رؤف کلاسراکالملکھاری

بے وقتی بانگیں!۔۔رؤف کلاسرا

وزیراعظم عمران خان جب صحافیوں کے ساتھ بریفنگ میں اوورسیز پاکستانیوں کو کہہ رہے تھے کہ وہ پاکستان میں ڈالرز سٹیٹ بینک میں رکھوائیں‘ کیونکہ روپے کی قدر گررہی ہے تو مجھے دو تین پرانی باتیں یاد آگئیں۔
پہلی بات وہ یاد آئی کہ جب 2018 ء کے الیکشن میں عمران خان کی پارٹی نے الیکشن جیتا اور ہم سب دوست ایک ٹی وی چینل کی لائیو نشریات میں شریک تھے ‘جس میں عارف نظامی‘ عامر متین‘ محمد مالک‘ ارشاد عارف‘ ڈاکٹر دانش ‘ ظفر ہلالی اور دیگر موجود تھے۔اس وقت بھی ڈالر کی بات ہوئی تھی۔اس کے بعد اب عرصے بعد حال ہی میں ورجینیا میں چند پاکستانیوں سے ملاقات یاد آئی‘ جس میں پھر ڈالر کا ذکر ہوا۔اب وزیر اعظم عمران خان کی اس اپیل اور ان واقعات کا ایک دوسرے سے کیا تعلق بنتا ہے؟
جب الیکشن نتائج کے بعد گفتگو کا رخ مختلف ایشوز اور چیلنجز کی طرف مڑا کہ عمران خان صاحب کو کس محاذ پر توجہ دینا ہوگی؟ تو میں نے کہا تھا کہ عمران خان کو وزیراعظم بنتے ہی سب سے زیادہ توجہ ڈالرز پر دینا ہوگی ‘کیونکہ اُن دنوں نگران حکومت ڈالر کا ریٹ ایک سو دس روپے سے بڑھا ایک سو چوبیس پر لے گئی تھی۔ اس وقت خطرہ موجود تھا کہ ابھی ڈالر مزید اوپر جائے گا کیونکہ پاکستان کے ڈالرز کے ذخائر بڑی تیزی سے کم ہورہے تھے اور لگ رہا تھا کہ روپیہ اپنی قدر مزید کھو دے گا۔ ہمیں اکثر طعنے دیے جاتے ہیں کہ ہم صحافی اور اینکر تنقید کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ‘لیکن حل نہیں بتاتے۔میرا ان دوستوں کو یہی جواب ہوتا ہے کہ صحافی کا کام مسائل کا حل بتانا نہیں‘ مسائل بتانا ہوتا ہے۔ مسائل کے حل کے لیے سیاستدان اور بیوروکریٹ ہوتے ہیں۔ فرض کریں کوئی مسائل کا حل بتا بھی دے تو کیا حکمران اور بیوروکریٹ ان کی بات سن کر عمل کر لیتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ میرا پچیس سال کا جرنلزم کا تجربہ یہی کہتا ہے کہ حکمرانوں کو کبھی مشورہ نہ دیں‘ نہ انہیں ضرورت ہوتی ہے اور نہ وہ اہمیت دیتے ہیں۔ پھر بھی میں دوستوں کو بتاتا ہوں کہ جب بھی کوئی صحافی کوئی مسئلہ اجاگر کرتا ہے تو اسی میں اس کا حل بھی موجود ہوتا ہے۔ جب آپ کہتے ہیں کہ فلاں بندے کی قمیض پر داغ ہیں تو اس بندے کو خود بخود اندازہ ہوجانا چاہیے کہ قمیص کو دھلوا لیں یا بدل لیں۔ کیا یہ بات بھی صحافی کے بتانے کی ہے؟
اس طرح جب حکومت کی نااہلی‘ کرپشن اور سکینڈلز کو ہائی لائٹ کیا جائے تو اس کا صحافی کو کیا حل پیش کرنا چاہیے؟ اس کا یہی حل ہے کہ وزیراعظم آفس میں بیٹھا بندہ ان سکینڈلز پر زیروٹالرنس سے کام لے۔ ان پر انکوائری آرڈر کرے اور ذمہ داروں کو سزا دے۔ اب یہ بھی صحافی وزیراعظم کو بتائے گا؟ یہ طے ہے کہ حکومتوں اور ان کے وزیروں کو سب پتہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے اور کن مسائل کا کیا حل ہے‘لیکن ان کی ترجیحات میں ان مسائل کا حل نہیں ہوتا کیونکہ اس پر کچھ محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس لیے ایک نیا نعرہ تشکیل دے دیا گیا ہے کہ صحافی مسائل بتاتے ہیں ان کا حل نہیں‘ لہٰذا انہیں سنجیدگی سے مت لو۔
لیکن بعض دفعہ آپ اپنے تجربے کی بنیاد پر کچھ ریڈنگ کر سکتے ہیں جیسے ایک اچھا آسٹرولوجر زائچے کی ریڈنگ کر کے آپ کو آنے والے دنوں کی خبریں سناسکتا ہے اسی طرح ہر فیلڈ کے بندے کو اپنی فیلڈ کے بارے ریڈنگ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے‘ اگر وہ اپنا ذہن اس میں کچھ خرچ کرے۔یہی وجہ تھی کہ2018 ء میں صاف نظر آرہا تھا کہ ڈالر کا ریٹ پاکستان کے لیے ایک بڑا ایشو بنے گا۔ بعض تو یہ بھی کہہ رہے تھے کہ وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں میں بہت مقبول تھے اور اکثر پاکستانی کہتے تھے کہ اگر عمران خان وزیراعظم بن گئے تو وہ پاکستان میں ڈالرز کی بھرمار کر دیں گے۔انہی باتوں کو ذہن میں رکھ کر میں نے الیکشن کی لائیو نشریات میں تجویز دی تھی کہ عمران خان صاحب کو اپنی پہلی تقریر میں یہ ضرور کہنا چاہیے کہ اوورسیز پاکستانی فوری طور پر ایک ایک ہزار ڈالر زیادہ بھیجیں۔ میں نے کہا کہ اگر عمران خان یہ اپیل نہیں بھی کرتے تو بھی اوورسیز پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ خود سے ایک ایک ہزار ڈالرز اپنے رشتہ داروں کو زیادہ بھیجیں۔ مجھے یاد ہے کہ دو تین گھنٹے اس لائیو پروگرام میں بیٹھنے کے بعد رات گئے بہت سے پاکستانی ایک ایک ہزارڈالرز بھیج کر مجھے رسیدیں ٹوئٹر پر ٹیگ کررہے تھے۔
میرا خیال تھا کہ عمران خان اپنی اس اپیل کو کوئی بڑی شکل دیں گے‘ فوری طور پر سٹیٹ بینک کو کہا جائے گا کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی بانڈز کا اجرا کرے گا اور اس پر دو تین فیصد منافع بھی دیا جائے گا۔ پاکستان کے تمام سفارت خانوں کو فوری طور پر ایکٹو کیا جائے گا کہ وہ زیادہ سے زیادہ اوورسیز کو وہ بانڈز خریدنے کی ترغیب دیں‘ کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کے آنے سے پاکستانیوں میں بہت جوش تھا کہ اب ملک راتوں رات ٹھیک ہوجائے گا۔ وہ پاکستان کے نام پر سب کچھ کرنے کو تیار تھے۔ چھ ماہ گزر گئے اور کہیں سے کوئی آواز نہ سنی۔ چھ ماہ بعد انہیں خیال آیا تو کہیں یہ سنا یا پڑھا کہ سٹیٹ بینک نے اب بانڈز جاری کیے ہیں۔ بانڈز جاری کرنے کے بعد پھر حکومت اور حکمران لمبی تان کر سو گئے کہ خود اوورسیز پاکستانی باہر سے ٹکٹیں کٹوا کر ائیں گے اور سٹیٹ بینک سے بانڈز قطار میں لگ کر خریدیں گے۔ اس وقت یہ رویہ رکھا جارہا تھا جیسے حکمران ان اوورسیز پاکستانیوں پر احسان کررہے ہیں‘ بانڈز فلوٹ کر کے۔
جب ڈالرز کی شارٹیج بڑھی تو پھر انہی پرانے حربوں کے ساتھ نئے حربے بھی اختیار کیے گئے۔ پرانا حربہ یہ کہ موٹر وے اور کراچی ائیرپورٹ گروی رکھ کر سکوک بانڈز کے اجرا کا سوچا گیا‘ تاکہ دو سو ارب روپے اکٹھے کیے جائیں اور آئی پی پی ایز کو ادائیگیاں کریں۔ دوسری طرف نیا کام یہ کیا گیا کہ ہاٹ منی کا تصور پاکستان میںلایا گیا۔ اس کے تحت پہلے ڈالر ریٹ کو ایک سو پچپن پر لایا گیا کہ اس سے نیچے نہیں لایاجائے گا‘ ساتھ ہی سود کو ساڑھے تیرہ فیصد پر لایا گیا۔ پھر دنیا کے بڑی بڑی سود خور کمپنیوں کو کہا گیا کہ اب آپ ہمیں تین ماہ کے لیے ڈالرز دیں اور اس پر تاریخ کا سب سے بڑا مارک اپ دیا گیا۔ اس پر سب چلاّئے کہ اس ہائی مارک اپ ریٹ پر لوکل اکانومی بیٹھ جائے گی۔ پھر کل کو اگر منافع کم کیا یا ڈالر ریٹ نیچے آیا تو یہ تین ارب ڈالرز نکال لیے جائیں گے اور ڈالر ریٹ بہت اوپر چلا جائے گا۔ اس وقت بہت دانشور پیدا ہوئے‘ جنہوں نے ہاٹ منی کا دفاع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی بینکوں سے دو فیصد سود پر قرضہ لے کر پاکستان کو آٹھ فیصد تک قرضہ ہاٹ منی کی صورت میں دے کر یا ر لوگوں نے باہر بیٹھے پاکستان سے ڈالرز کمائے ہیں۔ اب‘ جونہی انٹرسٹ ریٹ تھوڑا سا بھی کم کیا یار لوگ چھ سو ملین ڈالرز راتوں رات نکال کر لے گئے اور ڈالر ریٹ دس روپے بڑھ گیا ہے۔ یہ ہیں ہاٹ منی کے کرشمے۔
اب خان صاحب کو خیال آیا ہے کہ اوورسیز سے پیسے مانگیں۔ اُس وقت نہیں مانگے جب واشنگٹن میں تیس چالیس ہزار پاکستانیوں کے پرجوش مجمع سے انہوں نے خطاب کیا۔ وہ موقع تھا کہ وہ اپنے ساتھ سٹیٹ بینک کی ٹیم لے کر جاتے اور بانڈزخریدنے کی اپیل کرتے تو اس وقت بھی وہ ہاٹ منی سے زیادہ دو تین ارب ڈالرز اکٹھے کر سکتے تھے۔ اب وہ فرما رہے ہیں کہ پاکستان میں ڈالر کا ریٹ بڑھ رہا ہے‘ لہٰذا وہ ڈالر بھیجیں۔ اس وقت جو حالت پوری دینا کی اکانومی کی ہورہی ہے‘ اس میں ہمارے پاکستانی وہی پہلے والی شرح سے ڈالرز بھیجتے رہیں تو وہ بھی بڑی بات ہوگی۔
عمران خان صاحب نے دو اہم موقع گنوائے‘ جب وہ اوورسیز کے ذریعے پاکستان بڑی تعداد میں ڈالرز بانڈز کی شکل میں دو تین فیصد پر لا سکتے تھے۔ ایک الیکشن جیتنے کے فوری بعد اور دوسرے واشنگٹن میں ہزاروں کے مجمع کو خطاب کے وقت۔اب بے وقت کی بانگیں دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بے وقت اذان دینے سے مساجد آباد نہیں ہوتیں اور جو مرغ گاؤں میں بے وقت بانگیں دیتے ہیں ان کا جو انجام ہوتا ہے وہ آپ کسی گائوؤں والے سے ہی پوچھ لیجئے۔
میرے میں تو اتنی جرأت نہیں ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker