف شنگھائی تعاؤن تنظیم،ملکہ برطانیہ کی تعزیتی تقریب میں پاکستان کی نمائند گی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرکے وطن واپس آئے ہیں ۔
16اکتوبر کو ہونے والے حلقہ این اے 157 کے ضمنی انتخاب میں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی جہاں اپنے بیٹے علی موسیٰ گیلانی کی جیت کیلئے لوگوں سے میل ملاقات اور مختلف برادریوں کی حمایت حاصل کرنے میں مصروف دکھائی دے رہے وہاں سابق وزیر خارجہ و وائس چیئر مین پاکستان تحریک انصاف مخدوم شاہ محمود قریشی بھی بیٹی مہر بانو قریشی کی جیت کے دعوے کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں مگر دونوں رہنما عوامی اجتماعات میں ایک دوسرے کو تنقید کو نشانہ بنانے کے ساتھ قومی سیاست پر بھی لب کشائی کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے بلکہ موقع کی مناسبت سے وار کرتے ہیں۔گزشتہ دنوںانتخابی مہم کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اپنے اقتدار کو دوام دینے کیلئے ا سحاق ڈار کو لائے ہیں،اسحاق ڈار پہلے ہی کرپشن میں ملوث ہیں اگر ان میں معیشت سنوارنے کی اہلیت ہوتی اور ملک کے ساتھ مخلص ہوتے تو وہ بیرون ملک فرار کیوں ہوئے،معیشت کو جو بیڑا غرق ہو چکا ہے اس تباہی کے ذمہ دار اسحاق ڈار اور پی ڈی ایم کی حکومت ہے، اسحاق ڈار نے ڈالر کو مصنوعی طور پر سستا کرکے حقائق کو چھپایا جس کا نتیجہ قوم آج بھگت رہی ہے۔
اسی طرح سابق وزیر اعظم و قائد حزب اختلاف سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ سیلاب پورے پاکستان کا مسئلہ ہے،وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب زدگان کیلئے اچھی مہم چلائی،وزیر اعظم ہاؤس کو چاہیے کہ وہ آڈیو لیکس پر وضاحت جاری کرے،عمران خان خود ہی وکٹیں اکھاڑ کر بھاگ گئے تھے پی ٹی آئی چیئر مین سے پوچھتے ہیں کہ اب انہوں نے کون سی تین وکٹیں گرانی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تاریخ کے بد ترین سیلاب کی وجہ سے تین کروڑ متاثرین کھلے آسمان تلے پڑے ہیں یہ سیاست نہیں ان کی خدمت کا وقت ہے۔یقینا موجودہ وقت سیلابی پانی اور وبائی امراض میں مبتلا افراد کی پریشانیوں کو کم کرنا ہے مگر اس حوالے سے تاحال وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے سوائے بیانات اور دوروں کے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جارہے جنہیں دیکھ کر لگے کہ وہ سیلاب متاثرین کی آبادکاری میں مخلص ہیں حکومت کی طرف سے لیت و لعل اور تیزی سے بدلتے موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے سیلاب زدگان نے اپنی مدد آپ کے تحت مکانات تعمیر کرنا شروع کردیئے ہیں مگر معاشی حالات سے تنگ دست اور اپنا سب کچھ سیلابی پانی کی نذ ر کرنے والے زیادہ تر خاندان تاحال کیمپوں میں موجود ہیں اور حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ماڈل ویلیج کے منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کرائے تاکہ یہ بروقت مکمل ہوسکے۔دوسری جانب گزشتہ دنوں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ملتان پہنچے اور مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کرنے کے ساتھ ڈیرہ غازی خان بھی گئے۔جامعہ قاسم العلوم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ نومبر میں تعیناتی،آئین،میرٹ اور روٹین کے مطابق ہوگی،عمران خان کی ایوان صدر میں آرمی چیف سے ملاقات کی مجھ تک بھی معلومات پہنچی مگر وہ بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں عدلیہ کے فیصلوں کا کچھ پتہ نہیں چلتا ایک ہی معاملہ پر مختلف معیار ہے جب ایک شخص کیلئے بین الاقوامی پریشر آیا یہ باعث تشویش ہے،چائنہ ہمارا اچھا دوست ہے مگر اس کو ناراض کردیاگیاہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام جب تک اسمبلی میں موجود ہے کسی مائی کے لعل کو اسمبلی میں اسلام کے خلاف قانون سازی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
فیس بک کمینٹ

