رؤف کلاسراکالملکھاری

چینی سکینڈل کا انجام۔۔رؤف کلاسرا

اسلام آباد میں چند لوگ ہی ایسے بچے ہیں جنہوں نے میزبانی کی پرانی روایت برقرار رکھی ہوئی ہے۔ مہمان نوازی اور میزبانی ہر ایک کا ظرف نہیں۔ کھانا کھلانا فقیروں اور ولیوں کی روایت ہے۔غیاث الدین بلبن کے بارے کہا جاتا ہے کہ جب وہ بابا فرید گنج شکرؒ کے پاس حاضر ہوا تو بابا جی نے دیکھتے ہی کہا :تمہارے اندر ہندوستان کا بادشاہ بننے کی تڑپ ہے۔ بلبن جھک گیا اور کہا: آپ دعا فرمائیں ۔ بابا جی بولے: اللہ کے نام پر مال خرچ کرو اور لوگوں کو کھانا کھلایا کرو۔بلبن نے بابا کی نصیحت پر عمل کیا اور ہندوستان کا بادشاہ بنا ۔ پہلے زمانوں میں لنگر خانے‘ مہمان خانے اور سرائیں بہت مشہور ہوتی تھیں۔ وقت کے ساتھ لوگ سیانے ہوتے گئے کہ ہم کیوں دوسروں کو کھلائیں پلائیں یا اجنبی لوگوں کی میزبانی کریں ۔ یوں لنگر خانے اور مہمان خانے غائب ہوتے گئے‘ خیر اِکا دُکا لنگر خانے اب بھی چلتے ہیں ۔
اسلام آباد میں جو چند گھرانے مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں ان میں رانا جواد ‘ عامر متین‘ میجر عامر‘ نواب جوگیزئی‘ شاہد بھائی‘ ارشد شریف اورطارق پیرزادہ شامل ہیں ۔ میرے مرحوم دوست ظفر الطاف کے دستر خواں پر درجن بھر مہمان نہ ہوتے تو وہ نوالہ نہ توڑ پاتے۔ سب کی پلیٹوں میں خود کھانا ڈالتے اورآخر پر اپنی پلیٹ میں۔ اٹھارہ برس ان سے تعلق رہا اور انہیں کبھی اکیلے کھانا کھاتے نہ دیکھا ‘اسی طرح میجر عامر کے گھر پر روز درجن بھر مہمان ہوتے ہیں بلکہ لنگر خانہ چلتا ہے۔
کل رات رانا جواد کی برتھ ڈے پر ہم سب دوست اکٹھے تھے۔ عامر متین‘ کاشف عباسی‘ ہما علی‘ نسیم صدیقی‘ عاطف رانا‘ رانا فواد وغیرہ۔ رانا جواد جہاں خوب صورت دل کا انسان ہے وہیں بڑا جرنلسٹ بھی ہے۔ انہوں نے 1990ء کی دہائی میں لاہورمیں کرائم رپورٹنگ میں بڑا نام پیدا کیا ۔ انگریزی جرنلزم میں ان سے بہتر کرائم رپورٹنگ شاید ہی کسی نے کی ہو۔ اسی برتھ ڈے پارٹی میں ایک ٹیلی فون کمپنی کے اعلیٰ عہدے دار سے ملاقات ہوگئی۔ وہ پوچھنے لگے کہ اس ملک کا مسئلہ کیا ہے‘ ہمارے حکمرانوں اور بیوروکریٹس کو سامنے کی بات کیوں سمجھ نہیں آتی۔ میں نے پوچھا: خیریت؟ وہ بولے: ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں پاکستان ایک ارب ڈالر کما سکتا ہے۔میں نے کہا: دل چھوٹا نہ کریں اب پاکستانی حکمرانوں‘ ایلیٹ اور بیوروکریسی کو ملک سے دلچسپی نہیں رہی۔ یہ ملک ان کیلئے ایک چراگاہ ہے جس میں ہم سب چر رہے ہیں ۔ میں نے کہا: پاکستان کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی بیرون ملک شہریت لے چکی ہے۔ اکثریت نے اولادیں باہر شفٹ کر دی ہیں۔ جائیدادیں بیرون ملک خرید لی ہیں ۔ وہ سب اب پاکستان میں مال اکٹھا کر کے باہر بھیج رہے ہیں۔ کسی نے ان سے نہیں پوچھا کہ ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آرہا ہے کہ انہوں نے بیرون ملک اپنے بچوں کو سیٹل کر کے گھر تک خرید دیے ہیں۔ اب تو کچھ وفاقی سیکرٹری صاحبان بھی غیرملکی شہریت لے کر بیٹھے ہیں۔ جن لوگوں نے اس ملک کو چلانا ہے انہیں ہی اگر ملک پر اعتبار نہیں تو پھر آپ ان سے کیوں توقع کئے بیٹھے ہیں کہ یہ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے؟ یہ سب حکمران اور بیوروکریٹس بیرون ملک آتے جاتے رہتے ہیں‘ انہیں پتہ ہے دیگر ملک کیسے آگے نکل گئے ۔ کبھی کسی حکمران یا بابو نے وطن لوٹ کر کوشش کی کہ وہ پاکستان کو دبئی‘ لندن یا نیویارک بنائے؟ہمارے صحافی اور کالم نگار بھی بیرون ملک سے وطن واپسی پر اخبارات کے صفحات کالے کردیں گے اور ہمیں بتاتے رہیں گے کہ فلاں ملک میں یہ یہ ہوتا ہے‘ مگر جنہوں نے ملک کوترقی دینی ہے وہ یہاں سے لوٹ کر باہر لے جاتے ہیں‘ اوراگر ان پر ہاتھ ڈالا جائے تو ان لٹیروں کے سب سے بڑے ہمدرد صحافی‘کالم نگار اور اینکرز ہی ہوتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں پڑگئی۔ ہمارے ہاں کبھی صحافی اور سیاسی ورکر میں کچھ فرق تھا ‘ وقت کے ساتھ وہ ختم ہوگیا ہے۔ جیسے اب عام آدمی یہ نہیں جان سکتا کہ پی پی پی اور نواز لیگ کے درمیان کیا فرق ہے اس طرح سیاسی ورکر اور صحافی کا فرق بھی ختم ہوگیا ہے۔دونوں پارٹیاں ہمیں برسوں ایک دوسرے کی کرپشن کی کہانیاں سناتی رہیں ۔ رحمن ملک باقاعدہ پانامہ سکینڈل میں بننے والی جے آئی ٹی میں شریف خاندان کے کیس میں گواہ کے طور پر پیش ہوئے‘ بلکہ رحمن ملک نے سب سے پہلے لندن کے فلیٹس کی تحقیقات کرا کر باقاعدہ رپورٹ شائع کی تھی۔ آج وہی پیپلز پارٹی نواز شریف اور مریم نواز کی کرپشن کی سب سے بڑی محافظ بنی ہوئی ہے۔ دوسری طرف شہباز شریف نے زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنا تھا ‘ آج اسی آسمان کے نیچے شہباز شریف اور بلاول بھٹو اکٹھے پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ یہ وہی شہباز شریف ہیں جنہوں نے وزیراعلیٰ کے طور پر ایک دن بلاول بھٹو کی شریف خاندان کی کرپشن پر کہا تھا کہ برخوردار زیادہ باتیں نہ کیا کریں اگر آپ کے باپ کی کرپشن ہم نے بیان کرنا شروع کی تو کسی کو منہ نہ دکھا سکیں گے۔ اب دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر نعرے لگاتے ہیں۔
دوسری طرف عمران خان حکومت کی کارکردگی ملاحظہ فرمائیں ‘ پچھلے سال تک پاکستان نے گیارہ لاکھ ٹن چینی یہ کہہ کر بیرون ملک بیچ دی کہ پاکستان کے پاس وافر مقدار میں چینی موجود ہے۔ یہ چینی بیچنے کیلئے عوام کی جیب سے تین ارب روپے سبسڈی بھی ان مل مالکان نے لے لی۔ اب چھ ماہ بعد پتہ چلا ہے کہ چینی لاکھوں ٹن کم پڑگئی ہے اور یوں بیرون ملک سے کروڑوں ڈالرز خرچ کر کے منگوائی جارہی ہے اور ایک دفعہ پھر سبسڈی دی جارہی ہے۔ جب چینی باہر بھیجنے کی اجازت دی گئی اس وقت ریٹ پچپن روپے فی کلوتھا اور آج ایک سو روپے سے اوپر چلا گیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر نے فرمایا تھا کہ اگرفی کلو چینی ایک روپیہ اضافہ ہو تو پانچ ارب روپے عوام کی جیب سے اضافی نکل جاتے ہیں۔ اب ایک سال میں پچاس روپے فی کلو ریٹ بڑھ گیا ہے تو اندازہ کریں ڈھائی سو ارب روپے عوام کی جیب سے نکال لیے گئے ہیں۔ ایسا کوئی ملک ہوگا جہاں مشیر تجارت کابینہ سے یہ فیصلہ کرالے کہ ملک میں چینی بہت ہوگئی ہے لہٰذا باہر بھیج دیں اور بعد میں پتہ چلے کہ سب جھوٹ تھا ‘ وہ اعدادوشمار جعلی تھے جن کو بنیاد بنا کر یہ فیصلہ کرایا گیا۔اس ایک غلط فیصلے سے پاکستان اور عوام کو کتنا بڑا ڈاکہ پڑا ۔ تین ارب روپے سبسڈی ایک طرف پھر ایکسپورٹ سے چینی کی قیمت بڑھی اور اب شارٹیج کی وجہ سے سو روپے فی کلو سے اوپر چلی گئی ہے ۔ جہاں مقامی طور پر مل مالکان نے عوام کی جیب سے ڈھائی سو ارب روپے اضافی نکال لیے وہیں اب پاکستان ملین آف ڈالرز بیرون ملک سے چینی لانے پر خرچ کررہا ہے ۔ پاکستان ڈالروں میں مہنگے قرض لے رہا ہے اور وہ مہنگے ڈالرز اس چینی کی امپورٹ پر خرچ ہورہے ہیں جس بارے ہمیں پچھلے سال بتایا گیا تھا کہ ملک میں بہت وافر مقدار میں موجود ہے۔
میں نے کہا: آپ کو فکر پڑی ہے کہ یہ ملک ایک ارب ڈالرز کما سکتا ہے توکیوں نہیں کما رہا ۔ پچھلے سال ان حکمرانوں نے چینی اور گندم وافر کہہ کر باہر بھیج دی اور اس سال وہی چینی اور گندم ادھار پر لیے گئے ڈالرز دے کر واپس منگوا لی ہے ۔ اس کند ذہن اشرافیہ سے آپ یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ یہ ایک ارب ڈالرز ٹیلی کام سیکٹر سے کما سکتے ہیں تو کیوں نہیںکماتے؟ رانا جواد کی برتھ ڈے پارٹی میں موجود اس مہمان نے میری طرف ناقابلِ یقین نظروں سے دیکھا اور بولا: واقعی ایسے ہوا ہے؟ میں نے کہا: جی ایسے ہی ہوا ہے ۔وہ بولا: مجھے یقین نہیں آتا کہ ہمارے حکمران اتنے نااہل ہوسکتے ہیں ۔ میں نے کہا: سوری آپ کی پارٹی خراب کی لیکن محترم یقین کر ہی لیں!
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker