رؤف کلاسراکالملکھاری

ہم سے ایک انقلابی لڑکی برداشت نہ ہوئی ۔۔ رؤف کلاسرا

آج کل بھارت میں مظاہرے ہورہے ہیں۔ شروع میں تو ان مظاہروں کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا ‘ لگ رہا تھا کہ مودی سرکار ان مظاہروں کودبا لے گی۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کوئی بھی حکومت جب نئی آتی ہے تو اس کے پاس تین ماہ ہوتے ہیں جسے ہنی مون پیریڈ کہا جاتا ہے‘ جب وہ جو چاہے کر گزرے‘ لوگ قبول کر لیتے ہیں۔مودی حکومت نے پہلا وار کشمیر پرکیااور وہی ہوا کہ بھارت کے اندر وہ احتجاج نہ ہوا جس کی توقع تھی۔ بھارت میں لوگ کشمیریوں کے حق میں باہر نکلے لیکن انہیں دبا لیا گیا۔ یوں رائٹ ونگ کی حکومت نے بھارت میں ان لبرل آوازوں کو دبا لیا جو کبھی کھل کر بات کرتی تھیں۔ بھارت میں دھیرے دھیرے خوف کی کیفیت پیدا ہو گئی ‘ پچھلے دنوں بھارت میں ایک سیمینار میں ایک بڑے صنعت کار نے وزیرداخلہ امیت شاہ کی موجودگی میں کہا کہ وہ اب ڈرتے ہیں حکومت پر بات کرنے سے کہ کہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوجائے ۔ہم نے دیکھا کہ اداکار اوم پوری نے بھی جب بھارتی پالیسی پر تنقید کی تو انہیں بھی دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں‘ اسی دبائو میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ بھارت کے بڑے اداکار نصیرالدین شاہ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا‘ جب انہوں نے اپنی رائے دی تو ہر طرف سے ان پر تنقید کے دروازے کھل گئے۔ ایک دفعہ عامر خان نے کہا کہ ان کی بیوی اپنے بیٹے کو بھارت میں پروان چڑھانے سے خوفزدہ ہے۔ اس پر بھی خاصا ہنگامہ ہوا۔ جس نے بھی بھارت میں مودی سرکارپر بات کرنے کی کوشش کی تو فوراً اس پر رائٹ ونگ کے میڈیاسیل کھول دیے گئے اور ٹی وی چینلز پر ان کے خلاف زہر اگلاجانے لگا۔
میڈیا کسی بھی معاشرے میں اہم رول ادا کرتا ہے کہ یہاں ہر طرح کی آوازوں کو جگہ ملتی ہے‘ لیکن کچھ عرصے سے دیکھا گیا ہے کہ بھارتی میڈیا نے ہر طرح سے ان آوازوں کو دبانا شروع کر دیا ہے‘ جنہوں نے سیکولر بھارت کی بات کی۔ جس نے بھی امن کی بات کی تو اسے طعنہ دیا گیا کہ وہ پاکستان چلا جائے۔ ایک بھارتی صحافی کی میں ٹوئٹ پڑھ رہاتھا جس میں وہ کہہ رہی تھیں کہ وہ ایک دوست کے گھر اس کے بیٹے کی سالگرہ پر گئیں تو وہاں ان کے بیٹے نے ایک مسلمان لڑکے کو کہہ دیا‘ وہ بھارت چھوڑکر پاکستان چلا جائے۔ جس نے بھی مودی سرکاری پر تنقید کی کوشش کی اسے پاکستان کا ایجنٹ کہا گیا ۔ اگرچہ بڑے عرصے سے یہ سب کچھ ہورہا تھا اور مسلمانوں کو گائے کے نام پر ہجوم نے مارنا شروع کردیا تھا۔ دو‘ تین برس سے بھارتی معاشرے میں یہ سائن اُبھر رہے تھے کہ اب وہاں جمہوریت یا سیکولرازم کی بجائے ہندوتوا کا راج لانے کی کوشش کی جارہی تھی۔ ہم خود حیران تھے کہ بیٹھے بیٹھائے بھارتی معاشرے کو کیا ہوگیا۔ بھارتی دوست اور دانشور ہم پاکستانیوں کو طعنے دیتے کہ پاکستان میں ہر طرف نفرت ہی نفرت ملتی ہے ۔ جو بھارت آج نظر آتا ہے یہی ہمارا حال 1980ء کی دہائی میں ہوچکا تھا‘ جب جنرل ضیا پوری قوت کے ساتھ پاکستان پر حکومت کررہے تھے اوربھارتی ہمارا مذاق اڑاتے تھے کہ تم لوگوں نے سیکولرزام کی بجائے مذہبی ریاست بنا کر اپنے لیے مشکلات پیدا کر لی ہیں۔
بھارت کو اس سٹیج پر لانے میں بھارتی میڈیا نے بہت کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری مسلسل کشمکشں کو بھارتی میڈیا نے ضرورت سے زیادہ ہائی لائٹ کیا۔ بھارت میں اگر کوئی باتھ روم میں بھی پھسل کر گرا تو اس کا الزام بھی پاکستان پر لگادیا گیا ۔ بھارتی عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر بٹھا یا گیا کہ پاکستان میں ہر بندہ کلاشنکوف لے کر پھر رہا ہے ‘ اس لیے جب بھارتی پاکستان آتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ یہاں تو سب نارمل لوگ رہتے ہیں‘ جنہیں اگر یہ پتہ چل جائے کہ وہ بھارت سے آئے ہیں تو وہ نہ صرف کرایہ لینے سے انکاری ہوجاتے ہیں‘بلکہ چائے ‘کھانے کا بل اور شاپنگ کے پیسے تک نہیں لیتے؛چنانچہ ایک نہیں کئی بھارتی یہاں سے متاثر ہوکر گئے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں اطراف سے جنگیں لڑی گئی ہیں‘ جس سے دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے قریب آنے کی بجائے ایک دوسرے سے دور ہو گئے ‘یوں عوام کو ایک دوسرے کے نام پر گمراہ کرنا آسان ہوگیا ۔ پہلے حکومتیں ایک دوسرے سے نفرت کرتی تھیں‘ لیکن اب سوشل میڈیا ٹوئٹر اور فیس بک کی وجہ سے یہ نفرت عوام میں بھی پھیلی۔ ٹوئٹر پر جس طرح پاکستانی اور بھارتی ایک دوسرے کو گالی گلوچ کررہے ہوتے ہیں اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ نفرت کتنی گہری ہوچکی ہے اور سوشل میڈیا نے اس نفرت کو کم کرنے کی بجائے بڑھا یا ہے۔
بہرحال جس طرح بھارت میں اب نئے قوانین کے خلاف ردعمل آیا ہے وہ بھارت کے علاوہ پاکستانیوں کے لیے بھی حیران کن ہے۔ اگرچہ مجھے یاد ہے کہ عامر متین اکثر ٹی وی شو میں کہتے تھے کہ بھارت غلط طرف جارہا ہے ‘ ان کا خیال ہے کہ وہ مسلمانوں کو دبا لیں گے‘ لیکن یہ ہو نہیں پائے گا۔بیس کروڑ مسلمانوں کی آبادی زیادہ دیر تک یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکے گی۔ وہی ہوا‘ پہلے کشمیر کو لاک ڈائون کیا گیا‘ پھر بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا اور رہی سہی کسر اب شہریت کے حوالے سے نئے قوانین نے پوری کردی اور مسلمانوں نے کہا کہ بس بہت ہوچکا!
تاہم اگر اس مرحلے پر آپ بھارت کے سیکولر اور کھلے ذہن کے ہندوئوں کو داد نہ دیں گے تو زیادتی ہوگی۔جس طرح وہ سب باہر نکلے ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کے شانہ بشانہ احتجاج میں حصہ لیا ہے‘ وہ اپنی جگہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس سے اندازہ ہوتا ہے بھارتی خود بھی یہی محسوس کررہے تھے کہ اگر انہوں نے اس مرحلے پر مسلمانوں کو حمایت نہ دی تو بھارت میں سول وار شروع ہوجائے گی۔ مجھے یاد ہے کہ چند برس پہلے اپنے ٹی وی پروگرامز میں کئی دفعہ میں نے کہا تھا کہ جس طرح ہندوستان کو مودی سرکاری چلا رہی ہے یہ انہیں سول وار کی طرف لے جائے گا۔
ان ہنگاموں سے جو نئی چیز اُبھری ہے‘ وہ ہے ہندوستان میں ہندو اور مسلمان نوجوان لڑکیاں ‘جن کی سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز نے سب کو متاثر کیا ہے۔ اب تک میں ہندو اور مسلمان لڑکیوں کی کئی ویڈیوز دیکھ چکا ہوں کہ انہوں نے کیسے بہادری کے ساتھ ریاستی جبر کا سامنا کیا ہے۔ اب بھارت کے نیا چہرہ یہ نوجوان لڑکیاں ہیں جنہوں نے آگے بڑھ کر قیادت سنبھالی ہے۔ آپ کو ہر جگہ ان لڑکیوں کی بہادری اور سیکولر روایات کی کہانیاں نظر آئیں گی۔ ان ہندو اور مسلمان لڑکیوں نے سب کو متاثر کیا ہے۔ ان کی مزاحمت نے بہادری کے نئے باب رقم کیے ہیں۔
ویسے جہاں بھارت میں ہندو اور مسلمان لڑکیاں ایک سیکولر اور روشن خیال معاشرے کے لیے لڑ رہی ہیں‘ وہیں یاد آیا کہ پچھلے ماہ لاہور میں فیض امن میلے میں ایک لڑکی عروج اورنگزیب نے بھرپور آواز اور جوش میں ایک نظم پڑھ دی ”جب لال لال لہرائے گا تب ہوش ٹھکانے آئے گا ‘‘ جس پر یوں لگا جیسے آسمان گر پڑا ہو۔ سوشل میڈیا پر اس لڑکی کی مذمت کی گئی اور پھر ٹی وی شوز اور کالموں میں بھی اس پر تنقید کی گئی‘ اسے سی آئی اے اور بھارتی ایجنسی کا ایجنٹ قرار دے دیا گیا۔ ہر طرف سے اسے گالی پڑی کہ اس نے کیوں ایک روشن خیال معاشرے کی بات کی۔ پچھلے دنوں میں عروج کا انٹرویو دیکھ رہا تھا جس میں وہ اداس اور خاموش بیٹھی تھی۔ جب اس سے سوال کیا گیا تو وہ کچھ دیر چپ رہی اور پھر بولی: میں ایک سکول میں پڑھاتی تھی‘ سکول نے مجھے وہ انقلابی نظم پڑھنے پر نوکری سے نکال دیا ہے۔
بھارت میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں ہندو اور مسلمان لڑکیاں آگے بڑھ کر روشن خیال معاشرے کے لیے ریاست کا تشدد برداشت کررہی ہیں اور ہم سے ایک پاکستانی لڑکی کی ایک انقلابی نظم برداشت نہ ہوئی اور سب لٹھ لے کر اس کے پیچھے پڑ گئے اور اس کی نوکری ختم کرا کے چھوڑی۔ سیکولر معاشرہ ہمیں اچھا لگتا ہے‘ اگر وہ کینیڈا اور یورپ کا ہو۔ روشن خیال معاشرے کی روایات اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے ہندو لڑکیوں کی بغاوت اور مزاحمت ہمیں اچھی لگتی ہے‘ اگر وہ بھارت میں ہو۔سنیما میں ہیر رانجھا کی فلم ہمیں رُلا دیتی ہے‘ لیکن ہیر کسی اور گھرانے کی ہو ‘ہمارے گھر کی نہ ہو!

( بشکریہ : روزنامہ دنیا )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker