رؤف کلاسراکالملکھاری

ایک بیٹی کی ناکام جنگ۔۔رؤف کلاسرا

جب مشعل حسن نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے باپ کی موت کا مقدمہ لڑے گی تو سب سے زیادہ مخالفت اس کی ماں نے کی۔ ماں کا خیال تھا: ایک لڑکی کہاں اور کیسے اس معاشرے میں لڑ سکے گی اور اپنے باپ کے لئے انصاف لے پائے گی۔ مشعل کے والد صاحبزادہ حسن کو ہسپتال میں جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا‘ جس کے بعد ان کی وفات ہوگئی تھی‘ اس نے سب کو دہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہاں انسانوں کو انسان سمجھ کر علاج نہیں کیا جاتا۔ وہ سب پیسے بنانے کی مشینیں ہیں اور مشین کے دل میں جذبات اور احساسات نہیں ہوتے۔ مشعل کو بھی انہی مشینوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مشعل حسن کی کہانی میں نے مارچ میں لکھی تھی کہ کیسے اس کے والد صاحب ایک معروف ہسپتال میں چار گھنٹے تک دل کے دورے کے ساتھ موجود رہے اور چار گھنٹوں میں اس ہسپتال کا کارڈیالوجسٹ نہیں پہنچ سکا۔ ان کی موت جن حالات میں ہوئی وہ بہت سارے لوگوں کے لیے دکھ کا سبب بنی‘ جسے سوشل میڈیا پر بھی بہت اٹھایا گیا ہے۔
مشعل حسن تحریک انصاف کے بہت قریب رہی ہیں بلکہ قومی اسمبلی کی خواتین کی مخصوص سیٹوں پر ان کا نام بھی پارٹی کی طرف سے دیا گیا تھا۔ ان کا نام اٹھارہویں نمبر پر تھا جبکہ سترہ ایم این ایز لاہور سے ہی سلیکٹ کر لی گئیں۔ لاہور کی بیگمات کو ایم این اے بنا دیا گیا‘ اکیلی مشعل حسن نہ بن سکی۔ مشعل کا تعلق بہاولپور کے ایک قابل احترام خاندان سے ہے۔ پی ٹی آئی نے ووٹ تو سرائیکی علاقوں سے لیے لیکن خواتین کی مخصوص سیٹیں لاہور کے پوش علاقوں کے مکینوں میں بانٹ دی گئیں۔ مشعل، جہانگیر ترین کی ریسرچ ٹیم کا حصہ تھیں جس نے پانامہ اور الیکٹرول ریفارمز پر کام کیا۔ عمران خان صاحب انہیں ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ پانامہ کیس کی سماعت کے دوران وہ کئی ماہ تک روزانہ سپریم کورٹ جاتی رہی ہیں۔مشعل کا خیال تھا‘ وہ پڑھی لکھی اور باشعور ہیں لہٰذا وہ یہ کیس خود لڑیں گی؛ چنانچہ انہوں نے قانونی طریقے اپنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے پہلے اسلام آباد کی ڈسرکٹ انتظامیہ کو اپروچ کیا۔ دو تین دن تو انتظامیہ نے دلچسپی دکھائی لیکن اچانک یہ دلچسپی ختم ہوگئی۔ مشعل کو کچھ اندازہ ہوگیا تھاکہ ہسپتال کے خلاف قانونی کارروائی کرنا آسان نہ ہوگا۔
انہوں نے وزارت ہیلتھ میں قائم ہونیوالی نئی ریگولیٹری اتھارٹی میں اپنی شکایت درج کرائی‘ جس کے سربراہ کینیڈا سے لوٹنے والے ڈاکٹر سید علی حسین نقوی تھے۔ نقوی صاحب کا خیال تھا کہ وہ اس کیس پر زیرو ٹالرنس سے کام لیں گے اور یہ پہلا ان کا ٹیسٹ کیس ہوگا۔ وہ کینیڈا سے بہت کچھ سیکھ کر آئے تھے اور ہیلتھ سیکٹر میں کام کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ ان کی امسال فروری میں ہی تعیناتی ہوئی تھی۔ ریگولیٹری اتھارٹی کا کام ہیلتھ سیکٹر اور ہسپتالوں کے خلاف عوامی شکایات پر کارروائی کرنا تھا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اس منصب کیلئے ڈاکٹر صاحب سے بہتر کوئی انتخاب نہیں ہو سکتا تھا جو یورپی ماڈل پر اپنے اس نئے ادارے کو چلانا چاہتے تھے۔ پاکستان کو ایسے ہی اوورسیز پاکستانیوں کے علم، مہارت اور قابلیت کی ضرورت ہے کہ وہ وطن واپس لوٹ کر ہمارے پسماندہ اداروں کو جدید خطوط پر استوار کریں اور عوام کو انصاف دلانے میں کردار ادا کریں‘ لیکن ڈاکٹر صاحب جو کچھ سوچ کر پاکستان آئے تھے‘ پتہ چلا وہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔ ان کی تعیناتی ہوئی تو پتا چلا کہ نہ اس اتھارٹی کا دفتر ہے‘ نہ ہی سٹاف اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کوئی بجٹ یا فنڈز بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے وزارت اور دیگر جگہوں پر درخواستیں دینا شروع کردیں کہ اگر اس ادارے کو چلانا ہے تو کچھ بجٹ دیں، سٹاف بھرتی کریں۔ واقعی یہ بہت اہم ادارہ ہے کیونکہ پاکستان میں ہسپتالوں کو ریگولیٹ کرنے والا کوئی ادارہ نہیں ہے۔ یہ پہلا ادارہ ہے جو اس سلسلے میں 2018 میں قائم کیا گیا تھا۔ اب ان دو برسوں میں پہلے تو ڈیڑھ سال تک کوئی چیف ایگزیکٹو تک بھرتی نہ کیا گیا۔ ڈیڑھ سال بعد ایک چیف ایگزیکٹو لگایا گیا تو پتہ چلا کہ بجٹ نہیں ہے‘ نہ ہی سٹاف۔
اس دوران علی نقوی کو اسلام آباد کے دو ہسپتالوں کے خلاف شکایات موصول ہوئیں۔ اب ان کے لیے مسئلہ بن گیا کہ وہ ان شکایات کا کیا کریں۔ علی نقوی کے ضمیر نے کہا کہ اب انکوائری تو کرنا ہوگی۔ اب یہ بھی پہلی دفعہ ہوا ہوگا کہ ایک ادارے کا چیف ایگزیکٹو خود چل کر مشعل کے گھر گیا‘ ان کی پوری بات سنی اور انہیں انصاف کی یقین دہانی کرائی۔ اب چونکہ ان کے پاس اپنی ٹیم یا سٹاف نہیں تھا‘ لہٰذا ڈاکٹر نقوی نے رضاکار تلاش کیے جو انکوائری میں ان کی مدد کریں۔ اس دوران انہوں نے اپنی اتھارٹی کے نو رکنی بورڈ کو بھی بتایا کہ جناب یہ حالات ہیں جن میں وہ کام کررہے ہیں۔ اس دوران انہوں نے متعلقہ ہسپتال کو نوٹس بھیجا تو انہوں نے اپنا دفاع کرنے کے بجائے شکایت کنندہ مشعل حسن اور ان کی فیملی پر یہ الزام لگایاکہ وہ انہیں ہراساں کررہی ہیں، اور انہیں بلیک میل کرکے ان سے پیسے لینا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی اس نئی ریگولیٹری اتھارٹی کو یہ لکھ دیا گیا کہ وہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔ ریگولیٹری اتھارٹی کی رضاکاروں پر مشتمل انکوائری کمیٹی کی طرف سے انہیں کہا گیا تھا کہ مذکورہ ہسپتال سے ہرجانے کی رقم وصول کرنے پر بھی غور کریں۔ اس پر مشعل حسن نے کہا تھا کہ انہیں پیسے نہیں چاہئیں‘ ہسپتال اپنی غلطی اور نااہلی تسلیم کرے اور پھر اس کے والد کی موت پر سرعام معافی مانگے۔
اب چیف ایگزیکٹو کی طرف سے پانچ ماہ بعد ایک خط مشعل حسن کو بھیجا گیا‘ جس میں انہوں نے مشعل سے معذرت کی کہ وہ اکیلے ہی کام کر رہے ہیں اور بغیر ٹیم اور سٹاف کے وہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے‘ لہٰذا آپ کی انکوائری پر مزید کام نہیں ہو سکتا۔ یہ ہے وہ نیا پاکستان جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ دو سالوں میں وہ ایک اہم ادارے کو بجٹ نہیں دے سکے۔ پاکستان میں ہسپتالوں کے حوالے سے روزانہ شکایات آتی رہتی ہیں۔ اب اگر ایک ادارہ بن بھی گیا تھا تو پتا چلا کہ اس میں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جناب وزیر اعظم کو تو علم بھی نہیں ہوگا کہ کوئی ایسی ریگولیٹری اتھارٹی بنی ہوئی ہے۔ ظفر مرزا مشیر رہے لیکن اس اتھارٹی کو فنڈز نہ دلوا سکے۔ اب ڈاکٹر فیصل کو بھی شاید پتا نہیں ہوگا کہ ایسا کوئی ادارہ ہے جس کے پاس نہ پیسے ہیں اور نہ ہی سٹاف۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ پولیس، ایجوکیشن اور ہیلتھ ریفارمز حکومت کی ترجیحات ہوں گی۔ یہ ہے وہ ترجیح کہ جس ادارے نے ہسپتالوں کا احتساب کرنا تھا اس کے پاس کرسی‘ میز‘ دفتر اور سٹاف تک نہیں ہے۔ میرا خیال ہے ڈاکٹر صاحب کا جنون ٹھنڈا پڑگیا ہوگا جو وہ کینیڈا سے اپنے ساتھ لائے تھے کہ وہ پاکستان کو جدید لائنوں پر بدلنے میں رول ادا کریں گے۔ جناب وزیر اعظم ہمیں دن رات اوورسیز پاکستانیوں کی کہانیاں سناتے ہیں لیکن ایک پُرجوش اوورسیز پاکستانی کو مناسب عزت، فنڈز، دفتر اور ٹیم تک نہیں دی جا سکی۔
ستم ملاحظہ فرمائیں‘ اسی وزارت صحت کی ایک اور ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے آج ہی خبر چھپی ہے کہ اس کے پانچ ممبران کیلئے پانچ لگژری گاڑیاں خرید لی گئی ہیں۔ دس گاڑیاں پہلے زیراستعمال ہیں۔ یوں ایک ہی وزارت صحت کی ایک ریگولیٹری اتھارٹی نئی گاڑیاں خرید رہی ہے جبکہ دوسری ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس انکوائری تک کے لیے پیسے نہیں ہیں۔
جہاں ڈاکٹر علی نقوی کے اس ایماندارانہ خط کو سراہنا چاہیے وہاں داد جناب وزیر اعظم کو بھی دینی چاہیے جو دن رات فرماتے تھے: انہیں ایک دفعہ وزیراعظم بننے دیں پھر دیکھتے جائیں کیا کیا کرشمے ہوں گے۔ شاید ان کی مراد ایسے ہی کرشموں سے تھی۔ ہم لوگ ہی لفظ ‘کرشمے‘ کو غلط سمجھ بیٹھے تھے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker