رؤف کلاسراکالملکھاری

قائداعظم سے نہرو تک ۔۔ رؤف کلاسرا

ہمارے ایک دوست‘ میرے اور عامر متین کے بارے میں پریشان رہتے ہیں۔ پہلے عامر متین کو سمجھانے کی کوشش کی، جب اثر ہوتے نہ دیکھا تو مجھے کافی پر بلاکر زندگی کے تجربات کا نچوڑ بتا کر سمجھایا کہ زندگی میں کچھ لچک رکھنی چاہیے۔میں ان کی محبت سے واقف ہوں‘ باتوں کا لطف لیتا رہا۔ ایک دن عامر متین کے سامنے ذکر چھڑ گیا کہ صحافی کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ عامر متین نے کہا: شاہ جی ہم بھی انسان ہیں‘ فرشتے نہیں لیکن جس صحافت کو ہم سمجھتے ہیں‘ وہ کرنی ہے تو اچھی طرح کریں ورنہ نہ کریں‘ میں کسی ایشو پر انیس بیس تو کر سکتا ہوں، پندرہ بیس نہیں ہو سکتا ورنہ ہم صحافی نہیں کچھ اور کہلائیں گے۔
یہ بات اس لیے یاد آئی کہ پچھلے دنوں عمران خان کا انٹرویو کرنے ایک اینکر بنی گالہ گئے تو باتوں باتوں میں ٹی وی شوز کا ذکر ہوا۔ عمران خان نے ہمارے شو کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آج کل رؤف کچھ سخت باتیں پی ٹی آئی کے بارے میں کر جاتا ہے، پتا نہیں اسے کیا ہو گیا ہے۔ہمارے صحافت کے استاد ہمیں سکھاتے رہے کہ صحافی کو ہر ایک سے ملنا پڑتا ہے لیکن اب میں نے یہ ملنا جلنا کچھ کم کر دیا ہے۔ ہاں ذرائع سے ملتا ہوں، ان کے نخرے اٹھاتا ہوں کیونکہ ان سے خبریں ملتی ہیں۔ ان سیاسی لیڈروں سے کیا ملتا ہے؟ عمران خان ہوں تو شاید چائے کی پیالی بھی نہ ملے۔ حکمران اور سیاستدان پروٹوکول اچھا دیں گے لیکن آپ سے وفاداری کی توقعات بھی رکھ لیں گے۔
عمران خان کی مجھ سے تھوڑی سی ناامیدی یا مایوسی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ میرے پروگرام دیکھتے دیکھتے مجھ سے کچھ توقعات باندھ بیٹھے ہیں جن پر شاید میں پورا نہیں اتر پا رہا لہٰذا انہوں نے باتوں باتوں میں‘ بڑے مہذب انداز میں گلہ کیا۔میں اب ایسی باتوں پر حیران بھی نہیں ہوتا۔ صحافت کے شروع کے سالوں میں میرے جیسے لوئر مڈل یا دیہی بیک گرائونڈ کے صحافی بڑے لوگوں سے تعلقات کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھتے تھے اور ابھی بھی۔ ایک خاتون ٹی وی اینکر اپنے وٹس ایپ پر نواز شریف کی صاحبزادی کا تعریفی میسج سب کو دکھاتی ہیں۔ میں نے کہا: محترمہ‘ اگر صحافیوں کی تعریف حکمران کریں تو سمجھ لیں کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ حکومت آپ پر تبرے پڑھے اور عوام آپ کی تعریف کرے تو پھر آپ اپنا حق ادا کر رہے ہوتے ہیں۔اگر ہم صحافی بڑے لوگوں سے متاثر ہو جائیں، ان کے ساتھ سیلفی کھنچوائیں یا ان کے تعریفی میسج اپنے کولیگز کو دکھاتے رہیں تو پھر سمجھ لیں کہ آپ کبھی ان لیڈروں کے اقدامات پر اپنی مناسب رائے نہیں دے سکیں گے۔ جب میں نے اپنے ٹی وی پروگرام کے لیے ٹیم بنانا شروع کی تو لگا کہ اس میں شامل اکثر نوجوان لڑکے لڑکیاں سیاسی طور پر عمران خان، زرداری، طاہر القادری یا نواز شریف سے متاثر ہیں۔ ان کے دلائل سن کر مجھے اندازہ ہوا کہ میں نے سیاسی پارٹی کے ورکرز بھرتی کر لیے ہیں۔ اب تین سال کی محنت کے بعد ان کے ذہنوں سے اپنے اپنے عظیم لیڈروں کا طلسم ختم ہو رہا اور سحر ٹوٹا ہے۔ اب وہ بہتر جرنلزم کر رہے ہیں۔
ان لیڈروں یا ان کے فالورز کو آپ کبھی نہیں سمجھا سکتے کہ اگر تنقید ہو رہی ہے تو اس میں آپ کا فائدہ کیا اور نقصان کیا ہے؟ کیا پارٹی کے اندر میڈیا ہاؤس، صحافی یا کالم نگار کی تنقید کا سائنسی جائزہ لینے کا سسٹم موجود ہے جو سے ثابت ہو کہ تنقید سے ہمیں فائدہ بھی تو ہو سکتا ہے؟ اگر نواز شریف وزیراعظم ہیں اور میں تنقید کرتا ہوں کہ وہ ایک سال تک سینیٹ نہیں جاتے، آٹھ آٹھ ماہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوتے یا چھ چھ ماہ کابینہ کا اجلاس نہیں بلاتے تو کیا میں نواز شریف کا مخالف یا بدخواہ کہلاؤں گا؟ یا خیر خواہ ہوں کہ ایسا مت کریں‘ ورنہ آپ کو نقصان ہو گا؟ یا اگر میں کہتا ہوں کہ عمران خان تبدیلی کے نام پر ماضی کے بیکار اور کرپٹ سیاسی کرداروں کو اپنی پارٹی میں نہ لائیں، نوجوانوں کے خواب نہ توڑیں، تو کیا میں بھٹک گیا ہوں؟اگر میں کہوں کہ عمران خان صوبے کی پولیس کا بے جا دفاع مت کریں تو کیا میں پٹری سے ہٹ گیا ہوں؟
اگر میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر تنقید کرتا تھا کہ وہ اپنے بیوی بچوں کو حکومتی معاملات سے دور رکھیں اور اپنا کلین سیاستدان کا امیج برقرار رکھیں تو کیا میں غلط کر رہا تھا؟اگر ہم کہتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی کو خدا نے بادشاہ بنایا ہے‘ وہ چاہیں تو چند ماہ میں نئی شروعات کر سکتے ہیں اور انہیں بطور وزیراعظم بڑے بڑے کنٹریکٹس چھوڑیں‘ کوئی چھوٹی موٹی حرکت بھی ایسی نہیں کرنی چاہیے جس سے شک ہو کہ وہ بھی اس گندے کھیل میں شریک ہیں‘ جو ان سے پہلے وزیراعظم کھیلتے آئے تھے، تو کیا میں غلط ہوں؟ یا میں نے راجہ پرویز اشرف کو اپنے مزاج کے برعکس‘ ان کے اصرار پہ مشورہ دیا تھا کہ انہیں گیلانی صاحب کے زوال سے سیکھ کر نہ صرف خود کو کلین رکھنا چاہیے بلکہ اپنے خاندان کو بھی وزیراعظم ہائوس سے دور رکھنا چاہیے تو کیا وہ غلط مشورہ تھا؟
یا پھر جو ہم شہباز شریف کے بچوں کے ہر سیکٹر میں پھیلتے ہوئے کاروبار دودھ، دہی، انڈے، شوگر اور پولٹری پر تنقید کرتے ہیں یا ان کے پورے پنجاب کے بجٹ کو صرف لاہور پر خرچ کرنے پر تنقید کرتے ہیں کہ جس سے دیہاتوں سے آبادی کا رخ لاہور کی طرف ہوگیا ہے اور وہاں ماحولیاتی مسائل کے علاوہ جرائم بھی بہت بڑھ گئے ہیں اور کچی آبادیاں بڑھ رہی ہیں تو کیا میں شہباز شریف کے ترقی کے ماڈل سے جلتا ہوں؟ یا دس برس میں شہباز شریف نے پولیس اور بیورو کریسی کا جو بیڑہ غرق کر دیا ہے ‘جس سے لوگ اب سڑکوں پر نکل کر پولیس سے لڑنے مرنے کو تیار ہو گئے ہیں‘ تو کیا میں کسی ایجنڈے کے تحت جان بوجھ کر انہیں بدنام کر رہا ہوں؟ یا پھر جو بری حالت سندھ میں ہو چکی ہے اور جرائم پیشہ لوگوں نے سیاست کا کور اوڑھ لیا ہے اور جس طرح لندن و دبئی میں کراچی اور سندھ کا بجٹ شفٹ ہو جاتا ہے تو ہم پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہیں کہ اپنی گورننس بہتر کرو، غریب سندھیوں کی زندگیوں میں بہتری لائو تاکہ انہیں آمریت اور جمہوریت میں فرق نظرآئے، تو یہ ہماری بدنیتی ہے؟ یا پھر ہم کہتے ہیں کہ بلوچستان میں ایم پی ایز کو ترقیاتی فنڈز کے نام پر خریدنے کی بجائے عام بلوچوں کی ترقی پر زور دیں تو بھی ہم غلط ہیں؟ کیا ہماری تنقید سے کوئی ذاتی مفاد جڑا ہے؟
مان لیتے ہیں کہ میرے ذاتی مفادات ہیں‘ تو کیا میں عمران خان، نواز شریف، زرداری، گیلانی یا راجہ پرویز اشرف پر تنقید کرکے ان کی جگہ وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل ہوا ہوں کہ جب تک ان سب کو ڈس کریڈٹ نہیں کروں گا، میرا چانس نہیں بنے گا؟یا پھر وہ سب ہماری تنقید سے اپنے گھر ٹھیک کرکے عوام میں بہتر امیج بنا کر زیادہ ووٹ لے کر وزیراعظم بن سکتے ہیں؟ ہم تو مفت میں ان کی مدد کر رہے ہیں کہ وہ فلاں کام غلط کر رہے ہیں، جس سے انہیں نقصان ہو گا۔ ہم تو ان سیاستدانوں کے دوست ہیں، دشمن کیسے بن گئے؟
اب اگر میں یہ کہتا ہوں کہ عمران خان کو بھارتی وزیراعظم نہرو کی مثال پر چلتے ہوئے اکیس لاکھ روپے خیبرپختونخوا حکومت کو ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر ادا کرنے چاہئیں تو اس میں میرا ذاتی فائدہ کیا ہے؟ وزیراعظم نہرو صاحب کو بھارتی پنجاب کے گورنر نے آج سے ساٹھ برس قبل خط لکھا کہ آپ کی بہن سرکاری ریسٹ ہائوس میں ٹھہری تھیں‘ ان کا بل ادا نہیں ہوا۔ نہرو نے بغیر برا مانے‘ اپنی تنخواہ سے چیک کاٹ کر بھیج دیا تھا۔ تو کیا اس سے نہرو کی شان گھٹ گئی تھی؟ اگر نہرو چند ہزار روپے بچا لیتا تو تاریخ کی کتابوں میں ذکر ہوتا؟ آج ساٹھ برس بعد میرے جیسا کوئی نہرو کے کردار کی جھلک اپنے کالم میں دکھا رہا ہوتا؟ کیا ہمیں بھی نہرو جیسے کرداروں کی ضرورت نہیں کہ برسوں بعد ہندوستان میں بھی کوئی صحافی ہمارے پاکستانی وزیراعظم یا سیاسی لیڈر کے کردار کی اس طرح مثال دے‘ جیسے میں دے رہا ہوں۔ یا ہم نے مان لیا ہے نہ ہم اعلیٰ کردار کے لوگ ہیں اور نہ ہی ہمیں ایسے اعلیٰ کردار کے لوگوں کی ضرورت ہے‘ جن کے حوالے دشمن بھی دیا کریں؟
نواز شریف کی طرح خود کو قائداعظم ثانی لکھوانا یا عمران خان کی طرح ہر تقریر میں قائداعظم کے حوالے دینا بہت آسان ہے لیکن قائداعظم کی طرح جیب سے زیارت ہاؤس بلوچستان کے آخری دنوں میں‘ گورنر جنرل ہوتے ہوئے بھی اپنے کچن کے بل کا چیک کاٹ کر دینا آسان نہیں۔ قائداعظم اورنہرو جیسے لیڈر کرگزرتے ہیں اور ہمارے سیاستدان ایسا لمحہ آنے پر آئیں بائیں شائیں کرکے ڈھیر ہو جاتے ہیں!
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker