رؤف کلاسراکالملکھاری

میڈیا کی شامت قریب ہے؟ ۔۔ رؤف کلاسرا

آپ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں کہ آپ بائیس برس سے اسلام آباد میں رپورٹنگ کر رہے ہیں تو بتائیں آج کل وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں سب سے زیادہ اہمیت کن باتوں کو دی جاتی ہے؟ کون سے ایسے موضوعات ہیں جن پر ہر دفعہ ضرور بات ہوتی ہے اور حکومت کی کیا ترجیحات ہیں؟ میں ان سولہ ماہ کے کابینہ کے اجلاسوں کی کچھ تفصیل تک رسائی رکھتا ہوں۔ عمران خان کی اس حوالے سے تعریف ہونی چاہیے کہ انہوں نے نواز شریف دور کے پانچ سالوں بعد پہلی دفعہ کابینہ کے اجلاسوں کو ریگولر منعقد کرنا شروع کیا ہے۔
نواز شریف کبھی کبھار بھول کر اجلاس بلا لیتے تھے‘ ورنہ ہر دفعہ وہ بیرون ملک ہوتے تھے۔ انہوں نے چار سالوں میں ایک سو سے زائد ملکوں کا دورہ کیا۔ چھ چھ ماہ تک کابینہ کا اجلاس نہ ہوا، آٹھ آٹھ ماہ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں نہ گئے، سینیٹ ایک سال بعد ایک دفعہ گئے اور پھر اگلے تین سال سینیٹ میں دوبارہ قدم نہ رکھا۔
نواز شریف تیسری دفعہ وزیر اعظم بنے تو انہوں نے اپنی پرانی روایت برقرار رکھی اور مجال ہے کابینہ کو اہمیت دیتے ہوں۔ شاہد خاقان عباسی جب وزیر اعظم بنے تو انہوں نے کابینہ اجلاس کچھ ریگولر کرنے کی کوشش کی؛ تاہم ہم سب کو حیرانی اس وقت ہوئی جب عمران خان نے وزیر اعظم بنتے ہی کابینہ کے اہم فورم کو بہت اہمیت دی اور ہر ہفتے اجلاس ہونے لگے۔ ان اجلاسوں نے بینظیر بھٹو دور کی یاد دلا دی جو ہر ہفتے نہیں تو ہر پندرہ دن بعد اجلاس بلاتی تھیں۔
اگرچہ عمران خان اور بینظیر بھٹو کے کابینہ کے فورم کو استعمال کرنے میں کچھ بنیادی فرق تھے۔ مجھے ڈاکٹر ظفر الطاف نے بتایا تھا کہ جب بینظیر بھٹو وزیراعظم تھیں اور وہ اجلاس میں آتیں تو ان کے پاس ایک موٹی سی فائل ہوتی جس میں ان پندرہ دنوں کے اخبارات کی کٹنگز ہوتیں جن میں حکومت کے بارے میں خبریں ہوتیں، وزیروں کی خبریں ہوتیں اور وزارتوں کے بارے بھی جو کچھ چھپا ہوتا وہ پڑھ چکی ہوتیں۔ وہ فائل اپنے سامنے رکھتیں اور جس وزیر، وزارت یا سیکرٹری کے بارے میں وہ خبریں ہوتیں ان سے خود سوال و جواب کرتیں۔
ڈاکٹر ظفر الطاف کہتے تھے: سب وزیر اعظم سے ڈرتے تھے کہ نا جانے وہ ان سے کیا پوچھ گچھ کریں گی اور وہ انہیں کیسے مطمئن کریں گے کیونکہ وہ بہت ذہین خاتون تھیں اور ادھر ادھر کے جواز سے مطمئن نہیں ہوتی تھیں۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کے بقول‘ بینظیر بھٹو کسانوں کے حوالے سے بہت حساس تھیں کیونکہ ان کا سارا ووٹ بینک اندرون سندھ اور سرائیکی علاقوں میں تھا جہاں کسان بستے تھے‘ لہٰذا وہ سیکرٹری زراعت تھے تو ہر دفعہ ان کی شامت آتی تھی۔ وزیر زراعت نواب یوسف تالپور اور وہ ہر دفعہ کابینہ میں زیر عتاب ہوتے۔
یوں ہر وزیر اور سیکرٹری کو پتا ہوتا تھا کہ ہم نے ڈیلیور کرنا ہے‘ ورنہ اگلے ہفتے پوچھ گچھ ہو گی۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ میڈیا کو اپنے وزیروں کیخلاف استعمال کیا جائے تاکہ ان کی پرفارمنس بہتر ہو۔ اور یہ کہ میڈیا کو بہت ساری خبروں کا علم ہوتا ہے جو وزیر اعظم کو نہیں ہو سکتا۔ مجھے یادہے‘ ان دنوں میں جب کسی وزیر کے خلاف خبر لگ جاتی یا سکینڈل چھپ جاتا تو یوں لگتا تھا جیسے حکومت پر آسمان گر پڑا ہو‘ جبکہ نواز شریف کا ماڈل یہ تھا کہ سب اہم وزارتیں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں میں بانٹ دو اور پھر انہیں اس کام پر لگا دو کہ وہ اب ایسے کام ڈھونڈیں جن سے ان کی دولت میں اضافہ ہو۔
پچھلے دور میں اسحاق ڈار ہی اصل وزیر اعظم تھے، نواز شریف ڈمی لگتے تھے۔ ایک مرحلے پر تو ڈار چوراسی محکموں کی کمیٹیوں کے سربراہ تھے۔ شریف خاندان اس حوالے سے سب کچھ اپنے پاس رکھنے پر یقین رکھتا تھا۔ ہاں ایم این ایز کو کھلانے پلانے کیلئے کیپٹن صفدر کو بیس ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ دے کر کہا کہ بیٹا اب اس کو خود اپنے حلقے پر خرچ کرو یا کچھ بانٹ دو تمہاری مرضی۔ شریف ماڈل یہی تھا کہ وزیروں کو زیادہ سر پر چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ نواز شریف تو ایم این ایز کو بھی بہت فاصلے پر رکھتے تھے۔ جب وہ آٹھ آٹھ ماہ پارلیمنٹ ہی نہیں آتے تھے تو اندازہ کر لیں کہ ووٹ کو کتنی عزت دی جا رہی تھی اور پارلیمنٹ کو کیسے برباد کیا جا رہا تھا۔ جس دن نواز شریف پارلیمنٹ تشریف لاتے اس دن صبح سے ہی چینلز بریکنگ چلانا شروع کرتے کہ مبارک ہو آج بادشاہ سلامت تشریف لا رہے ہیں۔ اس پر درجنوں بیپرز ہوتے۔
اب جب سے عمران خان وزیراعظم بنے ہیں وہ ہر ہفتے اجلاس کر رہے ہیں‘ جس سے یقیناً کابینہ کی اہمیت بڑھی ہے۔ وہاں ہر وزیر بات کر سکتا ہے، ہر مسئلے پر بات ہو سکتی ہے، وزیر اعظم کو اہم مشورے مل سکتے ہیں اور یقیناً اس بحث سے ملک اور قوم کا فائدہ ہی ہوتا ہو گا؛ تاہم اگر ان کابینہ اجلاسوں میں ہونے والی گفتگو کے معیار پر جائیں تو آپ کو حیرانی ہو گی کہ بینظیر بھٹو کی پالیسی کے برعکس عمران خان اپنے وزیروں سے سوال و جواب کرنے کی بجائے الٹا انہیں بچانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
جس وزیر کے خلاف کوئی سکینڈل یا خبر آتی ہے وہ کابینہ میں جا کر الٹا چڑھائی کر دیتا ہے کہ دیکھیں جی ہم نے میڈیا کو سر پر چڑھا دیا ہے‘ ان کا کچھ بندوبست ہونا چاہیے۔ اب میڈیا کی بدقسمتی کہ کابینہ میں بیٹھے ہوئے اکثر وزیر میڈیا کی خبروں‘ سکینڈلز کا شکار ہوئے ہیں۔ ان کے اداروں کے خلاف خبریں چھپی ہیں، ان کے دوستوں کے کارنامے سامنے آ رہے ہیں لہٰذا شاید ہی کوئی ایسا وزیر بچ گیا ہو گا جس کے بارے میں خبریں نہ چھپی ہوں؛ چنانچہ جب ایک وزیر میڈیا پر برستا ہے تو سب اس کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ اور پھر وزیر اعظم خود اس بحث کا حصہ بن جاتے ہیں اور وزیروں کا حوصلہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان سے زیادہ دکھی تو وزیر اعظم خود ہیں اور اتنے دکھی ہیں کہ انہوں نے وزیر قانون فروغ نسیم کو یہ ہدایات دے رکھی ہیں کہ میڈیا کو زیادہ سے زیادہ سزائیں دینے کے لیے ایسے قوانین لائے جائیں کہ یہ سانس نہ لے سکے۔
اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے وزیر اعظم اور ان کے وزیر یاد دلاتے ہیں کہ دیکھیں سعودی عرب اور چین میں میڈیا کو جرأت نہیں ہوتی کہ حکومت وقت یا بادشاہ کے خلاف خبریں لگا کر دکھائے۔ یوں دھیرے دھیرے چینی میڈیا ماڈل ہماری کابینہ اور وزیر اعظم صاحب کا فیورٹ بن رہا ہے۔
منگل کے روز جو اجلاس ہوا‘ اس میں باقاعدہ کافی دیر تک میڈیا کے خلاف قوانین لانے پر بحث ہوئی۔ اب تو یہ بھی بات ہوئی کہ سوشل میڈیا کے خلاف بھی شدید کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس پر وزیر قانون نے فوراً اپنی بغل سے دو نئے ڈرافٹ نکال کر وزیروں میں بانٹ دیے اور کہا: بس اسے پڑھ کر یہیں واپس کر دیں، کوئی یہ ڈرافٹ کمرے سے باہر نہیں لے جائے گا۔ حالت یہ ہو گئی ہے کہ قوانین ایسے بنائے جا رہے ہیں جیسے کوئی چوری کی جا رہی ہو۔ بھئی آپ میڈیا اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے قوانین لا رہے ہیں تو اتنا چھپنے کی کیا ضرورت ہے؟ حکومت چاہتی ہے کہ جب بھی اسے کسی صحافی، ٹی وی چینل یا اینکر یا کسی سے سوشل میڈیا پر شکایت ہو تو فوری طور پر ایف آئی اے اسے گرفتار کر لے اور پیمرا اس چینل اور اینکر کے پروگرام کو بند کر دے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آگے ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا اور اینکرز کا کیا حشر ہونے والا ہے۔
سولہ ماہ میں شاید ہی کابینہ کا کوئی ایسا اجلاس ہوا ہو جس میں میڈیا کے خلاف گفتگو نہ کی گئی ہو یا نئے قوانین بنانے پر غور نہ کیا گیا ہو۔ یوں جو احتساب کرنے آئے تھے، جنہوں نے لٹیروں کو پکڑنا تھا، کروڑوں نوکریاں دینی تھیں، پچاس لاکھ گھر بنانے تھے، وہ میڈیا کا احتساب کرنے، چینلز بند کرانے، سوشل میڈیا کو سزائیں دلوانے تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ ان کا خیال ہے‘ میڈیا کو نکیل ڈال دی تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔
ہاں یاد آیا چند ماہ پہلے جب وزیراعظم صحافیوں سے ملے تھے تو انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا اگر عامر متین، رئوف کلاسرا اور محمد مالک ہماری حکومت کے سکینڈلز اور ناکامیاں ابھارنا بند کر دیں تو ایک ماہ میں ملکی معیشت آسمان کو چھو لے گی۔ ایک ماہ چھوڑیں اب تو چار ماہ گزر گئے ہیں اور سنا ہے عامر متین اور میرا ٹی وی پروگرام بند ہونے کے بعد معیشت اتنی ترقی کر گئی ہے کہ پوری دنیا پاکستان سے قرضہ لینے کیلئے قطار بنا کر کھڑی ہوئی ہے اور ہم پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر قرضہ دھڑا دھڑ بانٹ رہے ہیں۔

(بشکریہ :روزنامہ دنیا )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker