رؤف کلاسراکالملکھاری

اسلام آباد کی بربادی۔۔رﺅف کلاسرا

محفل ارشد شریف کے گھر پر برپا تھی اور اس دفعہ دوستوں کے اس گینگ میں ہمارے محترم کالم نگار ایاز امیر شریک تھے۔ خاور گھمن‘ ضمیر حیدر‘ عدیل راجہ‘ علی‘ شاہد بھائی … وہی پرانا گینگ اور پرانے دوست۔
ایاز امیر اب لاہور کی بجائے اسلام آباد سے دنیا ٹی وی کے پروگرام تھنک ٹینک میں شرکت کرتے ہیں۔ ان کے پچھلے کالم میں جو اسلام آباد کے دنوں کا نقشہ کھینچا گیا اور ان کی شام کی تنہائیوں کا ذکر ہوا تو اس کے بعد ہم دوستوں نے یہی کہا کہ وہ پھر ویک اینڈ پر وقت نکالا کریں ‘ چلیں گزرے دنوں کی یادیں ہی تازہ کر لی جائیں اور گزرے دنوں کی کہانیاں سنی جائیں۔
آج کی نئی نسل شاید ایاز امیر کو اس طرح نہیں جانتی جو میری اور ارشد شریف کی نسل جانتی ہے۔ ہم ابھی صحافت میں بھی نہیں آئے تھے جب ایاز امیر کے انگریزی اخبار میں کالموں کی دھوم تھی۔ ان کے کالموں کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا تھا۔ پاکستان میں اگر کوئی جینوئن کالم نگار پیدا ہوا ہے تو وہ ایاز امیر ہیں‘ جن کی انگریزی زبان پر کمانڈ کا شاید ہی کوئی مقابلہ کر سکے؛ تاہم اس وقت سب کو دھچکا لگا تھا جب انہوں نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ہمارے جیسے ان کے مداحین کے لیے یہ بر ی خبر تھی‘ کیونکہ ہم اعلیٰ پائے کے لکھاری سے محروم ہوگئے تھے۔ ان کے والد صاحب سیاستدان تھے‘ لہٰذا سیاسی گدی کا تقاضا تھا کہ وہ سیاست جوائن کرتے۔ اپنے مداحین کی مجبوریوں پر انہوں نے خاندانی مجبوریوں کو ترجیح دی۔ ان کی سیاست سے ہمارے جیسوں کو زیادہ دلچسپی نہیںتھی؛ تاہم ایک دن مجھے ان کو سیاسی طور پر سنجیدگی سے لینا پڑا اور ان کی عزت میری نظروں میں بڑھ گئی۔
پارلیمنٹ میں وہ دن تھا‘ جب پورے ہاﺅس پر دہشت چھائی ہوئی تھی۔ بڑے بڑے وزیروں اور ایم این ایز کی شکلوں سے خوف ٹپک رہا تھا۔ کسی میں جرات نہ تھی کہ ایک لفظ زبان سے ادا کرسکتا۔ وہ دن تھا جس دن ریاستِ پاکستان قانونی طور پر ریاست کے اندر ایک اور ریاست قائم کرنے کی اجازت دے رہی تھی۔ ایک دن پہلے ہی طالبان کے ترجمان مسلم خان ٹی وی پر یہ دھمکی دے چکے تھے کہ کسی ممبر پارلیمنٹ نے اگر اس نئے قانون کے خلاف ووٹ ڈالنے کی جرات کی تو اس سے نپٹ لیا جائے گا۔ انہی دنوں سوات اور دیگر علاقوں میں نقاب پوش نظر آتے تھے۔ مولانا فضل الرحمن یہ بڑھک مار چکے تھے کہ طالبان مارگلہ کی پہاڑیوں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اور اس وقت کی فوجی قیادت ‘سب اس پر تیار تھے کہ طالبان کے ساتھ ان کی مرضی کا معاہدہ کیا جائے۔ مالاکنڈ اور سوات کے علاقوں میں لوگوں کو لٹکایا جا رہا تھا اور کوڑے مارے جارہے تھے‘ ہر کوئی خوفزدہ تھا۔ اس دن جب پارلیمنٹ میں اس بل کو پیش کیا گیا تو کسی کو جرات نہ ہوئی کہ کھڑے ہو کر ریاست کے چند گروہوں کے آگے سرنڈر کرنے کو چیلنج کرتا۔ میں نے پریس گیلری میں بیٹھے پارلیمنٹ میں نظر دوڑائی تو ہر چہرہ ڈرا اور سہما ہوا تھا۔ میں حیرت سے دیکھتا رہا کہ مسلم خان کی دھمکی میں اتنا دم تھا کہ سب دبک کر بیٹھے تھے۔ میں یہ سوچتا رہا کہ اس پورے ہاﺅس میں ایک بھی ایسا بہادر بندہ نہیں جو مسلم خان سے ڈرے بغیر یہ بتا سکے کہ اس سرنڈر سے ریاست کو کیا نقصان ہوگا ‘ ملک پر جتھوں کی حکومت ہوگی اور کوئی بھی بندوق لے کر ریاست پر چڑھ دوڑے گا اور یہ کہ یہ پارلیمنٹ ایک غلط روایت قائم کررہی ہے۔ یہ کیسے ممکن تھا؟
اس وقت ایاز امیر‘ جو ایم این اے تھے‘ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک ایسی تقریر کی جو میرا خیال تھا برسوںیاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے جس ذہانت اور بہادری کے ساتھ اس ڈیل کے خلاف گفتگو کی وہ اپنی جگہ جہاں قابلِ تعریف تھی وہیں ان کی بہادری کی بھی مظہر تھی۔ میں نے فوراً نوٹ بک سنبھالی اور ان کی تقریر کے پوائنٹس لینے شروع کیے۔ مجھے پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کرتے اٹھارہ برس ہوگئے ہیں اور میں نے بہت بہترین تقریریں وہاں سنی ہیں‘ لیکن مجھے کہنے دیں کہ اگر مجھے کبھی پارلیمنٹ میں کی گئی ان تقریروں کو نمبرز دینے پڑیں تو میں سب سے پہلے اسی تقریر کو رکھوں گا۔ جن حالات میں وہ تقریر کی گئی تھی وہ اپنی جگہ ایک ایسا کارنامہ تھا جو میرے خیال میں عام بات نہیں تھی۔ اس کے لیے بہت کردار اور بہادری چاہیے تھی‘ جو اس دن ایاز امیر صاحب نے دکھائی۔ ارشد شریف کے گھر بیٹھے میں نے انہیں وہ تقریر یاد کرائی تو وہ اتنا بولے کہ میری خوش قسمتی کہ تم اس دن پریس گیلری میں موجود تھے‘ ورنہ کسی نے نہ اس تقریر کو نوٹ کیا اور نہ ہی اگلے دن اخبار میں رپورٹ کیا۔
بات چل پڑی اسلام آباد کی‘ کہ وہ شہر نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ میں نے یاد کیا کہ جب میں ملتان سے اسلام آباد انگریزی اخبار میں ٹرانسفر ہو کر آیا تو کیسا شاندار کلچر تھا ڈان کے بیوروآفس کا۔ ضیا الدین صاحب بیوروچیف تھے‘ احمد حسن علوی صاحب‘ حسن اختر صاحب‘ ناصر ملک ‘رفاقت علی‘ احتشام الحق ‘ فراز ہاشمی‘ انصار عباسی‘ اکرام ہوتی‘ محمد یٰسین‘ محمد الیاس ‘ فرزانہ‘ عرفان رضا… ڈان کا دفتر ایک کلچر کا نام تھا ‘ ایک تہذیب۔ شام کو برکی صاحب آتے اور سب کو ڈانٹ پڑتی اور ہم سب سر جھکائے ان کی ڈانٹ ڈپٹ سنتے۔ بعد میں واشنگٹن سے شاہین صہبائی واپس آئے تو اسلام آباد دفتر کو چار چاند لگ گئے۔ میں نے شاہین صہبائی اور ناصر ملک سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔
اسلام آباد کے ہنگاموں اور بڑھتی ہوئی آبادی سے تنگ ایاز امیر کہنے لگے کہ انہیں اس وقت تک اس کا احساس نہ ہوا تھا جب ایک دن انہوں نے ایک مضمون پڑھا جس میں لکھا تھا کہ جنرل ضیا کے بعد ملک کی آبادی دس کروڑ بڑھ گئی ہے۔ کہنے لگے: جنرل ضیا کی خرابیاں اپنی جگہ لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے بعد آنے والے سویلین حکمرانوں نے کون سی دودھ کی نہریںبہا دیں۔ وہ تو کچھ ایسے اقدامات بھی نہ کر سکے جو کرنے چاہئیں تھے۔ اب کہاں رہا وہ اسلام آباد اور اس کا وہ سکون اور خوبصورتی جو کبھی اس شہر کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔ایاز امیر بتانے لگے کہ اب اسلام آباد کلر کہار کی طرف پھیل رہا ہے۔ خوبصورت علاقوں میں نئی نئی ہاﺅسنگ سوسائٹیاں اور فارم ہاﺅسز بن رہے ہیں۔ کہنے لگے: اب اسلام آباد کون رہے گا‘ بے ہنگم ٹریفک ‘ ہر طرف بڑھتی آبادی اور کسی کو کچھ احساس نہیں رہا کہ اس شہر کا کیا بنے گا۔ اب تو وہ ٹھیک ایک گھنٹہ پانچ منٹ کی ڈرائیو کے بعد اپنے گاﺅں پہنچ جاتے ہیں۔ شاید ان کے ذہن میں وہی یورپ کا ماڈل ہے‘ جہاں لوگ دن بھر شہروں میں کام کر کے شام کو شہر سے گھنٹے بھر کی ڈرائیوپر گھر چلے جاتے ہیں۔میں خود جب اسلام آباد آج سے بیس اکیس سال قبل آیا تھا تو اس شہر کی خوبصورتی سے بڑا متاثر تھا۔ ہر طرف ہریالی‘ سڑکیں خالی اور سکون آپ کو ملتا تھا۔ اگر دن گرم ہے تو شام تک بارش شروع ہوجاتی۔ کوئی بازار مارکیٹ دس بجے کے بعد کھلی نہ ملتی۔ دس بجے کے بعد ہوٹل کھلا نہ ملتا اور بہت بھوک لگتی تو پنڈی جانا پڑتا۔ اور پھر اچانک اس شہر کی آبادی بڑھنا شروع ہوگئی۔ کراچی کے حالات خراب ہوتے گئے تو وہاں سے لوگوں نے ہجرت کی اور شہر بھرنا شروع ہوگیا۔ اب آپ کو یہاں فاٹا اور خیبرپختونخوا سے آئے لوگ ملتے ہیں یا پھر بہاولپور اور لودھراں سے روزی کی تلاش میں۔ ساتھ ہی فقیروں اور بھیک مانگنے والے گروہوں نے شہر پر حملہ کر دیا ہے۔ آپ نے کبھی اسلام آباد میں نہیں سنا تھا کہ یہاں کوئی ٹریفک جام میں پھنس گیا ہو‘ اب ہر سڑک پر ٹریفک جام ہے۔ حیران ہوتا ہوں کہ بیس سال پہلے جس شہر کی آبادی دس لاکھ تھی وہ اب بائیس لاکھ سے اوپر چلی گئی ہے اور دن رات بڑھ رہی ہے۔ شہر میں نہ انڈسٹری ہے اور نہ ہی کوئی فیکٹری ‘پھر بھی لوگ ہیں کہ اس طرف رخ کررہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری نے لوگوں کو گاﺅں سے ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ آبادی بڑھنے سے اسلام آباد میں جرائم بڑھ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں اصول ہے کہ شہروں سے انکم دیہاتوں میں شفٹ ہونی چاہیے‘ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں شہر دیہاتوں کو لوٹتے ہیں اور دیہات سے پیسہ نکال کر شہروں میں لگایا جاتا ہے۔ پھر یہی کچھ ہوگا جو پہلے کراچی میں ہوا‘ پھر لاہور اور اب اسلام آباد میں۔شہر پھٹتے جارہے ہیں اور کسی کو کچھ احساس نہیں۔ ایک اسلام آباد شہر تھا اور بقول ایاز امیر‘ وہ بھی رہنے کے قابل نہیں رہا!
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker