رؤف کلاسراکالملکھاری

رؤف کلاسراکا کالم:وزیر برائے اخلاقیات کی تلاش

وزیر اعظم عمران خان نے ایک دفعہ پھر ہاؤس سے ووٹ لے لیا اور دھواں دھار تقریر کی۔ لگ رہا تھا وہ اپوزیشن کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں ہیں اور آخری دم تک اکیلے لڑیں گے۔ ان کو علم ہے کہ لوگوں کے پاکستان کو اس طرح لوٹا گیا ہے کہ لوگ چاہتے ہیں کچھ بھی ہو ان کی لوٹی ہوئی دولت واپس آنی چاہیے۔ وہ ملک کے سب لٹیروں کے خلاف کھڑے ہوئے اور بائیس سال تک یہی نعرہ لگایا کہ ان کو نہیں چھوڑیں گے۔ وہ اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد بھی وہی نعرہ لگا رہے تھے کہ اکیلے بھی لڑنا پڑا تو وہ لڑیں گے۔
ان کی تقریر میں شاید نیا کچھ نہیں تھا‘ وہی پرانی باتیں اور پرانے حوالے‘ لیکن ایک بات جو میں نے نوٹ کی یہ تھی کہ وہ بار بار اخلاقیات کا ذکر کرتے رہے۔ جب آپ اخلاقیات کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ ہائی مورال گراؤنڈ کی بات کررہے ہیں کیونکہ اخلاقیات اس کی اچھی ہوتی ہیں جو زندگی ہائی مورال گرائونڈ پر گزارتا ہو یا گزارنے کی کوشش کرتا ہو۔ وزیر اعظم کا کہنا تھاکہ ہمیں اپنے اخلاقی سٹینڈرڈز ٹھیک کرنے ہوں گے‘ ملک کو عظیم بنانا ہوگا‘ عدل و انصاف کو پروموٹ کرنا ہوگا‘ کرپشن کے خلاف پورا معاشرہ لڑتا ہے‘ پوری قوم کی مدد کی ضرورت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ پوری قوم کیسے کرپشن کے خلاف لڑے۔ خان صاحب کہتے ہیں کہ کرپٹ لوگوں سے شادیاں نہ کریں‘ ان سے بول چال بند کردیں، ان سے ملنا جلنا بند اور سوشل بائیکاٹ ہوجانا چاہئے۔ باتیں وہ سب ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے گا؟ پورا معاشرہ کرے گا یا پھر خان صاحب یہ کام خود سے شروع کریں گے؟ یہ بحث بہت پرانی ہے کہ پہلے پورا معاشرہ بدلے تو پھر میں، آپ یا خان صاحب بدلیں گے یا پھر پہلے میں‘ آپ اور عمران خان معاشرے کے بدلنے کا انتظار کیے بغیر خود کو بدل لیں تو معاشرے کو بدلنا آسان ہوگا؟ لیکن یہ بہت مشکل کام ہے کیونکہ آپ کروڑوں لوگوں کو نہیں بدل سکتے، خود کو بدلنا چاہیں تو راتوں رات بدل لیں‘ لیکن خان صاحب کو لگتا ہے کہ پہلے پورا معاشرہ بدلے گا تو پھر وہ خود کو بدلیں گے۔ اگر معاشرہ خود کو نہیں بدل سکتا تو پھر ایسی تقریریں کرکے وہ پاکستان کی اخلاقیات کو برا بھلا کہتے رہیں گے۔ انہی عوام نے اپنی انہی اخلاقیات کے ساتھ عمران خان کو اربوں روپے چندہ بھی دیا، ووٹ بھی دیا اور وزیر اعظم بھی بنا دیا‘ لیکن پھر بھی خان صاحب سمجھتے ہیں کہ یورپ کی اخلاقیات ہم سے بہت بہتر ہیں۔ خان صاحب کی ایک بڑی خوبی ہے کہ انہیں دنیا کا ہر ملک‘ اس کی اخلاقیات‘ اس کا نظام حکومت اور اس کے لیڈرز اچھے لگتے ہیں لیکن اپنے ملک کی نہ اخلاقیات اچھی لگتی ہیں، نہ وہ سسٹم اچھا لگتا ہے جس کے سہارے وہ وزیر اعظم بن گئے‘ نہ ہی یہاں کے لوگ، لیڈرز اچھے لگتے ہیں۔ اور تو اور انہیں میڈیا بھی لندن کا اچھا لگتا ہے جس کا وہ اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں حالانکہ عمران خان کی زندگی بارے سب سے زیادہ خبریں برطانوی میڈیا نے چھاپیں اور وہیں کتابیں بھی لکھی گئیں۔ پھر بھی وہ پاکستانی میڈیا کو شرمندہ کرنے کیلئے برطانوی میڈیا کو بہتر سمجھتے ہیں۔ جس میڈیا نے انہیں بائیس سال تک سیاست میں قومی اسمبلی کی ایک سیٹ کے ساتھ زندہ رکھا‘ وہ برا لگتا ہے کیونکہ وہ میڈیا ان کی مرضی مطابق نہیں چل رہا۔ میڈیا ان کے دور کی کرپشن کی کہانیاں سامنے لاتا ہے، سکینڈلز رپورٹ کرتا ہے اور ان کی قریبی دوست ان سکینڈلز میں ملوث ہوتے ہیں‘ لہٰذا انہیں اس کی تکلیف ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ جو لوگ مل گئے ہیں ان کی اخلاقیات اب بالکل ٹھیک ہیں۔ ان پر وہ کوئی تنقید پسند نہیں کرتے۔ مزے کی بات یہ کہ جو بھی چور‘ ڈاکو ان کے ساتھ مل جاتا ہے وہ ان کے نزدیک دنیا کا سب سے نیک انسان بن جاتا ہے‘ جبکہ سب چور‘ ڈاکو دوسری جماعتوں میں پائے جاتے ہیں جو ان کے خیال میں ملک کی اخلاقیات کا بیڑا غرق کیے ہوئے ہیں۔
ابھی یہی دیکھ لیں‘ عمران خان کے حوالے سے خبر سامنے آئی کہ انہوں نے کہا ہے کہ ان کے دل میں چوہدریوں کا بہت احترام ہے۔ اب اس پر ہنسا جائے یا رویا جائے۔ انہی چوہدریوں سے ان کا پنگا ہوا جب جنرل مشرف نے دو ہزار دو کے انتخابات کے بعد عمران خان کو کہا کہ وہ چوہدری شجاعت کے ساتھ الائنس کرلیں۔ خان صاحب نے پریس کانفرنس کی کہ جنرل مشرف انہیں کہتے تھے‘ وہ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکوئوں ساتھ مل جائیں۔ جب پرویز الٰہی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ڈپٹی وزیراعظم تھے تو وہ ان کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتے تھے۔ اب وہ انہی پرویز الٰہی کو اپنا محسن سمجھتے ہیں کیونکہ انہوں نے انہیں اعتماد کا ووٹ دلوا دیا ہے۔ اب بتائیں اخلاقیات کا جنازہ کون نکال رہا ہے؟ جب آپ کسی کو ڈاکو کہہ کر اس سے ووٹ لے کر وزیراعظم بن جاتے ہیں تو پھر عوام سے کیسے توقع رکھتے ہیں کہ وہ آپ کے کہنے پر کرپٹ لوگوں سے رشتہ داریاں نہ کریں یا ان سے بول چال بند کردیں یا سوشل بائیکاٹ کردیں؟ ایک ایسے صاحب سے بھی آپ نے اعتماد کا ووٹ لیا ہے جو این آئی سی ایل سکینڈل میں ملوث تھے اور عدالت نے حکم دے رکھا ہے کہ ان کے لندن بارکلے بینک میں منی لانڈرنگ کے پڑے اٹھارہ لاکھ پونڈز واپس لائے جائیں۔ آپ ان سے ووٹ لے رہے ہیں اور ہمیں کہا گیا تھا کہ ایسے لوگوں سے بات نہ کریں کیونکہ ان کی وجہ سے کرپشن بڑھی ہے۔
اسی طرح فہمیدہ مرزا صاحبہ سے بھی آپ نے اعتماد کا ووٹ لے لیا۔ وہی جنہوں نے سپیکر کی کرسی پر بیٹھ کر اپنی شوگر ملوں کا چوراسی کروڑ روپے کا بینک قرضہ معاف کرا لیا تھا اور امریکہ میں اپنے علاج پر اٹھنے والے چالیس لاکھ روپے کے اخراجات بھی عوام کے ٹیکسوں سے لے کر ادا کئے تھے۔ اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ سپیکر کے عہدے کی میعاد پوری ہونے سے ایک ہفتہ پہلے اجلاس بلاکر اپنے لیے عمر بھر کی مراعات بھی منظور کرا لیں کہ سابق سپیکر ہونے کے ناتے انہیں لاکھوں روپے ماہوار کی مراعات ملتی رہیں گی۔ اب خان صاحب کی اخلاقیات کی رو سے تو ہمیں فہمیدہ مرزا کا بھی سوشل بائیکاٹ کرنا چاہئے‘ لیکن خود خان صاحب ان سے اعتماد کا ووٹ لے چکے ہیں۔
اسی طرح اعظم سواتی صاحب کو دیکھ لیں کہ ایف آئی اے نے ان کے ‘کارناموں‘ پر مشتمل پانچ والیمز عدالت میں جمع کرائے۔ ایک تو یہ ہے کہ انہوں نے ایک ملین ڈالر کا جعلی نوٹ بھی سیلاب زدگان کو عطیہ کر دیا تھا۔ اس سے زیادہ بھی اخلاقیات کا بیڑا غرق ہو سکتا ہے؟ اب خان صاحب کے وژن کے مطابق تو ان کا بھی سوشل بائیکاٹ ہونا چاہئے‘ لیکن کیا کریں وہ بھی خان صاحب کی کابینہ کا حصہ ہے۔
اخلاقیات کا تو یہ بھی تقاضا ہے کہ جن زلفی بخاری کے لندن میں کاروبار کا وزیر اعظم کو پتا نہیں انہیں ٹورازم کا وزیر نہ لگایا جاتا لیکن وہ پھر بھی وزیر ہیں کیونکہ آپ کے ذاتی دوست ہیں‘ تو پھر بتائیں میں زلفی بخاری کا بائیکاٹ کیسے کروں؟ ابھی میں ان درجن بھر وزیروں اور دوستوں کے نام نہیں لکھ رہا جو گندم، چینی، بجلی گھروں، سیمنٹ، ادویات کے سکینڈلز میں ملوث رہے ہیں۔ آج ان عامر کیانی نے بھی کپتان کو اعتماد کا ووٹ دیا جن سے وزارت ادویات سکینڈل کی وجہ سے واپس لے لی گئی تھی۔ چالیس ارب روپے کا ڈاکا لوگوں کی جیبوں پر پڑا اور روز پڑ رہا ہے۔ اب بتائیں اخلاقیات کہاں سے لائیں؟خان صاحب درست کہتے ہیں کہ معاشرے کو اپنی اخلاقیات بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کام کیلئے انہیں ایک نئی وزارت قائم کرنی چاہئے جو عوام میں شعور پیدا کرے۔ میرا خیال ہے اس کیلئے اعظم سواتی سے بہتر چوائس کوئی نہیں ہو گی۔ وہ بھی خوش، عمران خان بھی خوش اور قوم کو بھی نیا وزیر مل جائے گا جو ان کی اخلاقیات درست کرے گا۔
آم کے آم گٹھلیوں کے دام !
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker