رانا تصویر احمدکالملکھاری

جی!میں ملتان ہوں۔۔رانا تصویر احمد

رگ وید اس وقت کی معلوم تحقیقات کی رو سے دنیا کی قدیم ترین کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ رگ وید کے مقابلے میں صرف ایک دعویٰ میری کم علمی اور تحقیقی طالبانہ عمر میں نظر آتا ہے جو انیسویں صدی کے اواخر میں Proto Indo Europens کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہرمن ہرٹ کی کتاب Die Indreman میں جوکہ 1905ء کی اشاعت ہے۔ اس کتاب میں ایک تحقیق پیش کی گئی کہ شمالی جرمنی کے میدانوں میں پائے جانے والے انسانوں کو جدید مہذب دنیا کا بانی تصور کیا گیا۔ اس تھیوری کے باعث ایک طویل عرصہ تک یورپ اپنی علمانہ تفاخر میں مبتلا رہا لیکن وقت نے علم کا اصل ماخذ ایشیا کو ہی قرار دیا اور بہت سی تحقیق اور عالمانہ بحثوں نے جدت اور تہذیب کے قدیمی سرچشمے ایشیا سے ہی پھوٹے ہیں۔ یورپ کے ساتھ ساتھ یونان ٗ عراق ٗ مصر اور کسی حد تک ایران بھی مختلف حوالوں سے موجود تہذیبوں کے نقطہ آغاز کو خود سے جوڑتے رہے ہیں۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ رگ وید اس وقت دنیا کی قدیم ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے ۔ویدوں کا دور 4ویدوں کی صورت میں موجود ہے۔رگ وید ٗ یجر وید ٗ سام وید ٗ اتھر وید، ان ویدوں میں کم و بیش 80ہزار اشلوک موجود تھے جن کو مختلف اوقات میں 14ویں صدی تک ان کی تعداد 24ہزار اشلوک رہ گیا۔ بقایا تحریف شدہ اشلوک آج بھی محققین کو تحقیق کی ویدوں میں موجود عبارات اور اشلوک سے ہی ہم اس خطہ کی زمانی و مکانی قدامت کا اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس مہذب دنیا کی تاریخ مرتب کرنے کے تمام تر مہذب حوالہ جات سب دیکھے جاتے ہیں لیکن بہت سے اساطیر ی حوالے ہیں۔لوہا کا دور ٗ کانسی کا دور ٗ پتھر کا دور ٗ قدیم پتھر کا دوریہ تمام ادوار ہمیں ویدوں کے بغور مطالعہ سے مل جاتے ہیں ایک لمحہ کے لئے صرف تصور کیجئے کہ آج کا انسان اور قدیم پتھر عہد کا انسان ٗ اس کے مسائل محض کھانا پینا تھا ٗ اپنی غذائی ضروریات کے علاوہ اس نے ابھی تک ضروریات کو محسوس نہیں کیا تھا لیکن ویدوں کا دور اس دور کا احاطہ بھی اپنے اشلوک میں کرتا ہے۔
یجر وید جسے درمیانی دور کے وید کہا جاتا ہے اس کی ایک پرارتھنا ملاحظہ فرمائیں:’’ایشور کرے میرے لئے دودھ ٗ رس ٗ گھی ٗ شہد ساتھ ساتھ کھانا پینا (سکھدی اور سپتی) ہل چلانا ٗ بارش ٗ فتح یابی ٗ ملک گیری ٗ دولت ٗ زور و مال ٗ خوش حالی ٗ موٹا اناج کیاؤ کی خوراک ٗ بھوک سے آزادی ٗ چاول ٗ بوتلٗ سیم کی پھلیاں ٗ کلیٹھی ٗ گیہوںٗ مسور ٗ باجرہ اور جنگلی چاول میں ترقی ہو۔ یگیہ کے ذریعے۔ ایشور کرے میرے لئے پتھرٗ مٹی ٗ پہاڑیاں ٗ پہاڑ ٗ ریت ٗ درخت ٗ سونا ٗ کانسی ٗ سیسہ ٗ لوہا ٗ تانبا ٗ آگ ٗ پانی ٗ جڑیں ٗ پودے ٗ مزرونے زمین کی پیداوار ٗ غیر مزرونے زمین کی پیداوار ٗ پالتو اور جنگلی جانوروں میں ترقی ہو۔ یگیہ کے ذریعے۔”The Culture and civilization of anciant India”D.D. Ksambi…1962غذا کی ضروریات سے ہٹ کر اسے دیگر سماجی ضروریات اور آسائشوں کا ادراک ہوچکا تھا جیسا کہ آگ ٗ پانی ٗ پتھر ٗ پہاڑ ٗ پہاڑیاں ٗ بارش ٗ لوہا ٗ سونا ٗ کانسی ٗ ریت ٗ درخت ٗ پیداوار ٗ پالتو اور جنگلی جانوروں کا ادراک ہونا تہذیب بافتہ انسانوں کی بہت مضبوط دلیل ہیۃیہ تو ذکر تھا یجر وید کا اب ایک اور وید بلکہ صباوید ٗ رگ وید کی طرف چلتے ہیں۔
رگ وید کے لئے پہلا حوالہ ہم Watiness,R کے ایک نوٹ سے اقتباس کی صورت دیتے ہیں۔ “A Note the Lord Families Lahore and Mooltan”For Street V, Colcatta…..1845اے اگنی دیوتا جس طرح تونے مولی / ملیہ اشوتھ … ملوہہ میں اناج اگایا ہے ہم کو بھی اسی طرح اناج دے‘‘یہ رگ وید کی ایک پرارتھنا ہے جس میں اس دور کے سب سے ترقی یافتہ مہذب ٗ سرسبز و شاداب ملوہہ ٗ مولی کہا گیا ہے۔
ملتان کے قدیمی ناموں میں مولی ٗ مالی اقوام ٗ ملوہہ اشوتھ جو اشوتھان بنا پھر مول استھان بنا۔اشلوک رگ وید میں ادھیائے 7 انواک 3اشلوک 3میں دیکھے جاسکتے ہیں یعنی باب 7کے جز 3کے اشلوک 3ہیں۔ قدیم سنسکرت میں مولی یا ملوہہ اونچی جگہ یا ٹیلہ پر بلند جگہ کے معنوں میں آتا یہ اور درخت یا درختوں کا جھنڈ لیا جاتا ہے۔
مولتان کی قدامت خواہ تیس لاکھ سال نہ ہو لیکن اہل ملتان کے لئے یہ بات بہرحال تفاخر کی ہے کہ ملتان کی ترقی کی کبھی دیوتاؤں اور مذاہب کے پیروکاروں کے لئے ایک خواب کی حیثیت رکھتی ہے۔
احمد نبی خان البیرونی کے حوالے سے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ کشمیری نژاد مصنف ات پال اپنی مسمتھا/ مسمتا میں لکھتے ہیں ،کہ اس شہر (ملتان) کا نام زمانے کی شکست و ریخت اور تمدن کے تغیر کی وجہ سے ’’یگ‘‘ کے دوران ’’ہنس پورہ‘‘ پڑگیا۔
اگلا حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔سچیدہ نندو اپنی ڈکشنری میں لکھتے ہیں’’ہندو جغرافیہ کے مطابق یہ عہد اساطیری راجہ پرتھو نے تمام زمین کے سات حصے کئے اور ہر حصہ کا الگ الگ نام رکھا جس میں ایک کا جان ’’جنودیپ‘‘ تھا۔ سنسکرت میں جنودیپ کا نام بھارت/ بھرت ورش کے ہیں۔ بھرت ورش میں ساگر گندے جہاں ا ٓریہ بھرت ورش (لوگ) رہتے تھے، ان میں ماول ستھ (مہامل استھان) ہری پایا ٗ وال ستھا/ ویل ستھان اور نرماتی (نرمتی) ہیں‘‘ستا رام کوہلی؟؟ٹرائل آف مول راج‘‘۔
لاہور پرنٹنگ پریس۔ گورنمنٹ 1849۔ نیو ایڈیشن مہامل استھان ویل استھان ملتان کے قدیمی نام ہیں اور ہری پایا ہڑپہ کا قدیمی نام ہے۔ اسی قدیمی نام کے حوالے سے ابن حنیف ہی کی یک دلیل ملاحظہ فرمائیں میں وہ رگ وید کے اشک اشلوک کا حوالہ دیتے ہیں۔ ’’اے دیوتا! تباہ شدہ شہر ویل استھان میں جادوگرنیوں کے طاقت ور گروہوں کو برباد کر‘‘۔
ویدوں کے دور میں ملتان کے یہ ہی قدیم نام تھے جن میں مول استھان اور مولی اشوتھ بھی ثابت ہوا ہے اور تاریخ راجھستان میں ویدوں کے دور میں تین دیوتا پوری دنیا پر حکومت کرتے تھے ان میں ایک کا نام ملی ناتھ تھا۔ اس ملی ناتھ کا جہاں مندر بنایا گیا اس جگہ ملی اشوتھ تھا۔ اشوتھ سے مراد درخت ہے پیپل کا درخت‘‘یہ لفظ مولی استھان صوتی انحطاط کی وجہ سے بدلتا ہوا اشوتھان بنا پھر اشتھان پھر ستھان بن گیا اور مول استھان سے مولتان بن گیا۔
نارائن داس بھاٹیہ ’’سپوت ملتان‘‘ 22اپریل مال لاہور 1849ان تمام دلائل کے علاوہ البیرونی جب گیارہویں صدی میں 1010 میں ملتان آیا تو یہاں کے لوگ ملتان کو دو لاکھ سولہ ہزار چار سو تیس برس پرانا شہر سمجھا اور بتایا کرتے تھے۔
بال کشن بترا اپنی تصنیف ’’تاریخ ملتان‘‘ میں نرسنگھ بھگوان کے قصہ کو ایک یگ پرانا بتاتے ہیں ایک یگ سے مراد 30لاکھ 98ہزار سال مراد ہوتا ہے۔
تاج الدین مفتی ملتان کو طوفان نوحؑ میں بھی ثابت کرتے ہیں۔حضرت نوحؑ کے بیٹے یافث کی ملتان آمداور ان کے پوتے کی ملتان پر حکمرانی ثابت ہوتی ہے۔
آریہ کی اس خطہ میں آمد 1200 ق م سے 8ہزار سال تک پائی جاتی ہے لیکن یہ طے شدہ بات ہے کہ آریہ اس خطے میں آئے تو یہ پہلے سے آباد اور زرخیز خطہ تھا۔ اس کی پیداواری صلاحیتیں اور مال کو زر کی داستانیں زبان زد عام تھیں۔
بال گنگادھر تلک اپنی کتاب Arctic Home of Vedas میں ملتان کو 6سے 8ہزار قبل مسیح کا شہر قرار دیتے ہیں۔ ان تمام حوالہ جات کے علاوہ اگر ملتان کی قدامت کو یہاں پر پھلنے پھولنے والے مذاہب کو دیکھا جائے تو اس مقالہ کی صخامت مزید بڑھ جائے گی۔
دنیا کے قدیم ترین مذاہب بدھ متٗ جین مت ٗ آگ پرستش ٗ سورج پوجا ٗ جانوروں کی پوجا ٗ پتھروں کی پوجا ٗ مورتیاں ٗ بت اس کا آغاز عروج اور ترقی و ترویج اسی علاقہ میں ہوئی۔ملتان کے قدیمی ناموں میں سپت سندھو ٗ کشیب پور ٗ مہارشی کشب ٗ پرہلاد پورہ ٗ سنب پورہ ٗ ہنس پورہ ٗ مترون ٗ متھرا ٗ بھاگ پورہ بھی شامل ہیں۔
ملتان کے تاریخی حوالوں میں کچھ کردار بہت ہی مضبوط اور مزید تحقیق کے قابل ہیں۔ ان میں پرہلاد ٗ ہولکا ٗ دیوی ٗ مہارشی ٗ کشب ٗ رام چندر جی کی ملتان آمد ٗ سیتا کنڈ ٗ رام چونترہ ٗ لکشمن چونترہ ٗ رانی کیکئی کی ملتان کی پیدائش ٗ رانی دھسلہ ٗ راجہ دشرتٗ اسکندہ شہر جو شجاعباد کے پاس موضع ٹھٹھہ گھلواں کے پاس کہیں موجود تھا۔ اس کے علاوہ وقت کے بے رحم سمندر میں ملتان کی شناخت کے نہ جانے کتنے سنگ میل بہہ گئے۔اس مقالہ کی روشنی میں ایک اہم پہلو کی جانب ثناخوان تقدیس مشرق کی توجہ مبذول کرانا ہے۔ اس قدر قدیم اور ہر حوالہ سے تاریخی ملتان ملتان کے آثار قدیمہ کہاں ہیں۔
ملتان کی آج کی موجودہ جغرافیائی حیثیت میں ملتان سے 158 کلومیٹر 98.75 میل اور 790 فرلانگ دور جس کی برٹش رول کے مطابق 28گھنٹے کی مسافت بنی ہوے ٗ ہڑپہ موجود ہے۔
موہنجودڑو 530کلومیٹر 331.25میل اور 2650 فرلانگ مسافت 95گھنٹے تقریباً 5دن مہر گڑھ 671 کلومیٹر 419.37میل 3354 فرلانگ مسافت 120گھنٹے تقریباً 5دن ٗ جلیل پور جو خانیوال کی تحصیل کبیروالا میں عبدالحکیم سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر نہر کے کنارے ایک چھوٹی سی بستی ہے ان کے علاوہ گملا ٗ پٹھالہ ٗ رحمان ڈھیری ٗ لیون ترکئی ٗ قلعہ ٗ اسلامٗ چوکی ٗ نوشہرو ٗ کوٹ ڈی جی ٗ امری ٗ ٹیکسلا ان تمام آثار قدیمہ کو ایک جگہ اکٹھا کریں اور عام قاری بھی اگران کا مطالعہ کرے گا تو ان سب میں ملتانتا جھانکی ہوئی نظر آئے گی۔ملتان کے نزدیک ترین علاقوں تک کھدائی کرکے آثار قدیمہ نکالے گئے۔
ملتان جو ہر دور میں خاص اہمیت کا حامل رہا ٗ اس سے روگردانی کیوں برتی گئی۔مصر کے بادشاہ آسیرس کا ملتان آنا ٗ یہاں کے لوگوں کو کھیتی باڑی سکھانا ٗ ایرانی کے جمشید ٗ افغانستان کے پٹھان و دیگر حملہ آور سکندر اعظم ٗ چنگیز خان اور نہ جانے کون کون سے حملہ آور یہاں نہیں آئے اور یہاں سے ملتانتا کو اپنے ساتھ لے گئے۔
آپ آج مصر ٗ ترکی ٗ ایران اور متحدہ عرب امارات میں جاکر دیکھیں آپ کو جا بہ جا ملتان اور ملتانتا بکھری ہوئی نظر آئے گی مگر ملتان کانام کہیں نظر نہیںں آتا۔
ملتان کو سندھ وادی تہذیب کا مرکز کہا جاتا ہے تہذیبیں دریاؤں کے باؤں کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں یہ کون سی تہذیب ہے کو پانیوں کے الٹی سمت چلتی ہوئی ملتان جیسے مضبوط تہذیب و ثقافت کے شہر کو اپنے نام سے پابندوسلاسل کردیتی ہے۔ ملتان تو ہاکڑہٗ گاگرہٗ سرسوتیٗ گنگا ٗ جمنا اور لاتعداد دریائوں کی تہذیبیں ملتان کے قدم چومتی رہی ہیں۔جس وقت اس دھرتی کو ایک خدا ٗ وشنو یا ایک مالک موجود تھا اس وقت اگر تین ریاستیں تھیں ملتان موجود تھا۔ سات ریاستیں ہوئیں تو ملتان موجود لیکن آج سندھ تہذیب کا ٹیکہ ملتان کے نام پر سجادیا گیا۔
ملتان کو بطور سلطنت اور صوبہ تمام حکمرانیوں کی تفصیل دی گئی ہے ملاحظہ فرمائیں۔موریہ خاندان آغاز 322 قبل مسیح چندر گپتہ موریہ 320سے 300قبل مسیح ،بندو سرا جو چندر گپتہ کا بیٹا تھا 300سے 273 قبل مسیحا ،اس کے دو بیٹے تھے سمانہ اور اشوکا،اشوکا وردانہ و 32 لد بندو سراگپتہ 283سے 232قبل مسیح کنالہ ولد اشوکا 232سے 225 قبل مسیح دسرتھ (مشرق) 232سے225قبل مسیح ،سمپرتی 225سے 215قبل مسیح ،سلسکا 215سے 202قبل مسیح ستام دھانو 195سے 187 قبل مسیح ،بریادھارتا، 187سے 180 قبل مسیح ، بکتریا خاندان 250سے 100قبل مسیح ،سورن 100سے 60قبل مسیح ،خوشان شاش خاندان 300سے 60قبل مسیح ،گپتا خاندان 550سے 712عیسوی۔
641عیسویں میں ملتان سہاکسی دوئم کا رشتہ دار ملک بجھرا گورنر بن گیا۔ ملک بجھرا کے بیٹے کو چچ نے شکست دی اور وہ ملتان کا حکمران بن گیا اور ملتان کو سندھ میں شامل کرلیا۔ چچ کے بعد اس کا بیٹا کورسیاہ 711عیسوی تک ملتان کا حاکم رہا۔ کورسیاہ راجہ داہر کا بھائی تھا۔ 712 عیسوی میں محمد بن قاسم نے اس خاندان کی حکومت ختم کی۔
بنو سما کے اسد القریشی نے 892 عیسوی سے 900 عیسوی تک جب کہ قرامطیہ کے عبداللہ قرامطی نے 900عیسوی میں اقتدار حاصل کرلیا۔ 985عیسوی میں اسماعیلیوں نے نامعلوم حکمران سے حکومت لی۔
جلم ابن شعبان حامد بن جلمٗ نصر بن حامد ٗ ابوالفتح داؤد ابن نصر 1008 عیسویں تک حکمران رہے۔
غزنوی اور غوری خاندانوں نے 1008عیسوی سے 1215عیسوی تک ملتان پر حکومت کی کی۔ 1008 عیسوی میں سکھ پال گورنر بنا ملتان کا۔ محمد غزنوی اس کے بعد گورنر بنا۔ اس کے بعد کرمانی 1100عیسوی سے 1200عیسوی تک حکمران رہے دوسری طرف دہلی کی سلطنت پر چوہان اور تمارا کی حکومت تھی۔ یہ 736عیسوی سے 1152 عیسوی تک اس سلطنت کے حاکم تھے۔
ہریانہ میں شہاب الدین غوری کو پرتھوی راج چوہان سے شکست ہوئی۔ پھر قطب الدین ایبک کی سربراہی میں شہاب الدین غوری نے 1192 عیسوی میں دہلی پر حکومت کی۔ 1206 عیسوی میں غوری کے انتقال کے بعد قطب الدین ایبک ایک وسیع سلطنت کا حاکم بن گیا اور 1206عیسوی میں اس نے ناصرالدین قباچہ کو ملتان کا گورنر بنادیا۔ 1206 عیسوی سے 1210 عیسوی تک قباچہ حکمران رہا۔ پھر آرام شاہ 1211عیسوی جب کہ شمس الدین التمش 1211عیسوی سے 29اپریل 1236عیسوی تک رہا۔ 6ماہ کے لئے رکن الدین فیروز شاہ گورنر رہا۔
التمش کی بیٹی رضیہ سلطانہ نے 1236عیسوی نومبر سے 15اکتوبر 1240عیسوی تک حکمرانی کی۔ پھر معزالدین بہرام نے 1240 عیسوی سے 1242عیسوی تک حکمرانی کی۔ علاؤالدین مسعود شاہ 1242عیسوی سے 1246عیسوی تک ٗ ناصرالدین محمود جوکہ اس کا بیٹا تھا ٗ 1246 عیسوی سے فروری 1266 عیسوی تک ٗ غیاث الدین بلبن 1266 عیسوی سے 1286 عیسوی تک پھر معزالدین 1286عیسوی سے 14اکتوبر 1290 عیسوی تک اس کے بعد 1290عیسوی سے 1296 عیسوی تک خلجی پھر علائوالدین محدم اول 1296 عیسوی س ے1316 عیسوی تک ٗ چار ماہ کے لئے شہاب الدین عمر ٗ 1316 عیسوی سے 1320 عیسوی تک قطب الدین مبارک اور ناصرالدین خسرو۔یہ تمام حکمران دہلی سلطنت کے حاکم رہے۔
عین الملک مہرو 1352 عیسوی سے 1365 عیسوی تک ملتان کے گورنر رہے۔ اس کے بعد تیمور خاندان 1438 عیسوی تک ملتان کا والی اور گورنر رہا۔ اس دوران سلطنت دہلی کی گرفت ملتان پر کمزور ہونے لگی اور شیخ یوسف قریشی نے ملتان کی حکومت سنبھالی لیکن کمزور حکمران تھا اس سے بہت جلد سہرالنگاہ نے اقتدار حاصل کرلیا۔ یوں لنگاہ خاندان کا 90سال کا اقتدار شروع ہوا۔ سہرا لنگاہ نے اپنے بہادر بیٹے سلطان حسین اول کو 16سال بعد حکومت دی۔ اس کے بعد ترتیب یوں ہے۔ شیخ یوسف قریشی 1438عیسوی سے 1440عیسویٗ سہرا لنگاہ 1440 عیسوی سے1456عیسوی ٗ حسین لنگاہ 1456عیسوی سے 1502عیسویٗ محمد لنگاہ 1502 عیسوی سے 1527 عیسویٗ حسین لنگاہ دوئم 1527عیسوی سے 1528عیسوی۔ اس کے بعد مغلیہ خاندان نے 1528 عیسوی سے 1730 عیسوی تک حکومت کی۔ 1556 عیسوی سے 1605 عیسوی تک سکہ شہنشاہ اکبر چلا۔ اس کے بعد اقتدر دہلی سے کابل منتقل ہوگیا اور ملتان پھر افغانستان کا صوبہ بن گیا۔
علی محمد خاکوانی اور مظفر خان سدوزئی 1779عیسوی سے 1818 عیسوی تک ملتان کے گورنر رہے۔1818عیسوی میں سکھ حکمرانوں نے مظفر خان کو شکست دی اور دیوان مول راج سنگھ کو ملتان کا حکمران بنادیا۔ 1848 عیسوی تک ملتان کا گورنر سکھ رہا۔ 1848ء عیسوی میں برطانیہ نے اقتدار سنبھال لیا۔ سردار خان سنگھ کو ملتان کا انتظام دے دیا۔ اس کے بعد دوبارہ دیوان مول راج سنگھ مقتدر ہوگیا اور انگریزوں سے اقتدار لے لیا لیکن بمشکل ایک سال ملتان کا گورنر رہا۔ 1849 عیسوی میں انگریزوں نے دوبارہ ملتان پر قبضہ کرلیا اور یوں 1947ء عیسوی تک ملتان کے حاکم رہے۔ 1947ء عیسوی کے بعد پاکستان بن گیا اور ملتان ایک ضلع کی صورت سامنے ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker