رؤف کلاسراکالملکھاری

انور عزیز چوہدری کی یاد میں ۔۔رؤف کلاسرا

یاد پڑتا ہے برسوں پہلے اسلام آباد کلب میں اچانک ایک دراز قد صاحب میری طرف بڑھے اور خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ بولے: آپ کا شکریہ ادا کرنا تھا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ انہیں نہ پہچان سکا تو دور سے صحافی دوست اسلم خان نے آواز لگائی‘ او جناب اے چودھری انور عزیز ہیں۔ آپ انہیں بھی نہیں پہنچانے تو آپ نے خاک صحافت کرنی ہے۔
چند روز قبل میں نے اپنے کالم میں ذکر کیا تھا کہ کیسے جنرل مشرف کے دور میں نئی پارلیمنٹ وجود میں آگئی تھی۔ کیا اپوزیشن کے پاس انور عزیز چودھری جیسا کوئی بندہ نہیں جو سارا کھیل پلٹ دے جیسے انہوں نے جونیجو دور میں جنرل ضیا کے نامزد کردہ سپیکر قومی اسمبلی خواجہ صفدر کا الٹ دیا تھا؟ جنرل ضیا خواجہ صفدر کو سپیکر چاہتے تھے لیکن انور عزیز چودھری‘ جن کی عمر اس وقت پچپن برس تھی‘ نے دوستوں کو کہا‘ یار کوئی چکر چلاتے ہیں‘ جنرل کو تھوڑا سا جمہوری مزہ چکھاتے ہیں‘ اور پھر سب نے دیکھا جنرل ضیا کے نامزد خواجہ صفدر کے بجائے فخر امام سپیکر بن گئے۔
میں اس سے پہلے چودھری انور عزیز سے نہیں ملا تھا۔ صرف ان کے بارے میں پڑھا تھا۔ اور پھر وہ تعلق اگلے اٹھارہ برس قائم رہا۔ عامر متین اور ہما علی کے اسلام آباد والے گھر پر چودھری انور عزیز کا ٹھکانہ ہوتا۔ وہیں سب محفلیں جمتیں۔ وہ شکر گڑھ سے روانہ ہونے سے پہلے عامر متین کو کہہ دیتے‘ یار فلاں فلاں کو تو بلا لینا۔ عامر کے گھر پر ہی رات گئے تک محفلیں اور پارٹیاں چلتیں۔ چودھری صاحب کو سیاسی خبریں سننے کا بڑا شوق تھا۔ جن دنوں یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے‘ عامر متین کو کہتے: رئوف کو ضرور بلانا۔ ان کا خیال تھا‘ ملتانی ہونے کے ناتے میرے پاس شاید گیلانی صاحب کی کئی خبریں یا سیاسی راز ہوں گے‘ اور پھر وہ کافی دیر تک سب کو پہلے پیار‘ پھر سختی سے اور آخر پر ڈانٹ دیتے کہ یار چپ کرو ‘کوئی گل وی سنن دیو‘۔
چودھری انور عزیز شاید وہ پہلے فرد تھے جو گھنٹوں خاموشی سے آپ کی باتیں سن سکتے تھے‘ اگر آپ کوئی کام کی بات کررہے ہیں۔ کام کی بات سے مراد ہے‘ آپ اچھی سیاسی گفتگو کررہے ہیں، کوئی اچھا سیاسی تجزیہ پیش کررہے ہیں۔ چودھری انور عزیز سب کو خاموشی سے سنتے اور آخر پر سگریٹ کا طویل کش لے کر ہاتھوں کی جنبشوں کے ساتھ وہ سماں باندھتے کہ دل کرتا‘ وہ بولتے رہیں اور آپ سنتے رہیں۔ ان کے چہرے پر پھیلی پراسرار لیکن دل کو موہ لینے والی مسکراہٹ‘ ساتھ وہ سیاست اور سیاستدانوں پر گفتگو کرتے اور ایک نئے زاویے سے ہم سب کو نئے راستے دکھاتے۔ جوانی کے قصے ہوں، محبتوں کی کہانی، پنجابی شاعری، رومن تاریخ، مورخ گبن کی لکھی ہوئی کتابوں کا نچوڑ‘ بھٹو کے ساتھ گزرے لمحے ہوں یا کھلی گپ شپ۔ آپ چودھری صاحب کے ساتھ کوئی بھی بات کرسکتے تھے۔
چودھری صاحب کو جو بڑا فن آتا تھا‘ وہ دوستوں کے گھروں میں جاکر ان کی بیگمات کو اپنی بیٹیوں کا درجہ دینا تھا‘ ان کے لاڈ اٹھانا اور ان کے پکائے کھانوں کی دیر تک تعریف کرنا تھا۔ وہ شکر گڑھ کے گائوں کی غریب خواتین کے روزگار کیلئے ان سے بہت ساری چیزیں بنواتے اور پھر اسلام آباد میں دوستوں کے گھر جاکر انہیں پیش کرتے۔ انہیں پتہ تھا‘ مجھے مرچوں کا اچار بہت پسند ہے‘ تو وہ ہر دفعہ گائوں سے اچار لاتے۔
چار سال برس قبل اکبر چودھری امریکہ سے آئے ہوئے تھے۔ ان کا میرے گھر پر کھانا تھا۔ چودھری صاحب، عامر متین، ہما علی، ذوالفقار راحت اور دیگر دوست بھی موجود تھے۔ چودھری صاحب کو پتہ چلا کہ میرا چھوٹا بیٹا عمران خان کا فین ہے تو اسے بٹھا کر دیر تک اس کے ساتھ سیاست پر باتیں کرتے رہے۔ آخر چودھری صاحب نے چوٹ کی تو بولا: انکل آپ کا پوتا میکائل میرا کلاس فیلو اور دوست ہے‘ وہ تو عمران خان کا بڑا فین ہے‘ وہ تو دھرنے کے دنوں میں میرے ساتھ جاکر خاموشی سے عمران خان سے کنٹینر کے اندر مل بھی آیا ہے۔ چودھری صاحب کو بڑا دھچکا لگا… واقعی… کب؟
اور ایک بڑا قہقہہ گھر میں گونجا۔
میرے اور عامر متین کیلئے سب سے مشکل شو وہ تھا‘ جب دانیال عزیز کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔ چودھری انور عزیز کا عامر متین سے اپنے بچوں سے زیادہ پیار اور میرے ساتھ بھی بہت تعلق تھا۔ اب سب کی نگاہیں میرے اور عامر پر تھیں کہ ہم شو میں کیا کہتے ہیں۔ دونوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا گفتگو کریں اور کیسے کریں۔ تنقید کرتے ہیں تو انور عزیز چودھری ناراض ہوں گے نہیں کرتے تو ہمیں دیکھنے والے ناراض ہوں گے۔ خیر اس رات ہم نے شو کیا اور دانیال عزیز پر بھی تنقید کی حالانکہ دانیال کا بیٹا میرے بیٹے کا کلاس فیلو اور دوست تھا۔ پہلی دفعہ محسوس ہوا کہ وہ بچہ کیا سوچے گا‘ میرے دوست کا باپ میرے باپ پر تنقید کررہا ہے۔ اس رات محسوس ہوا کہ یہ کتنا مشکل پروفیشن ہے جس میں پھنس گیا ہوں۔
دو تین بعد عامر متین نے بتایا‘ چودھری صاحب ہمارے شو پر ناراض ہیں۔ کئی دنوں تک عامر سے رابطہ نہ رہا۔ مجھ سے بات نہ کی۔ خیر ایک دن لاہور سے واپس لوٹ رہے تھے کہ بھیرہ کے مقام پر اچانک ملاقات ہوگئی۔ محبت سے ملے لیکن محسوس ہورہا تھا کہ ناراضی باقی ہے۔ عامر کو کچھ نہ کہا‘ لیکن مجھے کہا: کلاسرے‘ ویسے ایک بات ہے تم نے دانیال کی پھینٹی خوب لگائی تھی۔ مزہ آ گیا۔ بولے: تمہیں پتہ ہے‘ میری ہمشیرہ نے وہ شو دیکھ کر کیا کہا تھا؟ میں چپ رہا تو بولے: شو کے دوران اچانک بولیں: بھائی جی یہ تو وہ منڈا نہیں جس کو آپ نے کچھ دن پہلے اچار بھیجا تھا؟ میں نے جواب دیا: آہو اوہی اے۔ وہ بولیں: کون سا اچار بھیجا تھا؟ میں نے کہا: مرچوں کا اچار بھیجا تھا۔ اس پر ہمشیرہ نے کہا: فیر تے منڈے دا کوئی قصور نہیں اگر تسی اونوں مرچاں دا اچار پھیجیا سی… فیر تے او صحیح کاوڑ کر ریا اے۔ مرچاں کھا کے ایہی گفتگو ہو سکدی اے‘ منڈے دا کوئی قصور نئیں!
ہر سال نومبر میں چودھری صاحب کی سالگرہ اسلام آباد کا سب سے بڑا ایونٹ ہوتا تھا۔ اسلام آباد کے صحافی دوست اکٹھے ہوتے، میوزک بجتا، رات گئے تک جمھرتاڑی چلتی اور پھر چودھری صاحب سے پنجابی میں ان کی سریلی آواز میں شاعری سنی جاتی۔ عامر متین کا گھر مستقل ٹھکانہ ہوتا، کبھی رائو تحسین سالگرہ کا بندوبست کرتے یا پھر کبھی ان کے بیٹے دانیال عزیز کے گھر پارٹی ہوتی۔ ابھی چند دن پہلے پچھلی جمعرات کو میں نے عامر متین سے پوچھا تھا: چودھری صاحب کی سالگرہ کب ہورہی ہے؟ کہنے لگے: وہ تو کچھ دن پہلے ہوگئی۔ مجھے جھٹکا سا لگا۔ اتنے برسوں میں پہلی دفعہ مجھے نہیں بلایا گیا تھا۔ کہنے لگے: وہ دراصل دانیال عزیز نے اپنے گھر پر کی تھی اور چند دوستوں کو ہی بلایا گیا تھا۔ مجھے افسوس ہوا کہ اب ہم ان کے دوستوں کی فہرست میں نہیں رہے تھے یا دانیال کے گھر دانیال کا حکم چلتا تھا کہ کون آسکتا ہے‘ کون نہیں۔ بعد میں پتہ چلا تقریباً سب دوست وہی تھے‘ بس میرا نام کاٹ دیا گیا تھا۔ سالگرہ پر تحفہ لے کر جاتا تھا تو خوش ہوتے اور کہتے او یار کلاسرے تیرا پچھلے سال دا گفٹ وی اجے میں استعمال نئیں کیتا۔
عامر کہنے لگے: وہ آج ہی لاہور کے لیے روانہ ہوئے ہیں‘ طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی‘ ان کے گھر والے کہتے ہیں‘ یہ اسلام آباد آپ کے پاس بھاگ جاتے ہیں کیونکہ ہم ان پر سختیاں کرتے ہیں کہ صحت کا خیال رکھیں‘ آپ کے ہاں سختی نہیں ہوتی لہٰذا کھل کر مزے کرتے ہیں۔ میں نے کہا: عامر بھائی چودھری صاحب نوے برس عمر کے ہیں‘ اب اور کیا احتیاط کریں۔ ساری عمر انہوں نے زندگی کو انجوائے کیا، اب بھی کرنے دیں۔
عامر متین نے کہا: بالکل یہی بات چودھری صاحب نے پنجابی میں گالی دے کر کہی تھی: یار اب نوے برس کی عمر میں اور کتنی پابندیاں، کتنی سختیاں اور کتنا جینا ہے… کافی ہوگیا۔
( بشکریہ : روزنامہ دنیا )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker