رؤف کلاسراکالملکھاری

کشمیر کہانی …(16)۔۔رؤف کلاسرا

جب قبائلی لشکر کی اطلاع پاکستان سے دہلی بھیجی گئی تو پاکستان اور ہندوستان کے اُس وقت کے ملٹری کمانڈرز جو انگریز تھے‘ کو یہ فکر لاحق تھی کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو دونوں ملکوں کے فوجی افسران جو اکٹھے اکیڈمی میں تربیت لیتے رہے ہیں وہ بھی اس جنگ میں کود جائیں گے اور یہ سب کامریڈز ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہوں گے‘ لہٰذا اس خطرے کو ٹالنے کے لیے جب جنرل گریسی‘ جو لندن گئے ہوئے تھے‘ نے پاکستان آرمی کمانڈر کی عدم موجودگی میں یہ اطلاع دہلی ہیڈ کوارٹر بھیجی کہ انہیں انٹیلی جنس رپورٹ ملی ہے کہ پاکستان سے قبائلی لشکر کشمیر میں داخل ہوگیا ہے‘ تو ماؤنٹ بیٹن بھی پریشان ہو گیا۔ ماؤنٹ بیٹن اس وقت تھائی لینڈ کے وزیرخارجہ کو دیے گئے عشائیہ میں شرکت کے لیے تیار ہورہا تھا ‘جب اسے یہ خبر دی گئی ۔
جب آخری مہمان بھی رخصت ہوگیا تو ماؤنٹ بیٹن نے وزیراعظم نہرو سے کہا کہ وہ ذرا رک جائیں‘ ضروری بات کرنی ہے۔ نہرو بھی یہ خبر سن کر ششدر رہ گیا۔ اس کے لیے اس سے زیادہ اور کوئی برُی خبر نہیں ہوسکتی تھی۔ ماؤنٹ بیٹن کے سامنے ایک اور نہرو کھڑا تھا جسے وہ پہلے نہیں جانتا تھا۔ پرانا نہرو ایک نارمل اور شاندار دانشور تھا‘ جسے ماؤنٹ بیٹن پسند کرتا تھا۔ وہ یہ خبر سن کر اچانک کہیں غائب ہوگیا اور اس کی جگہ ایک جذباتی نہرو نے لے لی جو اپنی آواز میں جذبات کوقابو نہیں کرپایا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن کو یوں لگا جیسے نہرو ابھی رو پڑے گا۔ نہرو نے ماؤنٹ بیٹن کو جذباتی بلیک میل کرنے کے لیے اس تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ کیا جب انگلینڈ کی کوئین میری کے دور میں مسٹر ڈک ولنگٹن لندن اور Calasis کا مشترکہ مئیر تھا‘ لیکن فرانس سے جنگ میں انگلینڈ کو شکست ہوئی تو فرانس نے کلاسس پر قبضہ کر لیا۔ جب یہ خبر کوئین میری تک پہنچی تو وہ صدمے سے بولی: جب میں مروں گی تو میرے دل کو چیر کر دیکھنا‘ اس پر Calasis لکھا ہوا ہوگا۔
نہرو کے بعد ماؤنٹ بیٹن کی ملاقات فیلڈ مارشل سے ہوئی۔ سپریم کمانڈر نے گورنر جنرل کو بتایا کہ وہ فوری طور پر برٹش فوج کا ایک بریگیڈ سری نگر بھیجنا چاہتا ہے تاکہ وہ ان ریٹائرڈ برٹش افسران کو بچا کر واپس لا سکے جو اس وقت وہاں موجود تھے‘ اگر انہیں فوراً نہ نکالا گیا تو وہ بھی وہاں مارے جائیں گے۔ ماؤنٹ بیٹن نے کہا: جنرل آئی ایم سوری‘ میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ وہ اب ہندوستان‘ پاکستان میں برٹش آرمی کے استعمال کی اجازت نہیں دے سکتا تھا‘ خصوصاً جب وہ ان دونوں ملکوں کو آزادی دے چکا ہے۔ اگر کشمیر میں فوجی مداخلت کی ضرورت محسوس ہوئی تو پھر بھارتی فوج ہی مداخلت کرے گی‘ انگریز فوج دور رہے گی۔ فیلڈ مارشل نے احتجاج کیا اور ماؤنٹ بیٹن سے کہا: پھر ہمارے جو سینکڑوں ریٹائرڈ افسران اور ان کے خاندانوں کے لوگ مارے جائیں گے‘ ان سب کا خون آپ کے ہاتھوں پر ہو گا۔ اپنے فیلڈ مارشل کی یہ بات سن کر ماؤنٹ بیٹن کے چہرے پر ناگواری کے اثرات ابھرے اور بولا: بالکل مجھے یہ ذمہ داری لینا ہوگی۔ میری ڈیوٹی بھی ایک طرح سے سزا ہے‘ لیکن میں ان چبھتے ہوئے سوالوں کے جواب نہیں دے پاؤں گا جو بعد میں مجھ سے پوچھے جائیں گے‘ اگر اس وقت انگریز فورس کو میں نے جنگ میں دھکیل دیا۔
اب ماؤنٹ بیٹن ہندوستانی قیادت کے ساتھ بیٹھا تمام ایشوز پر بات کررہا تھا۔ نہرو کے جذبات سے ماؤنٹ بیٹن کو اندازہ ہوچکاتھا کہ فوجی مداخلت ناگزیر ہے؛ تاہم ماؤنٹ بیٹن اس پر ڈٹا ہوا تھا کہ فوج بھیجنے سے پہلے ان کے پاس قانونی جواز پورے ہونے چاہئیں۔ اس لیے اس اجلاس میں ماؤنٹ بیٹن نے گورنر جنرل ہندوستان کے طور پر شرکا سے یہ بات منوا لی تھی کہ جب تک مہاراجہ ہندوستان کے ساتھ باقاعدہ طور پر الحاق کی دستاویزات پر دستخط نہیں کردیتا‘ وہ فوج نہیں بھیج سکتے۔ اگرچہ ماؤنٹ بیٹن کو یقین تھا کہ جیسے برطانیہ کے لیے ہندوستانیوں کی خواہشات کے برعکس ہندوستان میں رہنا مشکل ہوگیا تھا‘ ویسے ہی مسلم اکثریتی علاقے کشمیر میں کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس کوئی بھی حل نہیں نکل سکے گا۔ یہی وجہ تھی کہ سات نومبر کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنے کزن بادشاہ کو لکھا کہ میں اس بات پر قائل ہوں کہ جس آبادی میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان ہوں وہ یقینا پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے۔ اس لیے نہرو اور دیگر کی مخالفت کے باوجود ماؤنٹ بیٹن نے انہیں قائل کر لیا کہ الحاق کے بعد وہ فوج بھیج سکتے ہیں اور یہ الحاق مستقل نہیں ہوگا۔ یہ سب عارضی معاملات ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک وادی میں سکون اور استصوابِ رائے نہیں ہوجاتا کہ کشمیر کس کے ساتھ جائے گا۔
وی پی مینن دور بیٹھا ہوا تھا جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی نظر اس پر پڑی۔ ماؤنٹ بیٹن ذاتی طور پر وی پی مینن کو پسند کرتا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن نے کہا: مسٹر مینن آپ فوراً سری نگر جائیں اور وہاں سے پوری رپورٹ لے کر واپس آئیں‘ اس کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ مہاراجہ کی درخواست پر کشمیر میں فوج بھیجی جائے یا نہیں۔ ماؤنٹ بیٹن نے وی پی مینن کو کہا کہ وہ مہاراجہ کو واضح طور پر بتائے کہ الحاق وقتی طور پر ہورہا ہے۔ کشمیر میں استصوابِ رائے ہوگا اور پھر فیصلہ ہوگا کہ کشمیری کس کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ وی پی مینن کے ساتھ آرمی اور ایئر فورس کے افسران نے بھی جانا تھا ۔ جب وی پی مینن دو افسران کے ساتھ سری نگر ائیرپورٹ سے نکلا تو اسے یوں لگا کہ وہ کسی قبرستان میں آگیا ہو۔ ہر طرف سناٹا تھا۔ یوں لگ رہا تھا یہاں بڑی تباہی نازل ہونے والی ہے۔ ایئرپورٹ سے وی پی مینن اور اس کے ساتھی افسران سیدھے وزیراعظم مہر چند مہاجن کی رہائش گاہ کی طرف چل پڑے۔ سری نگر ائیرپورٹ سے وزیراعظم کے گھر تک کی سڑک اس وقت سنسان تھی۔ ہر اہم شاہراہ اورگلی کے کونے پر نیشنل کانفرنس کے رضاکار نظر آرہے تھے جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں اور وہ ہر گزرنے والے بندے کو روک رہے تھے۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ سری نگر پولیس کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ وزیراعظم مہر چندمہاجن نے وی پی مینن کو گمبھیر صورتحال کے بارے میں بتایا اور اپیل کی کہ فوری طور پر بھارتی حکومت ان کی مدد کو آئے۔ اگرچہ مہاجن کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ ہرطرح کے حالات میں خود کو سنبھال کر رکھتے تھے؛ تاہم اس وقت وہ بری طرح ہلے ہوئے تھے۔ وہاں سے اُٹھ کر وی پی مینن مہاراجہ ہری سنگھ کے محل کی طرف چل پڑا۔
جب وی پی مینن مہاراجہ سے ملا تو اسے احساس ہوا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی حالت بہت بری ہے۔ جس طرح حالات نے پلٹا کھایا تھا اور اس کی فوج اور پولیس چھوڑ کر بھاگ گئی تھی اور سری نگر سے کچھ فاصلے پر پاکستانی لشکر موجود تھا‘ اس صورتحال میں وہ بری طرح سے ڈرا ہوا تھا۔ تنہائی اور بے بسی کا احساس مہاراجہ کی شخصیت پر دور سے پڑھا جا سکتا تھا۔ جس ریاست کی فوج بھاگ گئی ہو اور قبائلی لشکر بارہ مولا پہنچ چکا ہو اس کے مہاراجے کی یہی حالت ہونی چاہیے تھی جو اس وقت ہری سنگھ کی ہورہی تھی۔ مہاراجہ کا خیال تھا کہ اگر اسی رفتار سے لشکر آگے بڑھتا رہا تو زیادہ سے زیادہ ایک یا دو دن میں وہ سری نگر پہنچ جائیں گے۔ وی پی مینن نے محسوس کیا کہ مہاراجہ کبھی نہیں سوچ سکتا تھاکہ ایک قبائلی لشکر بھی اس کی ریاست کے اندر اتنی دور تک گھس سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس کی فوج اور پولیس اہلکار اسے یوں اکیلا چھوڑ کر بھگوڑے بن سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ خطرناک بات یہ تھی کہ سری نگر کا اس وقت ان علاقوں سے کوئی رابطہ نہیں تھا جہاں قبائلی لشکر موجود تھا‘ لہٰذا کسی کو سری نگر میں کچھ پتہ نہ تھا کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ مہاراجہ کو صرف ایک ہی امید تھی کہ بریگیڈیئر راجندر سنگھ اس سے یہ وعدہ کرکے گیا تھا کہ وہ بارہ مُولہ کے مقام پر لشکر کو روک لے گا اور مہاراجہ کو پتہ تھا کہ سنگھ مرتے دم تک لڑے گا۔ وی پی مینن کے ذہن میں فوری طور پر ایک ہی بات آئی کہ باقی کام ایک طرف اسے فوراً مہاراجہ کو سری نگر سے نکالنا ہوگا تاکہ لشکر کے قبضے کی صورت میں وہ اپنے خاندان سمیت نہ مارا جائے۔ (جاری)
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker