رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

غزلوں میں زنانہ ، مردانہ لہجے اور برساتی رسالے : ہوتل بابا کا کالم ( 5 ) ۔۔ رضی الدین رضی

ایک طویل عرصہ تک ہم حسین سحر کو شاکرحسین شاکر کا چھوٹا بھائی سمجھتے رہے ، لیکن جب ہمیں معلوم ہوا کہ وہ تو ان کے چچاہیں تو حسین سحر زقند بھر کر بزرگوں کی صف میں کھڑے ہوگئے اوران کی قدرومنزلت ہمارے دل میں فوراً بڑھ گئی۔ہماری غلط فہمی کی وجہ یہ تھی کہ پروفیسر حسین سحر کی عمر ایک نقطہ پر رکی ہوئی تھی۔وہ بوڑھوں میں جوان اور جوانوں میں نوجوان نظرآتے ہیں۔حسین سحر اورشاکر حسین شاکر اکٹھے کھڑے ہوں تو پتہ نہیں چلتا کہ چچا کون ہے اور بھتیجا کون؟ایک عرصہ تک خود ہمیں ملال رہا کہ مشاعروں میں ہمیں حسین سحر سے پہلے کیوں بلالیا جاتا ہے لہذا اب ہم اس کی تلافی کرنے کے درپے ہیں اور آپ کوبتاتے ہیں کہ ملتان سے ”اہل قلم “حسین سحر نے ہی جاری کیاتھا جس کی تقلید میں خانیوال اور بہاولپور سمیت مختلف شہروں سے کئی برساتی پرچے نکل آئے اورمینڈکوں کی طرح ٹرانے لگے۔اب حسین سحر کاایک انٹرویو ”امروز“لاہور میں شائع ہوا ہے۔اس انٹرویو میں انہوں نے لوگوں کے باہمی اختلافات کو ہوا دینے کی مقدور بھر کوشش کی ہے۔یہ انٹرویو ادبی حلقوں میں خوب زیربحث ہے۔انٹرویو کی خوبی یہ ہے کہ حسین سحر سوالات سے کترانے کی کوشش بھی کررہے ہیں۔بس یوں جانے کہ سوال ان کاتعاقب کرتا ہے اور وہ اس کے آگے آگے بھاگتے ہیں۔پوچھا گیا ”فیض کے بعد بڑا شاعر کون ہے؟“جواب میں حسین سحر نے فیض کے بعد کسی دوسرے کو بڑا شاعر ماننے سے انکارکردیا۔انٹرویو نگار نے احمد ندیم قاسمی کی شاعری کے بارے میں پوچھا تو حسین سحر نے فوری طورپر قاسمی صاحب کو رئیس امروہوی کے برابرلاکھڑا کیا۔مزید فرمایا ” یہ لوگ شاعری تو ضرور کررہے ہیں لیکن فیض احمدفیض کا ادبی مرتبہ ان سب سے زیادہ ہے۔رئیس امروہوی اور احمد ندیم قاسمی کو ایک قطار میں کھڑا دیکھ کر کچھ لوگوں کو حیرت ہوئی تو کچھ لوگ خوش ہوگئے۔ایک طبقے کا کہنا ہے کہ حسین سحر نے ندیم قاسمی سے زیادتی کی ہے۔دوسراطبقہ کہتا ہے کہ رئیس امروہوی مفت میں مارے گئے۔اب شاید محمد علی صدیقی ”ڈان“میں کالم لکھ کر رئیس امروہوی کا دفاع کریں ۔ہم اس مسئلے پر مزید اظہارخیال نہیں کرتے اورآپ کو اخترشمار کے ہائیکو کے مجموعے ”روشنی کے پھول“کااحوال سناتے ہیں ۔یہ مجموعہ شائع ہوا تو عبداللطیف اختر نے نوائے وقت کے ادبی ایڈیشن میں تبصرہ کرتے ہوئے اخترشمار کو محنت کرنے کامفت مشورہ دے ڈالا۔جہاں تک اخترشمار کاتعلق ہے تو وہ پہلے ہی بہت محنتی ہیں ۔انہوں نے اپنے ہائیکو مجموعے کے نام کی تلاش میں انتہائی محنت سے کام لیا اور ”فنون کے سار ے پرچے کنگھال ڈالے“۔آخر انہیں ایک کرم خوردہ ”فنون“شمارہ فروری مارچ 1982ءکے صفحہ 207 سے شاہد واسطی کی زیرطبع کتاب کااشتہارپسند آگیا ۔اخترشمار نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ”روشنی کے پھول“ کے نام سے ہائیکو کامجموعہ چھاپ ڈالا۔شاہدواسطی کامجموعہ زیرطبع ہی رہ گیا۔شاہد واسطی کی شرافت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ وہ مبارک احمد کوبھی برداشت کرلیتے ہیں چنانچہ وہ ضیاءشبنمی کی طرح مدیر ”فنون“ سے نہیں الجھے بلکہ نہایت شرافت کے ساتھ اپنی کتاب کانام ”رتوں کے درمیان“ رکھ دیا۔اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم کسی پر کوئی الزام عائد کرنا چاہتے ہیں ، ہم تو صرف یہ بتا رہے ہیں کہ رسالہ فنون کے اشتہاربھی ادیبوں میں بہت دلچسپی سے پڑھے جاتے ہیں۔
نذیر قیصر کو پچھلے دنوں اس وقت اچانک شہرت مل گئی جب انہوں نے دعویٰ  کیا کہ ان کی لکھی ہوئی غزلیں عطاءالحق قاسمی مشاعروں میں پڑھتے رہے ہیں۔نذیرقیصر کبھی ملتان میں ہوا کرتے تھے۔ان کے قیام ملتان کے دوران ہی اسلم انصاری کاشعری مجموعہ ”خواب آگہی“منظرعام پرآیا تو نذیر قیصر نے انصاری صاحب پر بھی الزام عائد کردیا کہ اس مجموعے کے بہت سے اشعار پہلے سے ہماری غزلوں میں موجودہیں۔لیکن جب بھی نذیر قیصر سے اشعار کی نشاندہی کی گزارش کی گئی وہ جواب گول کرگئے۔عطاءالحق قاسمی صاحب کوبھی اطمینان رکھنا چاہیے کہ نذیر قیصر صرف الزام عائد کرتے ہیں مگر ثبوت کبھی فراہم نہیں کرتے۔اگلے روز یہ واقعہ ہوا کہ حیدرگردیزی کو نذیر قیصر اور اسلم انصاری کے اشعار میں زنانہ لہجہ نظرآگیا بالکل اسی طرح جیسے لوگوں کو بعض خواتین کی غزلوں سے مردانہ لہجہ جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔حیدرگردیزی نے صرف الزام نہیں لگایا دواشعاربھی حوالے کے طورپرسنائے ۔
میری طرح اکیلی ہے
بارش مری سہیلی ہے(نذیرقیصر)
دیوارِخستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگا
میں گرپڑوں گی دیکھ مجھے آسرا نہ دے(اسلم انصاری)
اگر آپ کو ان اشعار میں یکساں قسم کا زنانہ لہجہ دکھائی دے تو حیدرگردیزی کی بجائے حزیں صدیقی کی طرف رجوع کریں جو ملتان کے بیدل حیدری ہیں اور جن کی بیٹھک میں ہرچھوٹے بڑے شاعر کی مشکل کشائی ہوتی ہے۔خود ہم نے اس آشیانے سے بہت فیض اٹھایا۔
پندرہ روزہ دید شنیدلاہور۔یکم جولائی 1986ء
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker