رؤف کلاسراکالملکھاری

چکوال کے پروفیسر غنی کا پرانا خوف : آخر کیوں ؟ / رؤف کلاسرا

پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری زبانی مہابھارت کے درمیان چکوال کے اپنے بیاسی سالہ دوست اور مشہور آسٹرولوجسٹ پروفیسر غنی پھر یاد آرہے ہیں ۔
دو سال قبل انہوں نے مجھ سے زبردستی ایک کالم لکھوایا تھا۔ سابق کمشنر اسلام آباد طارق پیرزادہ اور میرے بھائی سینٹر طارق چودھری گواہ ہیں کہ کتنی دفعہ میں نے کالم لکھنے سے پرہیز کیا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ کیا آسٹرولوجی کو لے کر ڈرانے بیٹھ گئے ہو لیکن پروفیسر غنی ہر دفعہ کہتے آپ لکھو۔ لوگوں سے نہ ڈرو کہ کیا کہیں گے۔ تمہیں وہی کہنا چاہیے جو اس ملک اور اس کے لوگوں کے لیے اچھا ہو ۔ جب بھی طارق پیرزادہ کے گھر محفل جمتی تو پروفیسر غنی گھوم پھر کر اپنی بات پر آجاتے کالم لکھو پاکستان کو انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اس دفعہ ہم پھر1971ء سے بھی کوئی بڑا نقصان نہ کرابیٹھیں۔ حالات بہت خراب ہیں۔
سینٹر طارق چوہدری اور پیرزادہ کی موجودگی میں وہ ہم سب کو سمجھاتے کیا کیا خطرات اس وقت پاکستان کو درپیش ہیں اور انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ آخر ایک دن میں نے ان کے کہنے پر وہ کالم لکھ دیا ۔ دنیا اخبار کے انہی ادارتی صفحات پر چھپ بھی گیا ۔ ملے تو پوچھا اب آپ خوش۔کہنے لگے چلو تم نے اپنا کام کردیا۔ سدھرنا ہم نے پھر بھی نہیں ہے لیکن چلو دل کو تسلی رہے گی کہ تم نے میرے کہنے پر لکھ دیا پاکستان کو اس وقت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اسے دنیا بھر کی فکر چھوڑ کر اپنے گھر کو درست کرنے کی ضرورت ہے ورنہ خطرات بہت ہیں ۔ پاکستان ہمسایوں کے ساتھ دشمنیاں ترک کر کے دوستیاں بنائے۔
وہ کب کا کہہ رہے تھے دنیا تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دو سال قبل ہی خبردار کر دیا تھا کہ دنیا میں بہت تبدیلیاں اور تباہیاں ہوں گی۔ ان کا خیال تھا دنیا ایک اور بڑی عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس وقت دور دور تک ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کا امکان نہ تھا ۔ تاہم پروفیسر غنی کو زیادہ فکر اس بات پر تھی کہ ان بدلتے حالات میں پاکستان کا بھی بہت نقصان ہوگا۔ پاکستان کو ایک طرف ہوکر یہ برا وقت گزارنا چاہیے۔ میں کہتا پروفیسر صاحب ویسے کون سا وقت ایسا گزرا ہے جب پاکستان بُرے اثرات سے نہیں گزر رہا تھا ۔ کون سا سنہری وقت تھا جب ہم نے سکون کا سانس لیا ہو۔ جب سے یہ ملک بنا ہے کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتا رہتا ہے۔ اگر دنیا ہمیں کچھ نہیں کہہ رہی ہوتی تو ہم خود آگے بڑھ کر مصیبت کہ گلے لگا لیتے ہیں۔ اپنا گھر چل نہیں رہا اور ہم چل پڑے ہیں اسلامی دنیا کی قیادت کرنے۔ وہ اسلامی دنیا ہمارے فوجی دستوں کو تو پسند کرتی ہے لیکن وہ سرمایہ کاری کے معاہدے بھارت کے ساتھ کرتی ہے۔اگر عربوں کو خون چاہیے تو وہ پاکستانی فوجی کا اچھا لگتا ہے لیکن اگر انہوں نے کاروباری فوائد دینے ہوں تو اس کے لیے انہیں بھارت اچھا لگتا ہے۔ ہم نے عربوں کے نام پر اسرائیل سے ایسی جنگ چھیڑ رکھی ہے جس میں ہمیں سراسر نقصان ہوا ہے۔ جن کی لڑائی تھی وہ کب کے تل ایبب میں سفارت خانے کھول کر بیٹھے ہیں اور ہم عربوں کی جنگ لڑ کر اپنا نقصان کررہے ہیں ۔ سوال یہ ہے اگر اہم مسلمان عرب ممالک بھارت اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھ سکتے ہیں اور وہ یہود وہنود کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے تو ہم ان کو فالو کیوں نہیں کرتے؟ ہم کیوں مسلسل حالت جنگ میں ہیں۔
ہمیں تو ایک بھارتی وزیراعظم مودی صاحب نے آگے لگایا ہوا ہے۔ مودی کو سمجھ آگئی ہے پاکستان کو کیسے ڈیل کرنا ہے۔ وہ ایک شرلی چھوڑ کر ہم سب کو پیچھے لگالیتا ہے۔ وہ ایک سکول بچے کی طرح bullying کررہا ہے۔ اسے پتہ ہے پاکستان کو کہاں تکلیف ہوگی لہٰذا وہ وہی رگ دبا رہا ہے اور ہم بھی فوراً بلک اٹھتے ہیں۔ جنرل راحیل ارمی چیف بنے تو انہیں بھڑکانے کے لیے مودی نے1965ء کی جنگ کوبھارت کی فتح کے طور پر پہلی دفعہ منایا کیونکہ جنرل راحیل کے ماموں عزیز بھٹی اسی جنگ میں شہید ہوئے تھے۔وہ ڈھاکا جا پہنچا اور وہاں اس نے کہا کہ بنگلہ دیش بھارت نے تخلیق کرایا تھا ۔ اس جنگ میں جنرل راحیل کے بھائی میجر شبیر شہید ہوئے تھے۔ یہ جان بوجھ کر مودی نے کھیل کھیلا تاکہ پاکستان میں آرمی کو غصہ دلایا جائے اور حسب توقع ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اس پر ردعمل دیا ۔ جنرل راحیل پورے تین سال ہندوستان کو دھمکیاں ہی دیتے رہے اور یہی مودی کا مقصد تھا کہ ہندوستان میں اس کی مقبولیت بڑھے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ٹکر لے رہا ہے اور سرحد پر گولہ باری شروع ہوگئی۔
کچھ وقت گزرا تو مودی نے دوبارہ چھیڑ خانی کا سوچا اور اس مرتبہ بلوچستان کے باغی بلوچوں کی بھارتی شہریت کی کہانی میڈیا میں چلوائی۔ ہم نے پھر بھاگ کر ردعمل دیا ۔ مودی کا مقصد ہمیں تکلیف پہنچانا تھا نہ کہ بلوچوں کو شہریت دینا۔ کچھ ماحول نرم ہوا تو پارلیمنٹ میں پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا بیان دلوایا دیا۔ مودی حکومت ہی کی نااہلی پر بھارتی عناصر نے پٹھان کوٹ اور اڑی میں کارروائیاں کیں تو اس کا نقصان بھی پاکستان کو ہوا،مودی کو مزید طاقت ور ہوئے اور انہوں نے بھارت میں یہ تاثر کامیابی سے دیا کہ وہ بھارت کے اکیلے محافظ ہیں جو پاکستان کو ڈیل کرسکتے ہیں ۔
اب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو مزید غصہ دلوانے کے لیے مودی نے حسینہ واجد کو بھارت بلا کر اس تصویر کے نیچے فوٹو کھنچوائی ہے جس میں جنرل اروڑہ پاکستانی فوج سے ہتھیار ڈلوانے کی دستاویزات پر دستخط کرارہے ہیں۔ یہ واضح میسج تھا مودی کا مقصد صرف پاکستان کو ہرٹ کرنا اور ہماری اسٹیبلشمنٹ کے زخموں پر نمک چھڑکنا تھا اور ہم نے فوراً مودی کی توقع کے مطابق ردعمل دیا ۔ اور فوری طور پر کچھ نہیں ہوسکتا تھا تو فوراً کلبھوشن کی سزائے موت کا ٹوئیٹ کردیاگیا ۔
کلبھوشن کی پھانسی مودی کو مزید طاقتور کرے گی جیسے ہمارے ہاں مودی کا ہر ردعمل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کرتا ہے۔ مودی ہندوستانیوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ جنگ لڑے بغیر ہی پاکستان کو ٹارچر کرسکتا ہے اور اس کے پیروکاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیل کر ہندوستان پر کئی برس اقتدار پر رہنے کی پلاننگ کر کے بیٹھا ہے اور درست نشانے پر تیر لگا رہا ہے۔ پاکستان جتنا مودی کے خلاف ردعمل دے گا مودی اتنا ہی بھارت میں طاقت پکڑ ے گا ۔ مودی کے طاقتور ہونے کا پاکستان پر یہ اثر ہوگا کہ ہمارے ہاں سیاست اور سیاستدان مزید کمزور ہوں گے۔ فوجی قیادت مضبوط ہوگی کیونکہ عام پاکستانی یہ سمجھتا ہے اسے مودی کے ہندوستان سے فوج ہی بچاسکتی ہے۔ جب کہ عام ہندوستانی سمجھتا ہے پاکستان کو سبق مودی سکھا سکتا ہے۔اب آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں پاکستان اور ہندوستان میں جاری اس کشمکش کو فائدہ کس کو ہورہا ہے اور کیسے دائیں بازو کی قوتیں ایک دوسرے کو کندھا دے رہی ہیں۔
باقی میرے بھارتی دوستوں کو سمجھنا ہوگا قوم پرستی ایک حد تک اچھی لگتی ہے۔ اگر یہ قوم پرستی سے نسل پرستی اور پھر نسل کشی کا درجہ اختیار کر لے تو پھر ان معاشروں کا وہی حشر ہوا کرتا ہے جو جرمنی کا ہوا تھا ۔ جرمن بھی کبھی ایک ایسے انسان کو اپنا لیڈر چن بیٹھے تھے جو انہیں پوری دنیا پر حکمرانی کا خواب دکھا رہا تھا چاہے کتنا لہو بہانا پڑے۔ مجھے خطرہ ہے بھارت بڑی تیزی سے جرمن اسٹائل کے نیشنلزم کی طرف طرف چل رہاہے لیکن یہ طے ہے اگر پاکستان نے اپنے ردعمل اور ایکشن درست نہ کیے تو اس آگ کی لپیٹ میں جلد یا بدیر ہم بھی آئیں گے۔
پروفیسر غنی کی بات کو غور سے سنیں۔۔دنیا کی چھوڑیں ، پاکستان کی سوچیں اور اندھا دھند فیصلے اورردعمل سے گریز کریں۔۔۔اور ہمسایوں کو دوست بنائیں ۔
وزیراعظم مودی کی ان سکول بوائے ٹائپ چالوں کو سمجھیں جو پاکستان کو bully کر کے مزے لے رہا ہے۔ ہم ہر دفعہ اس کی توقع کے مطابق ردعمل نہ دیں تو بہتر ہو گا ۔ پاکستان کا کبھی کبھار فورا ًردعمل نہ دے کر مودی کو مایوس کرنے میں بھی ہرج نہیں ۔ ہم ایٹم بموں کی دھمکیاں دے کر دراصل مودی کا کام آسان کر کے اس کے ہندوستان پر کئی برس مزید حکومت کرنے کی راہ ہموار کررہے ہیں ۔
پروفیسر غنی کی پریشانی اپنی جگہ لیکن ان کا مشورہ ہندوستان اور پاکستان جیسے روایتی معاشرے میں بھلا کس نے سننا ہے جہاں صدیوں سے یہ رواج چلا آرہا ہے ہمارے گھر کی دیوار گرتی ہے تو گر جائے، ہمسائے کے گھر کا صحن تو ملبہ سے بھر جائے گا ۔

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker