رفیعہ سرفرازکتب نمالکھاری

دیارِ دوستاں : دھنک رنگ تذکروں کا مجموعہ ۔۔رفیعہ سرفراز

دیارِ دوستاں، صرف ایک سفر نامہ نہیں، یہ سیرو سیاحت اور ادبی اصناف طنز و مزاح، انشائیہ اور مختصر افسانوں کا مجموعہ ہے، اس کا مطالعہ آپ کو ملکوں ملکوں کی سیر کرائے گا۔ کسی بھی مصنف کا کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو اپنی کیفیات کا اسیر کر لے اور ناصر ناکا گاوا اس مطالعہ میں ان دیکھے جہانوں کی سیر کرالانے میں کامران ٹھہرے۔ ساحلوں، آبشاروں ، سبزہ زاروں اور ثقافتوں کے تذکروں میں، میں نے خود کو وہاں محسوس کیا ۔
یہ کمال ہے ناصر ناکا گاوا کے نثری اُسلوب کا کہ وہ آپ کی اُنگلی تھامے آپ کو اپنے ساتھ سفر میں شامل کرلیتا ہے۔
بقول زہرہ عمران، ان کے چھوٹے بھائی نے ادب میں ایک سے زیادہ اصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور اس میں کامیاب ٹھہرے، سفر نامہ نگاری ان کا اصل ہنر ہے طنز ومزاح اس کا حصہ اور افسانہ و انشائیہ ادبی تڑکا ہے۔
مسافر نے سفر کو وسیلہ ظفر بنا کےدم لیا ۔ان اسفار میں انھوں نے دنیا بھر میں آن لائن دوستیوں اور باہمی ملاقاتوں کے ذریعے دریافت ہوئے اچھے انسانوں کا محبت اور اخلاص بھرا اظہار کئی مقامات پہ کیا ہے۔۔ ناصر ،اُردو نیٹ جاپان، کے ذریعہ بڑا عرصہ اُردو زبان و ادب کی خدمت بھی کر رہے ہیں ۔اس پلیٹ فارم سے وہ کئی نئے لکھنے والوں کومتعارف کرا چکے ہیں۔
ملکوں ملکوں گھومتے جہاں وہ اپنی تہذیب وثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں وہیں وہ مقامی ثقافتوں اور رواجوں کی اچھی اور بری عادات کو الگ الگ چھانتے نظر آتے ہیں ۔
کہا جا سکتا ہے کہ برسوں سے دیارِ مغرب میں رہنے والے کا دل ابھی تک دیارِ مشرق میں اٹکا ہوا ہے۔۔دوستیاں پالنے ، نبھانے اور انجام تک پہنچانے کا سلیقہ بھی انھیں نصیب ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے پہلے سفر نامہ کی نسبت اس میں ذکرِ دوستاں زیادہ ملتا ہے۔
پاکستانی اور جاپانی اخلاقیات کا تقابل کرتے ہوئے وہ کچھ تلخ حقائق بھی ہمارے سامنے لا رکھتے ہیں۔
بالخصوص سماجی روابط میں رشتہ داروں کے ہاں مرد و خواتین کا غیر ضروری میل جول، مصافحہ، معا نقہ کی روایات اور ایک دوسرے کے تخلیہ کا احترام نہ کرنا۔۔
عادل ہوتا ایک فرمانبردار بیٹے کی کہانی ہے جو جاپان میں رہ کر اپنے والدین کی اطاعت کے مشرقی رویوں سے وابستہ ہے۔ یہ ایک طرح سے تحدیثِ نعمت اور اظہارِ تشکر ہے، چلی کے افر میں وہ چلی کے نہیں لیکن شیخ کے مہمان ضرور ہیں اپنے میزبانوں کی جانب سے استقبال کو انھوں نے حاجی کے استقبال سے تشبیہ دی ہے۔یہ نسبتاً سنجیدہ سفر، لیکن طنزو مزاح کے مواقع سے بھی بھرپور ہے۔ یوں قاری اُکتاہٹ کے لمحے میں دو بارہ مستعد مطالعہ سے جڑ جاتا ہے۔
کسی بھی مصنف کا یہ ہنر ہے کہ وہ اپنی تحریر کو یکسانیت کا شکار نہ ہونے دے اور ناصر ناکا گاوا کی تحریر میں یہ ہنر پورے سلیقہ کے ساتھ موجود ہے ۔۔
سفر نامہ نگار اپنے سفر میں قاری کو سمندروں، دریاؤں، آبشاروں، مرغزاروں کلبوں کے ساتھ ساتھ فضائی میزبانوں ان کے انداز رویوں اور امیر و غریب ممالک کی جانب پروازوں کا حال احوال کا بھی نقشہ کھینچ کر رکھ دیتا ہے۔
کامیاب سفر نامہ نگار اپنے قاری کومفت میں سیر کرادیتا ہے، ناصر ناکا گاوا کا قاری بھی مایوس اور بد دل نہیں ہوتا ۔ مصر میں نیل کے ساحل کے ساتھ سفر کے دوران لیلی اور فلووا دو گائیڈ خواتین کے عمر نہ بتانے پر مردانہ طنز کرنے سے نہیں چوکے۔ ۔ یوگنڈا کے سفر میں مردوں کے ہڈ حرام اور خواتین کے جفا کش ہونے کا خصوصی ذکر ہے۔اس سفر میں دونوں گائیڈ خواتین اپنی مہارت اور شائستگی سے مسافروں کا دل موہ لیتی ہیں ۔ اس کتاب میں یہ چند واقعات تو بر سبیل تذکرہ ہیں ۔ آپ یورپ اور خلیج گردی میں علم وادب سے وابستہ شخصیات، سیاسی اور سفارتی رموز سے آشنا افراد علمی و تحقیقی اداروں، کتاب اور صاحبان کتاب کے ذکر سے گزریں گے، ایئر پورٹ، پلیٹ فارمز، سیر گاہوں اور فضا کے رنگوں کی دھنک آپ کے دل و دماغ کی آسودگی کا سامان ہوگی شرط یہ ہے کہ آپ اس کتاب کا مطالعہ کے لیے وقت نکالیں ۔ سفر نامہ۔نگار آپ کو چلی، یقگنڈا، قطر عمان، اور بحرین میں گھمائے گا آپ کے علمی و ادبی ذوق کی تسکین کرے گا ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker