رؤف کلاسراکالملکھاری

عدالتیں اس طرح بھی لگتی ہیں ۔۔ آخر کیوں ؟ / رؤف کلاسرا

ٹرائل کا فیصلہ ہوچکا تھا ۔
تیمور کی نسل کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو یہ سمجھانے میں مترجم کو کئی گھنٹے لگ گئے کہ اب ان پر فرنگی سرکار مقدمہ درج کر کے ان کا ٹرائل کرے گی۔
ہندوستان کا بادشاہ اور ٹرائل ؟ کس گستاخ کو یہ جرأت ہوئی تھی لیکن گستاخی ہو چکی تھی ۔
اکیس برس ہندوستان پر بادشاہت کرنے کے بعد 28 ستمبر 1837 کو اکبر شاہ دوم کی 82 برس کی عمر میں فوت ہوا۔ اس کے دور میں مغل سلطنت مزید کمزور ہوئی۔ 1813 میں فرنگی سرکار کی طرف سے شاہی خاندان کو نذرانہ ملتا تھا، لارڈ منٹو نے اسے روک دیا تھا ۔ پانچ برس بعد لارڈ ہیسٹنگز نے دلی میں شاہی سکے چھپانے کا دفتر بھی بند کر دیا تھا ۔ اس کے علاوہ بادشاہ اور شاہی خاندان کے افراد کی نقل و حرکت بھی محدود کردی گئی۔ اب شاہی خاندان کی ساری انکم فرنگی سرکار کی طرف سے ملنے والا وظیفہ اور کچھ جمنا دریا کے کناروں سے ملنے والی آمدن تھی اور اسی پر گزارا ہورہا تھا۔
اکبر شاہ کی موت کے بعد اس کا بڑا بیٹا مرزا ابو ظفربادشاہ بن گیا اور اپنا لقب عبدالمظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ بادشاہ غازی پسند کیا۔ دلی اور آگرہ میں توپوں کی سلامی دی گئی۔ بہادر شاہ کی بادشاہ بنتے وقت عمر 62 برس تھی جس کی ساری دلچسپی شاعری، پیاری بیگم زینت محل اور خواجہ سرا محبوب علی خان تک محدود تھی۔
روزانہ فرنگی سرکار اور بادشاہ کے درمیان خط و کتابت ہوتی تھی اور ان خطوط میں ایک ہی تقاضا ہوتا، گزارا مشکل سے ہورہا تھا۔ نذرانے کی رقم بڑھائی جائے۔ ہر خط میں لکھا جاتا اخراجات زیادہ ہیں لیکن پیسے بہت تھوڑے۔ 1811 میں بادشاہ کے لیے بارہ لاکھ کا نذرانہ فکس کیا گیا تھا جو بیس برس بعد پندرہ لاکھ اس شرط پر کرنے کی پیشکش کی گئی کہ بادشاہ ایک معاہدہ کرے وہ مزید پیسے نہیں مانگے گا اور شاہی خاندان کے افراد کو فرنگی سرکار کی نگرانی میں پیسے دیے جائیں گے۔ تاہم بوڑھے بادشاہ نے مرنے سے کچھ دن پہلے فرنگی سرکار کی یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا۔ جب بہادر شاہ ظفر باپ کی جگہ بادشاہ بنا تو اس نے بھی باپ کی طرح نذرانہ بڑھانے کی درخواست کی تو اسے بھی یہی کہا گیا نذرانہ بارہ لاکھ سے پندرہ لاکھ ہوجائے گا لیکن اسے انہی شرائط پر معاہدہ کرنا ہوگا ۔ تاہم بہادر شاہ ظفر نے بھی وہ شرائط ماننے سے انکار کر دیا۔
1843 میں بادشاہ کو اس وقت بڑا شاک لگا، جب نذرانہ اور خلعت پر لارڈ ایلن بارو نے پابندی لگا دی اور بہت سخت خط بھی لکھا۔ نذرانہ کا نقصان پورا کرنے کے لیے فرنگی سرکار نے کہا، اس کے بدلے ہر ماہ 883 روپے بادشاہ کو ملا کریں گے جنہیں بادشاہ نے لینے سے انکار کر دیا لیکن بالآخر راضی ہوگیا۔
بادشاہ کو اس کے علاوہ بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اس کا جانشین کون ہوگا۔ لاڈلی بیگم زینت محل نے اپنے بیٹے مرزا جیون بخت کو جانشین بنوا لیا۔ تاہم فرنگی حکومت نے بادشاہ کی یہ درخواست ماننے سے انکار کر دیا۔ فرنگی سرکار نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ بہادر شاہ کی موت کے بعد شاہی محل کو خالی کر دیا جائے اور شاہی خاندان کو قطب شفٹ کر دیا جائے۔ 1852 میں بہادر شاہ ظفر کے سب سے بڑے بیٹے فخرالدین نے فرنگی سرکار کی یہ شرائط مان لیں جس کے بدلے فرنگی سرکار نے اسے مستقبل کے تخت کا وارث مان لیا ۔ اس ڈیل کے خلاف شاہی محل کے افراد نے عرضی فرنگی سرکار کو بھیجی تو پتہ چلا وہاں شاہی خاندان کے افراد کی کل تعداد 2104 تھی جو وہاں رہائش پذیر تھے۔ صرف شاہ عالم کے خاندان سے جڑے شاہی افراد کی تعداد 815 تھی جو نہ صرف وہاں شاہی محل میں مفت رہتے تھے بلکہ فرنگی سرکار سے پنشن بھی لے رہے تھے اور ان شاہی خاندان افراد پر کوئی قانون لاگو بھی نہیں ہوتا تھا ۔ جب انہیں محل سے نکالا گیا تو یہ بھی تجویز دی گئی اب ان کا استثنیٰ ختم کر دیا جائے اور وہ عام شہریوں کی طرح قانون کے سامنے جواب دہ ہوں۔ لارڈ ڈلہوزی جو اس وقت گورنر جنرل تھے، کا خیال تھا، اس شاہی محل کو فوجی چھاؤنی بنا دیا جائے۔
اس دوران فرنگی سرکار کے تسلیم کردہ جانشین اپنے باپ سے پہلے ہی 1856 میں بیمار ہوکر فوت ہوگئے۔
فرنگی سرکار نے فیصلہ کیا اب فخرالدین کی جگہ بہادر شاہ ظفر کا نیا جانشین مرزا شکوہ ہوگا ۔ اس پر بیگم زینت محل درمیان میں کودی اور اس نے بہادر شاہ ظفر کو مجبور کیا وہ فرنگی سرکار کو خط لکھے کہ تخت پر حق اس کے بیٹے جیون بخت کا تھا۔ فرنگی سرکار نے مسترد کر دیا۔ اور پھر گیارہ مئی 1857 کو بغاوت ہوگئی۔ میرٹھ سے باغی جتھوں نے بیاسی برس بوڑھے بادشاہ کو پکڑ کر دلی تخت پر بٹھا دیا اور مختلف جگہوں پر توپوں کی سلامی بھی دلوا دی گئی۔ باغیوں نے اپنی کمیٹی بنا لی جو فیصلے تو سب خود کرتی تھی لیکن نام بادشاہ کا استعمال ہورہا تھا۔ بخت خان کمانڈر اِن چیف بن چکا تھا۔ پانچ ماہ بعد دلی پر فرنگیوں نے قبضہ لینے کے لیے حملہ کیااور سات دنوں کے اندر اندر دلی دوبارہ فتح کر لی۔ فرار ہوتے شاہی خاندان کے افراد کے ساتھ بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ 22 ستمبر کو بادشاہ نے گرفتاری دے دی اور کیپٹن ہڈسن کے سامنے شرط رکھی، اسے گولی نہیں ماری جائے گی۔ تاہم بادشاہ کے دو بیٹے اور اس کے پوتے جو اس وقت ساتھ تھے، انہیں کیپٹن ہڈسن نے اپنے ہاتھوں سے گولی ماری۔ بہادر شاہ کو بیگم زینت محل کے ساتھ قید کر لیا گیا۔
اب سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوا کہ ہندوستان کے بادشاہ کا ٹرائل کیسے کیا جائے؟ جنرل ولسن نے تجویز دی کہ افسران کا کورٹ بنایا جائے جہاں بادشاہ کا ٹرائل ہو اور طے کیا جائے کہ بادشاہ بغاوت میں ملوث تھا یا معصوم ۔ اس پر فرنگی سرکار نے کہا اگر ہتھیار ڈالتے وقت یہ شرط طے ہوئی تھی اس کی زندگی بخشی جائے گی تو اسے اللہ آباد بھیج دیاجائے اگر نہیں تو پھر اس کا سپیشل کمشن کے سامنے ٹرائل کیا جائے جس میں منٹگمری ، برنیس اور میجر لیک شامل ہوں گے۔ اگر جرم ثابت ہوجاتا ہے تو پھر فوراً سزا پر بھی عمل درآمد کر دیا جائے اور اسے گورنر جنرل سے پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں ۔
بہادر شاہ ظفر کو ایک ہفتہ کا وقت دیا گیا کہ وہ اپنا دفاع تیار کرلے اور وکیل بھی مقرر کر لے۔
اس پر جان لارنس نے اعتراض کیا کہ جن افسران کے نام ٹرائل کمشن کے لیے دیے گئے تھے انہیں وہ اتنی جلدی فارغ نہیں کرسکتا تھا۔ اس دوران جیون بخت جسے اپنے باپ بہادر شاہ ظفر اور ماں زینت محل بیگم کے ساتھ قید کر لیا گیا تھا اور اس کا بھی ٹرائل ہونا تھا ۔جب کہ شاہی خاندان کے دیگر افراد کے خلاف پہلے ہی کورٹ مارشل کر کے انہیں گولی مار دی گئی تھی۔ اس دوران جب بادشاہ کے ٹرائل کی تیاریاں ہورہی تھیں، بہادر شاہ ظفر بہت سخت بیمار ہوگیا اور یوں لگا جیسے ٹرائل کی ضرورت شاید پیش نہ آئے۔ تاہم چند دن بعد بادشاہ تندرست ہوگیا اور ٹرائل کی تیاریاں دوبارہ شروع ہوگئیں اور یوں 27 جنوری 1858 کو تیمور خاندان کے آخری بادشاہ کا ٹرائل شروع ہوا۔دربار میں سناٹا چھا گیا جب بیاسی سالہ بوڑھے بیمار اور لاغر بادشاہ کا بچ جانے والا اکلوتا بیٹا جیون بخت سہارا دے کر کورٹ میں لایا ۔
اب قیدی بہارد شاہ ظفر کے خلاف چارج شیٹ پڑھی جارہی ہے۔
اسلام آباد کی اس شام اس سنسنی خیز تاریخی مقدمے کی کہانی پڑھتے ہوئے میں خود کو 160 سال پرانے ہندوستان کے اس کورٹ روم میں کسی کونے میں کھڑا محسوس کررہا ہوں، جہاں بہادر شاہ ظفر اور بیگم زینت محل کا لاڈلا بیٹا جیون بخت اپنے بوڑھے باپ کو سہارا دے کر لا رہا ہے۔ قیدی بادشاہ حیران ہورہا ہے کہ بھلا بادشاہوں کے ٹرائل بھی ہوتے ہیں؟
اور میں خود کو ہندوستان کے اس پرانے کورٹ روم کے ایک کونے میں محسوس کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، کتنی محنت سے مترجم بوڑھے بادشاہ کو دیر سے سمجھا رہا ہے جب چارج شیٹ پڑھی جائے گی توNOT GUILTY کہنا ہے۔ بادشاہ حیران ہوا وہ ملزم کب تھا؟
مترجم کی بادشاہ کو دو لفظ سکھانے پر محنت دیکھ کر سوچ رہا ہوں جب قدرت انتقام لینے پر آتی ہے تو آپ ہندوستان کے بادشاہ ہوں، عمر 82 برس ہو، چلنے سے لاغر ہوں اور آپ کے بچوں اور پوتوں کو کیپٹن ہڈسن نے گولی مار دی ہو، پھر بھی کوئی رعایت نہیں ہوتی۔ بادشاہ پھر بھی کٹہرے میں گھسیٹ کر لائے جاتے ہیں۔ عدالتیں اس طرح بھی لگتی ہیں، انصاف اس طرح بھی ہوتے ہیں۔ فرنگیوں کے ہاتھوں تاج اس طرح بھی اچھالے جاتے ہیں ۔
مغلوں کے آخری بادشاہ کا ٹرائل شروع ہوچکا تھا ۔۔!
( اس کالم کے لیے مواد H.L.O Garrett کی کتاب The Trial of Muhammad Bahadur Shah سے لیا گیا ہے۔ )

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker