رؤف کلاسراکالملکھاری

رؤف کلاسرا کا کالم:سب سے بڑا اداکار

کیا سیاست، حکمران اور حکمرانی سب اداکاری کا نام ہے؟ جو بڑا ایکٹر ہے وی ٹاپ پر پہنچ سکتا ہے؟ دنیا بھر کے سیاستدانوں اور اداکاروں میں ایک بات آپ کو کامن ملے گی کہ وہ اچھے اداکار اور چرب زبان ہوں گے۔
کچھ دنوں کے گیپ کے بعد کتاب پڑھنے کو دل چاہا تو رچرڈ نکسن کی کتاب In The Arena پر نظر پڑی۔ تقریباً چالیس سال پرانا پیپر بیک ایڈیشن۔ مجھے پرانے ایڈیشن اچھے لگتے ہیں۔ کچھ کلاسیک کتابوں کے تو تین تین چار چار مختلف ایڈیشن ہیں اور ہر ایک کا اپنا ذائقہ ہے۔ میری بیوی چڑتی ہے کہ خریدنی ہے تو ایک خرید لو مختلف ایڈیشنز کی کیا تُک بنتی ہے؟ میں کہتا ہوں: یہ معرفت کی باتیں ہیں‘ تمہیں سمجھ نہیں آئیں گی۔
نکسن کی یہ کتاب شروع کی تو اس میں ایسا کھویا کہ نیند اڑ گئی۔
نکسن دنیا بھر میں واٹر گیٹ سکینڈل کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اور وہ ان چند امریکی صدور میں سے ہیں جنہیں وائٹ ہائوس میں بیٹھ کر اپنا استعفا لکھنا پڑا۔ خیر ان کے استعفے کی اپنی کہانی ہے کہ کیسے پورا گھرانہ ان کے فیصلے کے خلاف تھا۔ سب سے زیادہ مخالف ان کی دو بیٹیاں تھیں۔ شاید پانچ سال وائٹ ہاؤس میں رہنے کا عادی ہونے کے بعد اب اچانک اسے چھوڑنا کسی کیلئے آسان نہ تھا۔ جہاں حکمران خود ان شاہی محلوں کے رہنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ اب عمر بھر یہیں رہیں گے‘ وہیں ان کے گھر والے، بچے، رشتہ دار، یار دوست‘ ان سے بھی زیادہ شاہی محل کے درودیوار کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے نکسن نے آخرکار فیصلہ کر ہی لیا تھاکہ کافی ہوگیا‘ دو سالوں سے وہ مسلسل میڈیا‘ کانگریس اور امریکی عوام کے ہاتھوں ٹرائل کا شکار ہے‘ لہٰذا وہ اب رنگ چھوڑ کر چلا جائے تو شاید کچھ دنوں بعد خاموشی ہو جائے گی۔ جب وہ استعفا لکھنے جا رہا تھا تو رات گئے اسے اپنے بستر کے تکیے پر اپنی بیٹی جولی کا ہاتھ سے لکھا ایک نوٹ ملا جس میں اس نے باپ سے کہا تھا کہ وہ ابھی ایک ہفتہ یا دس دن استعفا نہ دے‘ لاکھوں لوگ اب بھی اس کو سپورٹ کرتے ہیں۔
دوسری بیٹی نے اس سے زیادہ باپ سے لڑائی کی کہ وہ استعفا نہ دے۔
کسی بھی باپ کے لیے بیٹی کا ایسا نوٹ نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا‘ لیکن نکسن فیصلہ کر چکا تھا۔ یہ الگ کہانی ہے کہ نکسن کا خیال غلط ثابت ہوا کہ استعفا دینے سے طوفان تھم جائے گا۔ طوفان نہ تھما بلکہ نکسن پر امریکہ میں ہر جگہ مقدمات قائم ہونا شروع ہوئے اور عدالتوں اور وکیلوں کے اخراجات کی مد میں اٹھارہ لاکھ ڈالرز کا بل بن چکا تھا جو نکسن کے لیے ادا کرنا مشکل ہو رہا تھا‘ لہٰذا جب اسے اس کے نائب صدر فورڈ نے‘ جو اب صدر بن چکا تھا‘ pardon کی پیشکش تو نکسن کو زندگی کا مشکل فیصلہ کرنا تھا۔ نکسن لکھتا ہے: جتنا مشکل فیصلہ صدارت سے استعفا دینا تھا اتنا ہی مشکل اپنے نائب صدر سے خود کو تمام الزامات سے معافی دینے کی پیشکش کو قبول کرنا تھا۔
واٹر گیٹ میں کیا گیا ایک فیصلہ نکسن اور اس کے پورے خاندان کو مہنگا پڑا۔ یہ بھی انسانی نفسیات ہے کہ جب وہ فیصلے کر رہا ہوتا ہے تو اس کے حق میں سو دلیلیں ہوتی ہیں‘ لیکن جب وہ فیصلہ گلے پڑ جائے تو انسان خود پر ناراض ہو رہا ہوتا ہے کہ اس کی نگاہ سے کیسے وہ سب فیکٹرز غائب ہو گئے تھے۔ حکمرانوں کا ایک فیصلہ پورے گھرانے، معاشرے یا ملک کو بھگتنا پڑتا ہے اور نکسن کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔ سب سے زیادہ اس کے بچے ہرٹ ہورہے تھے۔ نکسن کے وائٹ ہاؤس کے زمانے کا سب سے یادگار دن وہ تھا جب ہنری کسنجر دوڑتا ہوا اس کے دفتر میں آیا۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ نکسن حیران ہوا کہ ایسی کون سے قیامت آ گئی کہ اس کا وزیرِ خارجہ دوڑتا ہوا اس کے دفتر تک آیا۔ کسنجر نے نکسن کو بتایا کہ ابھی پاکستانی جنرل یحییٰ خان کا پیغام موصول ہوا ہے کہ چینی رہنما چو این لائی نے نکسن کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ ایسی بات تھی جس کا وہ سب سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ چین کے لیڈر نے پاکستانی جنرل کے ذریعے امریکی صدر کو دعوت دی تھی۔ یہ بہت بڑا بریک تھرو تھا۔ اس دعوت نامے کا سن کر نکسن کو پاکستانی صدر ایوب یاد آئے جب انہوں نے نکسن کو 1964 میں کراچی کے دورے کے دوران کہا تھا کہ اسے چین کا دورہ کرنا چاہئے۔ اس وقت چین کا دورہ کرنا کسی امریکی صدر کے لیے ناممکنات میں سے ایک تھا۔ صدر ایوب چین کا دورہ کر چکے تھے اور اب وہ نکسن کو قائل کررہے تھے کہ انہیں چین جانا چاہئے‘ چین کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے۔
نکسن نے صدر ایوب سے پوچھا: چین میں سب سے زیادہ کس بات نے متاثر کیا تھا؟صدر ایوب نے جواب دیا: وہاں سڑکوں پر لاکھوں چینی چین اور پاکستان کے جھنڈے اٹھائے تالیاں بجا رہے تھے‘ مجھے یہ منظر سب سے زیادہ اچھا لگا تھا۔برسوں بعد نکسن نے چین کا دورہ کیا تو اسے صدر ایوب کی وہ بات یاد تھی۔ ایئرپورٹ سے لیموزین میں بیٹھ کر شیشوں پر لٹکے پردوں کو ہٹا کر جب نکسن نے سڑک پر لاکھوں لوگوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی‘ جیسے جنرل ایوب نے بتایا تھا‘ تو مایوسی ہوئی۔ چینیوں نے امریکی صدر کیلئے ایسا کوئی بندوبست نہیں کیا تھا۔ لاکھوں لوگ صرف پاکستانی صدر کیلئے اکٹھے کیے گئے تھے۔
ایک اہم بات نکسن نے کتاب میں لکھی کہ چو این لائی بارے انہیں ایک ٹاپ ڈپلومیٹ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ وہ بہت بڑا ایکٹر ہے‘ اس میں یہ کمال ہے ایک لمحے اگر رو رہا ہوگا تو اگلے لمحے وہ ہنس رو رہا ہوگا۔ یہ بھی کوئی اتنا کمال نہیں کہ یہ سب کچھ اس کے بس میں تھا۔ اصل اداکاری تو اس وقت ہوتی تھی جب پورا مجمع بھی اس کے ساتھ ساتھ لمحہ بہ لمحہ رو یا ہنس رہا ہوتا تھا۔ میرا خیال ہے دنیا بھر کے حکمرانوں کی اس خوبی کو اس سے بہتر قلم بند نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں بڑا اداکار ہونا چاہئے۔ خود نکسن کے بارے جو فلم بنی‘ جس میں ویتنام پیپرز کی حقیقت سامنے لائی گئی تھی‘ اس سے پتا چلتا ہے کہ ویتنام پر نکسن عوام اور میڈیا کے سامنے بیانات دے رہا تھا جبکہ وائٹ ہاؤس میں بالکل مختلف احکامات ایشو کیے جا رہے تھے۔ ایسی اداکاری جو لاکھوں لوگوں کو دھوکا کھانے پر مجبور کر دے۔
اس کتاب کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے ذہن میں اپنے جیسے انسانوں پر حکومت یا راج کرنے کا جنوں طاری ہو جاتا ہے‘ وہ نارمل لوگ نہیں ہوتے۔ ان کے اندر وہ انسانی جذبات نہیں ہوتے جو نارمل لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے اندر بے حسی اور سفاکی کا لیول بہت ہائی ہوتا ہے۔ اسی کتاب میں نکسن ایک چینی رہنما کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس نے اپنے ہاتھوں سے انسانی گردنیں کاٹی ہوئی تھیں۔ وہ ایک لمحے چاقو یا چھری لے کر کسی کی گردن کاٹ کر رکھ دیتا تھا تو دوسرے لمحے وہ گردن کو ایک طرف کرکے سگریٹ سلگا کر مسکراتا ہوا دھواں چھوڑتا نظر آتا تھا۔ یہ کام کوئی نارمل انسان نہیں کرسکتا۔
آپ کو اپنے اردگرد بھی سب اداکاری کرتے نظر آئیں گے ۔ انہیں سب پتہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کن حالات میں کیا کرنا ہے۔ ان کی اداکاری کی بنیاد جھوٹ پر قائم ہوتی ہے۔ اپنی اداکاری سے لوگوں کو وہ یقین دلا دیتے ہیں کہ ان سے بڑا ان کا ہمدرد اور خیرخواہ کوئی نہیں۔ اس لیے لاکھوں کے مجمع اور ہجوم کو وہ پیچھے لگا لیتے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کو ایک ہی ہلے میں بیوقوف بنانے کیلئے کافی اداکاری اور لفاظی اور جھوٹے رویے کے درشن کرانے پڑتے ہیں۔ لوگوں کو اپنی اداکاری سے رُلانا پڑتا ہے، انہیں ہنسانا پڑتا ہے۔ جو یہ کام کامیابی سے کر سکتے ہیں وہی حکمرانی کرتے ہیں۔ اس لیے نکسن جب کہتا ہے کہ چو این لائی بہت بڑا اداکار تھا تو وہ دراصل اس کا موازنہ خود سے کر رہا تھا یا پھر پوری دنیا کے حکمرانوں سے جو اپنے اپنے عوام سے دھوکے سے بھرپور اداکاری کرتے ہیں۔
اس دنیا میں جو سب سے بڑا اداکار ہے، وہی حاکم ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker