رؤف کلاسراکالملکھاری

رؤف کلاسراکا کالم:اندر کی خبر

اعجاز بھائی امریکہ کی ریاست جارجیا میں رہتے ہیں۔ملتان رہتے تھے‘یہاں کچھ بات نہ بنتے دیکھ کر امریکہ چلے گئے۔ وہاں دن رات محنت کی اور اب ماشاء اللہ بچوں کے ساتھ اچھی زندگی گزارتے ہیں‘ لیکن بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی اکثریت کی طرح یہاں کے حالات سے آگاہ رہتے ہیں اور اس پر دکھی بھی۔ان کا آج ایک میسج ملا تو کچھ جھٹکا لگا۔ کہنے لگے کہ پاکستان کی سیاست اور سیاستدانوں سے دل بھر گیا ہے‘ اب پاکستان کے ٹی وی شوز دیکھنے کو بھی دل نہیں چاہتا۔ کوئی شو لگا ہو تو میں اُٹھ کر سپورٹس یا کوئی امریکن چینل لگا لیتا ہوں۔ دو چار اور باتیں بھی لکھی ہیں جو یہاں نہیں لکھی جا سکتیں۔مجھے حیرانی اس لیے ہوئی کہ وہ برسوں سے سیاست کے دلدادہ ہیں۔ میرا ان سے رابطہ ہوئے شاید دس برس سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے لیکن اس طرح کا میسج کبھی نہ ملا۔ انہیں ہمیشہ سیاست کے بارے مثبت پایا۔ وہ ہم سب کی طرح اندرکی خبر کے بہت شوقین ہیں۔ اکثر میسج کر کے مجھ سے پوچھیں گے اندر کی کیا خبر ہے؟ میں لاکھ کہوں جو کچھ کالم میں لکھ دیا یا جو شو میں بول دیا وہی اندرکی خبر تھی لیکن پھر بھی اصرار کریں گے کہ نہیں اندر کی خبر بتائیں۔ وہ بھی بیرون ملک باقی پاکستانیوں کی طرح خان صاحب سے لاکھوں اُمیدیں لگائے بیٹھے تھے مگر جو کچھ پاکستان میں ہوتا دیکھ رہے ہیں اس کے بعد وہ ٹی وی شوز دیکھنا چھوڑ گئے ہیں۔ خان صاحب سے امیدیں وابستہ تھیں ‘ پھرپتہ چلا کہ بات وہیں جا پہنچی ہے جہاں سے چلی تھی۔ اعجاز بھائی کیلئے ایک آپشن یہ تھا کہ عمران خان جو کچھ بھی کررہے ہیں اس کی حمایت کی جاتی تاکہ خود اپنے انتخاب پر شرمندہ نہ ہوں۔ اپنی غلطی ماننا مشکل کام ہوتا ہے۔ یا دوسرا کام یہ کہ سب کچھ چھوڑ کر لائف کو انجوائے کیا جائے کہ بھاڑ میں گئی سیاست۔ اس طرح ایک اور دوست عارف الحق عارف کیلیفورنیا میں رہتے ہیں۔ کراچی میں برسوں اہم اخبارات میں صحافی کے طور پر کام کیا۔ اب ڈھلتی عمر میں بچوں کے ساتھ باہر رہتے ہیں لیکن ان کا دل بھی ہمیشہ پاکستان میں لگا رہتا ہے۔ وہ اپنے جرنلزم کے گزرے دنوں اور ساتھیوں بارے لکھتے رہتے ہیں جو دل کو چھو جاتا ہے۔ صحافی رہے ہیں لہٰذا لکھنے کا فن جانتے ہیں۔
عارف الحق عارف صاحب بھی اپنے دور کے صحافیوں اور صحافت پر لکھتے رہتے ہیں‘ اگر وہ اپنی یادداشتیں لکھیں تو کیا کمال قسم کی کتاب لکھی جائے جو ماضی کے بہت راز افشا کر دے۔ وہ اکثر حالاتِ حاضرہ پر لکھتے اور بولتے رہتے ہیں۔ وہ بھی پاکستان کے حالات دیکھ کر دکھی رہتے ہیں۔ انہیں بھی لگتا ہے کہ شاید حالات بہتر ہوتے لیکن وہیں کھڑے ہیں۔ ان کے ایک دوست ہیں جنید قاضی صاحب۔ وہ ایک بڑے کامیاب بزنس مین ہیں۔ان صاحب کا دل چرایا کہ وہ بھی پاکستان جا کر کاروبار کریں۔اب یہاں کاروبار کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ ان کی زندگی کا بدترین اور غلط ترین فیصلہ پاکستان جا کر کاروبار کرنا تھا۔ جنید قاضی کہتے ہیں کہ انہوں نے دنیا کے چار براعظموں میں مختلف قومیتوں کے لوگوں کے ساتھ کاروبار کیے لیکن جو تجربہ انہیں پاکستان میں ہوا وہ کہیں نہیں ہوا۔ لوگ جب انہیں پاکستان میں کاروبار کرنے کے حوالے سے اپنے تجربات سناتے تھے تو وہ یقین نہیں کرتے تھے لیکن اب جب انہیں خود تجربہ ہوا تو اندازہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں کہ اگر انہیں کسی ڈیل یا بزنس میں ایک سو روپے کا فائدہ ہورہا ہے اور ایک بندے کو کہتے ہیں کہ وہ اس میں سے اسے دس روپے دیں گے تو اس بندے کو خوشی نہیں ہوگی کہ اسے اس ڈیل میں دس فیصد شیئر مل رہا ہے بلکہ اس کو یہ فکر ہوگی کہ کس طرح پورے سو روپے کے پرافٹ کو خراب کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ آپ کو صرف اس ملک میں ملتے ہیں جو اپنے شیئر پر مطمئن ہونے کی بجائے اس فکر میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ کیسے آپ کا پرافٹ خراب کریں۔میرے ایک اور دوست بھی آج کل یہی سوچ رہے ہیں کہ امریکہ سے واپس آئیں اور یہاں پاکستان میں اپنا کوئی سیٹ اپ بنائیں۔ ان کی ملاقات ایک بڑے افسر سے ہوئی اور انہوں نے اپنا آئیڈیا شیئر کیا تو انہوں نے انہیں کہا کہ برسوں امریکہ میں رہنے کے بعد آپ کا مزاج اور طبیعت بہت بدل جاتے ہیں اور پاکستان میں وہ مزاج تو دور کی بات ہے آپ کو رویے تک نہیں ملتے اور اکثر لوگ کچھ عرصے بعد امریکہ واپس بھاگ جاتے ہیں کہ یار کہاں پھنس گئے۔
ہمارے حکمرانوں اور بیوروکریٹس کے پاس یہ آپشن موجود تھے کہ وہ اس ملک کو امریکہ اور یورپ بناتے۔ اکثر حکمران آپ کو بیرون ملک سے ڈگریوں والے ملے۔ ہمارے بیوروکریٹس نے بھی بیرون ملک بڑے اداروں سے ڈگریاں لیں‘ کورسز کیے۔ بیرون ملک سکالرشپس پر پڑھے یا حکومت پاکستان کو دیے گئے ورلڈ بینک کے کروڑوں ڈالرز قرضے پر بڑی بڑی یونیورسٹیز میں پڑھے۔سوال یہ ہے ان کے بیرون ملک سے پڑھ کر لوٹنے کا اس ملک اور عوام کو کیا ملا؟ ان سب نے باہر سے واپس آکر کیا ایسا کمال کیا کہ ہمارے لوگوں کی سوچ بدلی ہو‘ گورننس بدلی ہو‘ ہماری لائف کوالٹی پر کوئی فرق پڑا ہو؟دنیا بھر کے عوام ایک جیسے ہوتے ہیں۔ آپ کسی بھی ملک کی تاریخ دیکھ لیں‘ سب لوگ ایسے ہی تھے لیکن پھر ان اقوام کو لیڈرز ملے‘ ریفارمرز ہوئیں‘ اچھے بیوروکریٹس ملے جنہوں نے برسوں میں اپنے معاشرے بدلے‘ لوگوں کے ذہن بدلے‘ ان کے کردار بدلے اور یوں ملک بدل گئے جہاں آج ہم اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں کہ وہاں پڑھیں اور وہیں رہ جائیں کیونکہ ان کو وہاں بہتر زندگی ملے گی۔ اگر وہ اپنے وطن لوٹے تو ان کا وہی حال ہوگا جو جنید قاضی صاحب کا ہوا ہے کہ اس معاشرے میں انہیں وہی لوگ ملیں جنہیں اپنے دس روپے پرافٹ یا شیئر سے غرض نہیں بلکہ وہ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ دوسرے کا سو روپیہ کیسے خراب کیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے لوگ اور معاشرے کیسے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہمیں اپنے دس فیصد پرافٹ پر توجہ رکھنی چاہئے جو ہمارا حصہ بنتا ہے‘ ہمیں دوسرے کے سو روپے سے غرض نہیں ہونی چاہئے۔ اگر وہ بندہ سو روپے نہیں کمائے گا تو وہ ہمیں کہاں سے ہمارا دس فیصد دے گا۔
معاشرے کی اس سوچ کو بدلنے کے لیے ہمیں سیاسی اور بیوروکریٹک قیادت کی ضرورت تھی۔ معاشرے سیاسی اور بیوروکریسی کے اعمال سے بدلتے ہیں۔ حکمرانوں اور ان کے حواریوں نے ملک اور معاشرے بدلنے کے بجائے اپنی نسلیں بدلنے پر زور دیا۔ لمبا چوڑا پیسہ کمایا اور باہر بھیج دیا۔ بیوروکریسی نے بھی یہی کیا۔ بیرون ملک جائیدادیں خرید لیں۔ اس وقت پنجاب پولیس کے متعدد افسران نے کینیڈا کی شہریت لے رکھی ہے۔ ہر دوسرا بیوروکریٹ کسی نہ کسی دوسرے ملک کا شہری ہے۔ اس ملک کو انہوں نے محض چرا گاہ سمجھا ہوا ہے۔ لاکھوں ڈالرز کے گھر کینیڈا میں خریدے جارہے ہیں۔ ایک لوئر مڈل بیک گراؤنڈ سے آنے والا پولیس افسر آج کروڑ پتی ہے۔ سب ایک دوسرے کو’ رج‘ کے سپورٹ کرتے ہیں۔ وہ افسران ختم ہوئے جو کبھی عزت اور ساکھ کو نوکری پر ترجیح دیتے تھے۔ شاید ایک آدھ اب بھی بچ گیا ہو‘ لیکن اسے کوئی اہم پوسٹنگ نہیں ملے گی۔
یہاں سیاست‘ سیاستدان‘ بیوروکریٹ‘ ٹھیکیداروں کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔ جس کو چاہے خرید لو‘ جب ٹھیکیدار ملک کے رکھوالوں کو خرید لیں تو پھر کس سے گلہ کریں؟پھراعجاز صاحب کا سیاست اور سیاستدانوں سے دل برداشتہ ہونا بنتا ہے کہ جس ملک میں کوئی ٹھیکیدار کسی بھی حکمران اور افسرکو جب چاہے خرید لے۔اعجاز صاحب کے دکھ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ برسوں کی محنت کے بعد ہمارے حکمرانوں نے انہیں بھی سیاست اور سیاستدانوں سے بدظن کر دیا ہے۔ چلیں اچھا ہوا ان کے روزانہ واٹس ایپ میسجز سے جان چھوٹے گی کہ RK صاحب کوئی اندر کی خبر سنائیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker