رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

منو بھائی کا ملتان مضبوط تھا ۔۔ رضی الدین رضی

منوبھائی کے رخصت ہو جانے کے بعد اس سوچ میں ہوں کہ ان کے بارے میں بات کہاں سے شروع کروں۔یادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو منو بھائی کے ساتھ وابستہ ہے۔ آیئے بات وہاں سے شروع کرتے ہیں جہاں ختم ہوئی تھی۔ اور وہ ان کے ساتھ آخری ملاقات کالمحہ تھا ۔دو جون 2016ءکا ایک لمحہ کہ جب وہ الحمرا کلچرل سنٹر لاہور کے باہر مجھے ملے تھے۔ اور میں نے اس ملاقات کا احوال قلم بند کرتے ہوئے لکھا تھا ’’ بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے ساتھ ہم دن میں کئی بار ملتے ہیں ان سے طویل گفتگو کرتے ہیں لیکن ان کی رفاقت جتنی بھی میسر آئے کم محسوس ہوتی ہے اور بقول شاعر ان کے ساتھ ”طویل رہنا بھی لگتا ہے مختصر رہنا“۔ اسے آپ محبت اور اپنائیت کا ایک رخ کہہ سکتے ہیں۔ لیکن محبت کا ایک دوسرا رخ بھی تو ہوتا ہے کہ جس میں آپ کسی ہستی کو چند لمحوں کے لئے ملتے ہیں اس کے ساتھ چند لمحے ہی گفتگو کر پاتے ہیں اور آپ کو احساس ہوتا ہے کہ جیسے یہ چند لمحے کئی برسوں پر محیط ہو گئے‘‘ ۔ اس روز منو بھائی ہمیں الحمرا کلچرل سنٹر لاہور کے باہر ملے تھے اور وہ ان کے ساتھ ہماری آخری ملاقات تھی ۔ وہ وجدان کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے اور ہم اسی کانفرنس کی دوسری نشست میں منعقد ہونے والے مشاعرے میں شرکت کے لیے نبیل نجم اور ڈاکٹر صغریٰ صدف کی دعوت پر وہاں پہنچے تھے۔ منو بھائی چھڑی تھامے آہستہ آہستہ پارکنگ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ ہم قمررضا شہزاد کے ہمراہ لپک کر سلام کرنے کے لیے ان کی جانب بڑھے۔ منو بھائی نے ایک لمحے کے لیے اجنبی نظروں سے ہماری جانب دیکھا۔ اورجب ہم نے اپنا نام بتایا تو محبت بھری شناسائی ان کی آنکھوں میں چمکنے لگی۔ انہوں نے مسکرا کر ہمیں گلے لگایا۔ دریافت کیا کہ ہم کب لاہور پہنچے اور کب تک یہاں قیام ہے۔ اور جب ہم نے بتایا کہ ہم آج ہی لاہور آئے ہیں اور اسی مشاعرے کے بعد واپس چلے جائیں گے کہ اگلے روز ہمیں ملتان پہنچ کر بجٹ ڈیوٹی بھی دینی ہے۔ تو انہوں نے شکوہ کیا کہ تم اتنے مختصر وقت کے لیے لاہور کیوں آئے ہو۔ اصرارکیا کہ اگلی مرتبہ جب بھی لاہور آﺅ تو مجھ سے ملنے کے لیے ضرورآنا۔ یہ مختصر سی گفتگو میرے لیے باعث مسرت بھی ہے اور باعث اعزازبھی۔ میں نے اور قمررضا شہزاد نے ان کے ساتھ تصویر بنوائی۔ اس تمام عرصے کے دوران انہوں نے بہت محبت اور مضبوطی کے ساتھ میرا ہاتھ تھامے رکھا اور یہی وہ لمحہ تھا جو کم وبیش تین عشروں پر محیط ہو گیا۔
منو بھائی سے ہماری کم وبیش 15سال بعد ملاقات ہوئی تھی۔ اور آخری بار وہ ہمیں اس زمانے میں ملے جب ہم روزنامہ جنگ کے ساتھ منسلک تھے ۔ منو بھائی کسی تقریب میں شرکت کے لیے ملتان آئے اور مختصر وقت کے لیے جنگ کے دفتر بھی تشریف لائے۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر جمیل چشتی کے کمرے میں ان کے ساتھ مکالمہ ہوا۔ اوراس کے بعد وقت نے یہ مہلت ہی نہ دی کہ میں ان کی محبتیں دوبارہ سمیٹ پاتا۔ الحمرا کلچرل سنٹر کے باہر اس مختصر سی ملاقات نے یادوں کاایک جہان آباد کر دیا۔ 1983ء کا وہ لمحہ کہ جب ہم پہلی بار منو بھائی سے ملے تھے۔ وہ اظہر جاوید کے ہمراہ نسیم شاہد کی کتاب کی تعارفی تقریب میں شرکت کے لیے ملتان آئے تھے۔ ملتان جس کے بارے میں انہوں اسی تقریب میں کہا تھا کہ جس کا ملتان مضبوط ہو اس کا اسلام آباد بھی مضبوط ہوتا ہے۔ 18،19 سال کے نوجوانوں کو اس وقت منو بھائی کا یہ جملہ سمجھ نہیں آیا تھا لیکن بعد کے دنوں نے ان کی اس بات پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ اسی دورے میں ہم نے روزنامہ سنگ میل کے لئے منو بھائی کا ایک طویل انٹرویو کیا جس میں ملتان کی یادوں اور ان کی زندگی کے احوال سمیت مختلف سوالات زیربحث آئے۔ اس انٹرویو کے لیے منو بھائی کا سکیچ معروف آرٹسٹ علی اعجاز نظامی نے تیارکیا تھا۔ اسی انٹرویو میں جب ہم نے منو بھائی سے یہ سوال کیا کہ آپ کی بیگم آپ کو کس نام سے پکارتی ہیں تو انہوں نے مسکرا کر کہا بعض اوقات وہ بھی مجھے منو بھائی کہہ دیتی ہیں لیکن بعد کے دنوں میں جب دلدار پرویز بھٹی نے منو بھائی سے یہی سوال کیا تو منو بھائی کا جواب تھا کہ میری بیگم مجھے دلدار کہتی ہیں۔ اس زمانے میں فوٹو گرافی کچھ اتنی آسان نہیں تھی اورمجھے یاد ہے کہ میں نے منو بھائی کے انٹرویو کے لیے جس فوٹو گرافر کو بلوایا تھا وہ وقت پر نہیں پہنچ سکا تھا۔ اور پھر ہم پینل انٹرویو کی تصویر بنوانے کے لیے منو بھائی کو صدربازار کے سلطان فوٹو سٹوڈیو میں لے گئے اوراس انٹرویوکے ساتھ ان کی وہی سٹوڈیو میں بنی ہوئی تصویر شائع ہوئی تھی۔ اسی دورے کے دوران منو بھائی نے ایک محفل میں میری شاعری سنی اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب چند روز بعد میری وہ غزل منو بھائی کے کالم کاحصہ بن چکی تھی۔ اس زمانے میں ان کے کالم کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ کالم کے درمیان کوئی اقتباس یا کسی شاعر کی غزل شائع کیا کرتے تھے اور کالم کے وسط میں شائع ہو نے والے اس باکس کو منو بھائی کے کالم کی”دھنی“ کہا جاتا تھا۔ منو بھائی کی محبتوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ بعد کے دنوں میں بھی کئی مرتبہ وہ کسی رسالے سے میری کوئی غزل یا چند اشعار اپنے کالم کی زینت بناتے تھے اور میرا حوصلہ بڑھاتے تھے۔
1985ء میں ملازمت کے سلسلے میں لاہور پہنچا تو منو بھائی کے ساتھ ملاقاتوں کے مزید مواقع میسرآئے۔ انہوں نے مجھے یہ اجازت دے رکھی تھی کہ میں جب چاہوں ان کے گھر چلا جاﺅں۔ سو ریواز گارڈن میں منو بھائی کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ کبھی یوں بھی ہوا کہ میں صبح 10، 11 بجے کے قریب ان کے گھر پہنچا تو وہ کالم لکھنے میں مصروف ہوتے تھے۔ میں خاموشی کے ساتھ ان کے ڈرائنگ روم میں موجود اخباروں کی فائل کا مطالعہ کرتا رہتا اوراس دوران منو بھائی اپنا کالم مکمل کر لیتے۔ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی تو ملتان کے دوستوں خاص طور پر ولی محمد واجد کی خیریت ضرور دریافت کرتے۔
ملتان کا ذکر آیا تو ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ مسعود اشعر اور اصغرندیم سید کی طرح اہل ملتان منو بھائی کوبھی ملتانی ہی سمجھتے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ وہ 60ء کے عشرے میں روزنامہ امروز ملتان کے ساتھ رپورٹر کی حیثیت سے وابستہ تھے۔ اور اسی زمانے میں انہوں نے ایک کالم میں معروف محقق، نقاد اور ماہر تعلیم پروفیسر جابر علی جابر کا ذکر کرتے ہوئے یہ تحریر کیا تھا کہ حضرت علی بھی کتنے مظلوم ہیں کہ ان کے دونوں جانب جابر ہیں۔ منو بھائی کے اس کالم کے بعد پروفیسر جابر علی جابر نے اپنا نام تبدیل کر لیا اور پھروہ عمر بھر جابر علی سید کے نام سے جانے گئے۔ 90ء کے عشرے میں منو بھائی ایک مرتبہ پھر ملتان تشریف لائے تو ان کے ساتھ ایک طویل نشست شاکر حسین شاکر اور اظہر سلیم مجوکہ کے ہمراہ کمپنی باغ میں ہوئی۔ جس میں ملتان کے کچھ اور دانشور بھی موجود تھے۔ منو بھائی کے ساتھ ایسی بہت سی ملاقاتیں میری زندگی کا حاصل ہیں۔ ان کے بے شمار تخلیقی جملے اور پنجابی نظمیں مجھے برسوں سے یاد ہیں اور عمر بھر یاد رہیں گی۔ وجدان کانفرنس اور مشاعرے میں اگرچہ اس روز بہت سے دوستوں سے طویل عرصہ بعد ملاقات ہوئی لیکن ہمارے لئے اس کانفرنس اور مشاعرے کا حاصل منو بھائی سے ہونے والی وہ چند لمحوں کی ملاقات ہی تھی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker