اُمید پر دنیا قائم ہے اور دنیا میں اس وقت کورونا وبا کے جلد خاتمے اور لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کی اُمید پیدا ہو رہی ہے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں اگرچہ عبادات بھی مخصوص ہو کر رہ گئی ہیں لیکن اس کے باوجود لگتا یہی ہے کہ قدرت انسانوں کی تمام تر نالائقیوں اور کوتاہیوں کے باوجود مہربان ہوتی نظر آ رہی ہے۔ وزیراعظم اور ان کے وزراء کی طرف سے بھی قواعد و ضوابط کے ساتھ لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کرنے کی نوید دی جا رہی ہے یوں بھی وزارت اطلاعات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اب خبروں اور حالات کی تبدیلی کے بھی آثار نظر آنے لگے ہیں گویا صورتحال ”پیدا کہیں بہار کے امکان ہوئے تو ہیں“والی دکھائی دینے لگی ہے۔
رمضان المبارک بھی نیکیوں کا موسم بہار ہوتا ہے یقینا ًبہت سے لوگ اس بہار آفرینی سے استفادہ کرتے ہوں گے لیکن ہمارے ہاں تاجر برادری اپنی روایتی منافع کمانے کی روش پر قائم ہے اور نیکیوں کے ساتھ ساتھ یہ مہینہ کمائی کا مہینہ بھی شمار ہونے لگا ہے۔ روزہ دار لیموں کے پانی کے ساتھ ساتھ پکوڑوں کے چٹخارے اور فروٹ چاٹ کے ذائقے کو افطار کا جزو لازم سمجھتے ہیں جبکہ یہ لوازمات پورے کرنے کے لیے منافع خور مافیا قیمتوں کے منہ مانگے دام وصول کر رہا ہے۔ اگرچہ ضلعی حکومتوں کی طرف سے ڈپٹی کمشنر صاحبان اور ان کا عملہ کاغذوں اور خبروں میں سرگرم عمل تو نظر آتا ہے لیکن قیمتیں اسی طرح آسمان سے باتیں کرتی نظر آ رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر جہاں ان لوازمات کے بائیکاٹ کی باتیں کی جا رہی ہیں وہاں یہ تجاویز بھی انتظامیہ کے گوش گزار کی گئی ہیں کہ چھوٹے اور عام دکاندار پر قانون نافذ کرنے کی بجائے بڑے مافیا پر ہاتھ ڈالا جائے۔ ذخیرہ اندوزوں کے ساتھ ساتھ مصنوعی مہنگائی اور گرانی پیدا کرنے والوں کے ساتھ ساتھ بھی آہنی ہاتھوں سے نبٹا جائے۔ غلہ منڈیوں اور فروٹ و سبزی منڈیوں میں مہنگائی کا طوفان مچانے والوں کو نکیل ڈال کر ہی موجودہ مہنگائی کے سیلاب کے آگے بند باندھا جا سکتا ہے بصورت دیگر اس مقصد کیلئے کیے جانے والے اقدامات اور پرائس کمیٹیوں کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہی رہے گی اور اشیاء ضرورت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتے ہی دکھائی اور سنائی دیں گی۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقے کے ساتھ ساتھ سفید پوش طبقہ بھی خاصا اثر انداز ہوا ہے۔ اس مبارک مہینے میں مراعات یافتہ اور اہل ثروت افراد کے لیے سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے مال کو پاک کرنے کے لیے نہ صرف زکوٰۃ کے فریضہ کی ادائیگی کریں بلکہ اپنے ارد گرد مجبور اور بے بس افراد کو ان کی خوشیاں لوٹانے کا بھی باعث بنیں۔
9 مئی کے بعد حکومت کی طرف سے بعض شرائط کے ساتھ سمارٹ لاک ڈاؤن کو مزید سمارٹ کیا جا رہا ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگ اور سمارٹ نہ ہونے پائیں۔ حکومتی اور محکمہ صحت کے جاری کردہ اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہوں تاکہ کورونا کی موذی وبا کو مزید پھیلنے سے بچایا جا سکے۔ ڈاکٹر اس وقت صحیح معنوں میں قوم کے مسیحا ثابت ہو رہے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بھی اس موذی مرض کو شکست دینے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ قوم اپنے مسیحاؤں کی زندگی کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ احساس ذمہ داری کا بھی مظاہرہ کرے تاکہ ملک سے جلد اس عفریت سے نجات حاصل کی جا سکے۔ کورونا کی اس صورتحال میں اہل قلم اور شعرا حضرات بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ قلم کے ذریعے عوام میں آگاہی اور جذبہ شوق کے ساتھ ساتھ شعراء کرام آن لائن مشاعروں کے ذریعے اپنا مافی الضمیر بیان کر رہے ہیں گویا اب احساسات و جذبات کو آن لائن ایک دوسرے تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ عبادات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ جذبات کی ترسیل کے لیے بھی فاصلے ناگزیر ہو گئے ہیں۔
کہتے ہیں کہ لوگ پہلے بھی محض ہاتھ ملاتے تھے دلوں کی دوریاں قائم رہتی تھیں ”ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتے ہیں لوگ“کی شکایت بھی ایک دوسرے سے رہتی تھی مگر اب کورونا نے تو سبھی کو ماسک پہننے پر مجبور کر دیا ہے اور اب ہاتھوں پر دستانے کے ساتھ ساتھ چہروں پر لگے ماسک بھی انسانی رویوں کی شناخت اور پہچان میں مزید رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں۔
کہتے ہیں کہ قدرت آزمائش کے ذریعے ہر انسان کو اپنی اصلاح کا موقع ضرور دیتی ہے۔ خدا کرے کہ کورونا جیسی سفاک وبا کے خاتمہ کے ساتھ ہی ہمارے رویوں اور دلوں میں موجود سفاکیت بھی دم توڑتی نظر آئے اور ہم لوگ ایک دوسرے سے کھلے بازوؤں کے ساتھ ساتھ کھلے دلوں کے ساتھ ملتے نظر آئیں۔ نفرت کی شجرکاری کی بجائے محبت کی آبیاری کریں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال رکھیں تاکہ کورونا کے مابعد اثرات کے ساتھ ساتھ ہماری زندگیوں، رویوں، فکر و سوچ اور قومی مزاج میں مثبت تبدیلی بھی سامنے آ سکے اور اب جبکہ فاصلے شفا اور دوریاں دوا ٹھہری ہیں تو پھر فاصلے دوریوں اور نزدیکیاں محبتوں میں تبدیل ہوتی نظر آئیں۔
فیس بک کمینٹ

