رؤف کلاسراکالملکھاری

رؤف کلاسرا کا کالم۔۔ایک چڑیا جیسی ہمت

اخترحسین گورچانی صاحب کا میسج ملا۔ان سے شاید آخری دفعہ ملاقات 2014ء میں اسلام آباد میں ہوئی تھی۔کچھ عرصے بعد وہ ریٹائر ہو کر اپنے آبائی گھر راجن پور چلے گئے لیکن گورچانی صاحب جیسے لوگ سرکاری نوکری سے ریٹائر ہو جائیں تو بھی وہ آخر تک زندہ رہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھ لیتے کہ بس اب جتنا جینا تھا جی لیا‘اپنا جو رول ادا کرنا تھا کر لیا‘ اب گھر بیٹھ کر انتظار کریں۔وہ گھر نہیں بیٹھے اور انہوں نے اپنے علاقے کے مسائل کے حل کیلئے کوششیں شروع کر دیں اور مختلف فورمز پر آواز اٹھانا شروع کردی۔ بلکہ یوں لگا جیسے وہ انتظار کررہے تھے کہ کب ان کی سرکاری نوکری ختم ہو اور وہ اپنے پس ماندہ علاقوں اور مظلوم لوگوں کی آواز بنیں۔اوہ سوری‘ میں اختر حسین گورچانی صاحب کا تعارف کرانا بھول گیا۔ وہ بلوچستان میں آئی جی پولیس رہے‘ ڈی جی آئی بی رہے اور پولیس میں اعلیٰ عہدوں پر برسوں کی سروس کے بعد ریٹائر ہوئے۔ یوں حکومت‘ گورننس‘ عدالت اور پولیس کے حوالے سے ان کا خاصا ایکسپوژر ہے۔اب ان کا چھ برس بعد مجھے ایک میسج ملا تو خوشی ہوئی کہ وہ اب بھی کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
گورچانی صاحب نے لکھا: ”رؤف بھائی! آپ کی مہربانی ہوگی اگر یہ اہم مسئلہ کسی روز اپنے پروگرام میں اٹھائیں۔ ہمارے سول اور کریمنل جسٹس سسٹم میں عوام الناس کیلئے انصاف کا حصول اتنا طویل عمل ہے کہ تھک ہار کر لوگ اپنے مقدمات کی پیروی سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔ سول مقدمات میں تو طوالت کی حد ہو جاتی ہے اور دادا کے دائر کئے کیسز کی پیروی پوتوں کو کرنا پڑتی ہے۔ چرچل نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران پے در پے شکستوں کے باوجود کہا تھا کہ جب تک برطانیہ کی عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں مجھے کوئی پریشانی نہیں۔ ہماری 80 فیصد آبادی کا واسطہ تحصیل اور ضلعی سطح پر موجود عدالتوں سے پڑتا ہے لیکن عدالتوں کی تعداد اس قدر کم ہے کہ جج صاحبان بمشکل مقدمات کی کارروائی گھسیٹ رہے ہیں۔ ایک سماعت کے بعد کیس کی اگلی پیشی کی تاریخ ڈھائی تین مہینے کے بعد دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقدمات کے فیصلے سالہا سال بعد جا کر ہوتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام الناس کو انصاف کی فراہمی کیلئے سول اور کریمنل کورٹس کی تعداد ہنگامی بنیادوں پر بڑھائی جائے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ملک میں احتساب عدالتیں تو بڑھائی جا رہی ہیں لیکن ضلع اور تحصیل لیول پر کریمنل اور سول کورٹس کی تعداد بڑھانے کیلئے بھی حکومت اور اعلیٰ عدالتیں توجہ دیں۔مجھے لمبی لمبی چھوڑنے کی عادت نہیں لیکن اگر کسی دن آپ مجھے اپنے پروگرام میں موقع دیں تو میرے پاس اس سول اور کریمنل جسٹس سسٹم میں انقلابی تبدیلی لانے کی آوٹ لائن موجود ہے جو میں آپ سے اور عوام الناس سے شیئر کر سکتا ہوں‘‘۔
میں نے گورچانی صاحب کی سنجیدہ اور ضروری باتوں کے جواب میں الٹا ایک لمبا چوڑا بھاشن دے ڈالا۔ میں نے کہا: گورچانی صاحب جو بات آپ کو راجن پور کے عام لوگوں کے مسائل دیکھ کر سمجھ آرہی ہے آپ کا کیا خیال ہے یہاں اسلام آباد‘ لاہور میں بیٹھے حکمرانوں اور دیگر اہم لوگوں کو سمجھ نہیں آتی؟سوال یہ ہے کہ اس سسٹم کو میں کیوں بدلوں گا جس کا مجھے براہ راست فائدہ ہورہا ہے۔ میں کیوں چاہوں گا کہ جس شاخ پر میں بیٹھا ہوں اور اپنا ایک خوبصورت گھونسلا بنایا ہوا ہے اسے خود گرا دوں یا وہ شاخ ہی کاٹ دوں یا درخت کو ہی جڑ سے اکھاڑ دوں؟میں نے کہا :تاریخ میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت عوام کو ہوتی ہے‘ کسانوں کو ہوتی ہے‘ مزدورں کو ہوتی ہے۔ اس لیے جدید دنیا میں صرف دو انقلاب ہی آئے ہیں جنہوں نے ان معاشروں کی حالت بدل دی‘ پہلے روس میں کسان مزدور طبقہ اُٹھا اور انہوں نے زار ِروس کے خلاف بغاوت کر دی اور ایسی بغاوت کی کہ زار کے خاندان پر جو کچھ بیتا اور ان کا جو حشر ہوا اس پر آج جب ایک سو برس بعد کتابیں پڑھیں یا فلمیں دیکھتے ہیں تو یقین کریں کہ رحم محسوس ہوتا ہے کہ کیسے زار کے پورے خاندان تک کو ختم کیا گیا ‘ بچوں اور عورتوں تک کو نہیں بخشا گیا۔ لوگوں کے اندر اتنا غصہ تھا کہ انہوں نے زار کے چھوٹے بچوں تک کو نہیں چھوڑا۔ اس طرح چین میں ہم نے دیکھا کہ جو انقلاب وہاں ماؤزے تنگ لایا وہ بھی عام کسانوں کا انقلاب تھا۔ اس سے پہلے فرانس میں انقلاب بھی عام لوگ ہی لائے تھے اور سب کو پھانسی پر چڑھا دیا یا پھر گلوٹین سے گلے کاٹ دیے۔کبھی آپ نے سنا یا دیکھا کہ حکمران طبقات اور اشرافیہ نے کوئی عوامی تحریک چلائی ؟حکمران طبقات تو ہمیشہ ان تبدیلیوں کی مزاحمت کرتے ہیں۔جو ہمارے حالات ہیں وہ سب کو سوٹ کرتے ہیں۔ ہمیں وہ آر پی او یا سی سی پی او اچھا لگتا ہے جو ہمارے ایک فون پر مرضی کا ایس ایچ او لگا دے۔ وہ اگر مجھے سمجھانے کی کوشش کرے گا کہ یہ مشکل ہے کیونکہ بندے کی رپیوٹیشن ٹھیک نہیں ہے تو میں اس سے ناراض ہوجاؤں گا کہ چھڈو جی اب آپ ہمیں میرٹ سکھائیں گے۔ پھر ہماری اس سے ناراضی پکی۔ میں نے کہا : ابھی عمر شیخ نے لاہور میں یہی کچھ کرنے کی کوشش کی ‘ سب ایس ایچ اوز کو بدل کر اچھی ریپوٹیشن والے لگا دیے تو سب ناراض ہوگئے۔ وزیراعلیٰ آفس الگ ناراض ‘ گورنر ہاؤس کے مکین بھی ناخوش تو مجھ جیسے اینکرز بھی بھڑک پڑے کہ ہمارے ایس ایچ اوز کیوں نہیں لگائے۔
اب بتائیں ان حالات میں ہم کیوں چیزیں ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے جن سے ہمیں نقصان ہو۔ ایک دفعہ ایک انتہائی قابل احترام پولیس افسر اوکاڑہ کے ڈی پی او لگے تو وہاں جرائم کی شرح تین ماہ میں نیچے گر گئی مگر تین ماہ بعد شہباز شریف نے اس افسر کا سیاسی سودا کیا اور علاقے کے دو تین آزاد ایم پی ایز کو پارٹی میں شامل کرنے کے عوض انہیں وہاں سے ہٹا کر کھڈے لائن لگا دیا۔ میں نے انہیں فون کر کے پوچھا کہ کیا راز ہے کرائم کنٹرول کرنے کا ؟ وہ بولے : بڑا آسان سا کام ہے‘ آپ جس علاقے میں لگتے ہیں وہاں کچھ اچھے پولیس اہلکار ضرور ہوتے ہیں جن کی کوئی سفارش نہیں ہوتی۔ آپ انہیں تھانوں کا ایس ایچ او لگائیں اور کہہ دیں کہ آپ جانیں اور آپ کا کام‘ میں آپ کو کسی ایم پی اے یا ایم این اے کے کہنے پر نہیں بدلوں گا‘مجھے صرف رزلٹ چاہیے۔ اگر ایس ایچ او کو یہ حوصلہ ہو تو یقین کریں وہ تھانہ اور علاقہ ٹھیک کر دے گا۔انہوں نے کہا: میں نے کچھ نہیں کیا‘ صرف چند اچھے افسر چنے اور انہیں تھانیدار لگایا اور انہیں اعتماد دیا‘انہوں نے تین ماہ میں اوکاڑہ کا جرائم ستر فیصد کنٹرول کر لیا۔ تو میں نے کہا :گورچانی صاحب اب مجھے بتائیں وہ افسر صرف تین ماہ ٹک سکا کیونکہ مقامی ایم پی ایز نے سودا کر لیا۔ اب بتائیں وہی ایم پی ایز اسمبلی میں کیوں ا یسے قوانیں یا انقلابی تبدیلی والے قانون پاس ہونے دیں گے جن سے ان کی چودھراہٹ پر فرق پڑے۔ اگر تھانہ کچہری‘ سب ٹھیک ہوگیا تو ان کے ڈیرے کیسے چلیں گے اور ان کو ووٹ کون دے گا؟ ہمارا تو سارا سیاسی اور حکومتی نظا م چل ہی اس کے سہارے رہا ہے جسے آپ بدلنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
گورچانی صاحب کچھ دیر خاموش رہے اور پھر بولے :رئوف بھائی پھر بھی ہمیں عام لوگوں میں شعور پیدا کرتے رہنا چاہئے۔ ہمیں بات کرتے رہنا چاہئے۔میں نے فون بند کیا اور گورچانی صاحب کی اس سوچ سے متاثر ہوا۔ مجھے حکایت یاد آئی کہ کیسے ایک چڑیا نمرود کی آگ کے الاؤ پر اپنی چونچ میں پانی بھر بھر کر اسے بجھا نے کی کوشش کررہی تھی جس میں وہ حضرت ابراہیمؑ کو جلانے کی کوشش کررہا تھا۔کسی نے پوچھا: تمہاری اس چونچ بھر پانی سے کیا آگ بجھ جائے گی۔ چڑیا نے جواب دیا : چلیں قیامت کے روز میں تو سرخرو ہوں گی کہ جو میرے بس میں تھا‘ میں نے کرنے کی کوشش کی ۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker