راؤ خالدکالملکھاری

کرائسٹ چرچ کی یادیں۔۔رولا رپہ/راؤخالد

کیا سانحہ گزر گیا اور ایک ایسے شہر میں جسکے بارے میں وہم و گمان نہیں تھا کہ کرائسٹ چرچ میں یہ قیامت بھی برپا ہو گی۔اس شہر پر قدرتی آفات کے بہت سے عذاب اترے ہیں جو زلزلے کی صورت میں تھے۔ لیکن ایک انسان اس شہر میں قیامت برپا کر دے گا کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر میں تو یقین نہیں کر پا رہا کیونکہ میں اس شہر تین روز قیام کر چکا ہوں اور جانتا ہوں کہ وہاں کے لوگ کس قدر شاندار، مہمان نواز اور معصوم ہیں۔میری جو یادیں اس شہر کے حوالے سے ہیں ، دہشت گردی کا واقعہ اس میں کہیں فٹ ہی نہیں ہو پا رہا۔قیام مختصر تھا لیکن ان تین دنوں میں وہاں کے لوگوں کے بارے میں جو تاثر دل پر رقم ہوا وہ سانسوں کے ساتھ ہی ختم ہو گا۔یہ سال 2011 ء کے آغاز کی بات ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورہ نیوزی لینڈ میں ون ڈے سیریز کورکرنے کا موقع ملا۔ ہمارے دو ساتھی علی ہاشمی اور عقیل احمدجو بعد میں دوست بن گئے لاہور سے ہمرکاب تھے۔ کراچی میں ہم اکٹھے ہوئے جہاں سے کیتھی پیسیفک کی فلائٹ سے آکلینڈ اور وہاں سے مقامی فلائٹ پر پہلے ون ڈے کے وینیو کوئینز ٹاؤن پہنچناتھا۔خیر ایک طویل سفر کے بعد ہم منزل پر پہنچے۔عقیل احمد نے آکلینڈ میں موجود اپنے دوست کے ذریعے پہلے سے ہی ان پانچ میں سے چار شہروں میں موٹلز میں بکنگ کرا رکھی تھی جبکہ کرائسٹ چرچ میں ہم نے معروف کرکٹر عظمت رانا مرحوم(اس وقت حیات تھے) کے کسی دوست کے ہاں قیام کرنا تھا۔یہ انتظام بھی عقیل احمد اور علی ہاشمی نے کیا تھا۔ قصہ مختصر کہ ہم تیسرے ون ڈے کے لئے کرائسٹ چرچ ائر پورٹ پر لینڈ کئے تو ایک انجان نمبر سے عقیل کے نمبر پر فون آیا کہ میں آپکو لینے کے لئے باہر موجود ہوں۔عقیل پریشان ہوا کہ جو ہمارے میزبان ہیں ان سے ابھی رابطہ نہیں ہو رہا پتہ نہیں یہ انجان شخص کون ہے۔ خیر جب ہم باہر آئے تو ڈھونڈتے ایک بڑی عمر کے صاحب ہمیں پہچانتے ہوئے آئے اور تعارف معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ ہمیں وصول کرنے آئے ہیں۔ بہت مرنجاں مرنج نیوزی لینڈر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ آپکے اصل میزبان مصروف ہیں انہوں نے میری ڈیوٹی لگائی ہے کہ آپکو انکے گھر پر چھوڑ دوں۔ہم کرائسٹ چرچ کے ایک پوش ایریا میں گھر پہنچے تو ان صاحب نے ہمیں بتایا کہ اوپر کی منزل پر دو بیڈ روم آپ لوگوں کے لئے مخصوص ہیں اور یہ گھر کے باہر والے دروازے کی چابی ہے۔ قریب ہی مارکیٹ ہے اگر گھومنا پھرنا ہو تو چلے جائیں ۔ شام کو آپکے اصل میزبان آ جائیں گے۔ہم حیران و پریشان کہ اجنبی لوگوں کو پورا گھر تھما دیا ہے اور کسی قسم کی فکر ہی نہیں ہے ان لوگوں کو۔ خیر ہم سامان وغیرہ رکھ کر تھوڑی دیر کے لئے قریبی مارکیٹ گئے، کچھ پیٹ پوجا کی اور ایک گھنٹے بعد واپس آ گئے۔ شام کو قریباً چھ بجے ہمیں باہر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور اونچی آواز میں ہیلو بھی پکارا گیا۔ ہم اپنے کمروں میں دبکے ہوئے تھے کہ ایک معمر خاتون سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئیں اور تعارف کرایا کہ وہ لین جینکنز ہیں انکے خاوند سکاٹ جینکنز آنے والے ہیں اور یہ جوڑا آپ کا میزبان ہے۔یہ جوڑا انتہائی شفیق اور مہربان تھا۔عظمت رانا مرحوم سے انکا جوانی کے زمانے سے بہت گہرا تعلق تھا جب وہ وہاں پاکستان ٹیم کے ساتھ کرکٹ کھیلنے آئے تھے ۔کرائسٹ چرچ میں جینکنز جوڑے کی دو دکانیں ہیں ایک پر سپورٹس کا سامان اور دوسرے پر لیدر پراڈکٹس بیچتے ہیں۔ یہ دونوں کاروبار بھی انکے پاکستان سے مستقل تعلق کا ذریعہ ہیں۔جیسے ہی مسٹر سکاٹ آئے انہوں نے آتے ہی اعلان کیا کہ تیار ہو جائیں ہم کمیونٹی کلب میں شام گزارنے جا رہے ہیں۔ ایک بھرپور شام کلب میں گزارنے اور کھانا کھانے کے بعد ہم گھر واپس آئے۔ کچھ دیر انکے لاؤنج میں بیٹھ کر گپ شپ کی۔ مسٹر سکاٹ نے سونے کے لئے جانے سے پہلے اعلان کیا کہ کل دوپہر کو لین جینکنز ہمیں شہر کا دورہ کرائیں گی اور شام کوہمارے اعزاز میں گھر پر ہی بار بی کیو ہو گا۔اگلے روز ہم ذرا شاکی تھے کہ پتہ نہیں بار بی کیو حلال چیزوں کا ہو گا کہ نہیں۔ ایسے ہی ججھکتے کہا کہ وہ ہم حلال کھائیں گے۔ مسٹر سکاٹ مسکرائے اور کہا کہ یہاں پر چکن ،مٹن اور بیف سب حلال ہے۔ نیوزی لینڈ مشرق وسطیٰ کو گوشت ایکسپورٹ کرتا ہے اس لئے تمام گوشت کا کاروبار کرنے کے لئے قانوناً لازم ہے کہ وہ حلال سرٹیفکیشن کے بغیر ملک کے اندربھی گوشت فروخت نہیں کر سکتے۔بس پھر کیا تھا دن کو شہر گھوم کر لطف اٹھا یااور رات خوب جی بھر کر گوشت سے لطف اندوز ہوئے۔انکی بیٹی داماد اور بچوں نے بھی ہمیں جوائن کیا۔اگلی شام میچ کی کوریج کے لئے جانا تھا تو میزبانوں نے کہا کہ ہم آپ کو ڈراپ کر دیتے ہیں اور میچ کے بعد پک بھی کر لیں گے۔ ہم نے منع کیا کہ سٹیدیم قریب ہے ہم پیدل جا سکتے ہیں لیکن وہ نہ مانے۔ میچ کے بعد انہوں نے پک بھی کیا۔چوتھے روز اگلے شہر نیپئیر روانگی تھی۔شام کی فلائٹ تھی دن قریباً دس بجے ناشتے کے دوران دونوں میاں بیوی نے ہمیں کہا کہ ناشتے کے بعد آپ سامان پیک کر کے گاڑی میں رکھ لیں اور ہم اکٹھے کرائسٹ چرچ کے ارد گرد سیر کریں گے جس کے بعد آپکو ائر پورٹ ڈراپ کر دیا جائے گا۔گیارہ بجے دن ہم گھر سے روانہ ہوئے۔سمندر کے کنارے پورٹ اور دیگر سیاحتی مقامات پر انہوں نے ہمیں چار گھنٹے تک گھمایا اور ساتھ ساتھ ان مقامات کے بارے میں تاریخ سے بھی آگاہ کیا، چار بجے شام انہوں نے ہمیں ائر پورٹ ڈراپ کیا اس وعدے کے ساتھ کہ آئندہ جب بھی یہاں آئیں گے تو انکے مہمان ہونگے۔ وہاں سے دل کو محبت سے خوب بھر کر روانہ ہوئے لیکن یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی ناہنجار، ظالم ایسا بھی اس شہر میں وارد ہو گا جو اسکے خوبصورت لوگوں کو اذیت میں مبتلا کرے گا۔ میرا کرائسٹ چرچ ایسا کبھی نہیں تھا اور نہ آئندہ ہو گا۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker