رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

1986 ء کا ریڈیو ملتان : ہوتل بابا کا کالم ( 6) ۔۔ رضی الدین رضی

صاحبو ہم ریڈیوپروگراموں میں شرکت نہیں کرتے تواس کی وجہ ریڈیو سے کوئی اصولی اختلاف نہیں۔دراصل ریڈیو ملتان پر صرف افسروں اور پروفیسروں کوہی مدعوکیاجاتا ہے۔اگر آپ کسی ”ماڑے موٹے“اخبار کے ایڈیٹر ہیں تو بھی اپنی شرکت ہر پروگرام میں ضروری سمجھیں۔علامتی افسانے اور نثری نظم سے لے کر کسی بڑے آدمی کی فاتحہ خوانی تک ہر پروگرام میں آپ کو بلایاجائے گا۔ہم نہ تین میں نہ تیرہ میں۔کالم ضرور لکھتے ہیں لیکن وہ بھی ایسا کہ لوگ خوش ہونے کی بجائے ناراض ہوجاتے ہیں اور ریڈیو کی تعریف کاپہلو تو ہم سے کہیں نکلا ہی نہیں۔ہم ریڈیو کے معتوب بھی نہیں۔ہمیں بھی پروگراموں میں شرکت کا موقع فراہم ہوسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ریڈیو ملتان کے ارباب بسط و کشاد کی مد ح سرائی کی جائے۔مد ح کاذکر آیا تو سنیئے ان دنوں پروفیسر عاصی کرنالی اوراقبال ساغرصدیقی جیسے بڑے ادیب بھی اسمہائے  تفضیل مرزا سودا کے قصیدوں سے تلاش کرتے ۔اور انہیں مرزا غالب کے انداز میں استعمال کرتے دیکھے گئے۔حالانکہ انہیں میڈیا کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں ۔میڈیا خود ان کامحتاج ہے۔ہمارامسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمیں سودا کی زبان نہیں آتی۔ہم مد ح اور ہجو دونوں میں کمزور ہیں۔خوبی نظر آئے تو تذکرہ ضرور کرتے ہیں۔خامی نظرآئے تو صرف خامی کی وجہ بیان کرتے ہیں۔مقصد انتشارنہیں اصلاح ہوتا ہے۔ہماری بدقسمتی دیکھیں کہ ریڈیو ملتان کے پروگراموں میں ہمیں تاحال کوئی خوبی ڈھونڈے سے بھی نہیں ملی۔
ادب کے ناطے ہماری تمام تر دلچسپی ادبی پروگراموں سے ہے ، یہاں ہم وہ پروگرام بھی شوق سے سنتے ہیں جن میں ادیبوں کاحوالہ آجائے۔آج کل ہم بچوں کا پروگرام سن رہے ہیں تووجہ یہ ہے کہ اس کی کمپیئرنگ اقبال ارشد کرتے ہیں۔صاحب ہم تو حسین سحر کی ہمت کی داد دیتے ہی نہ تھکتے تھے۔اب اقبال ارشد بھی ریڈیو گروپ میں شامل ہوگئے۔یہ حضرات ریڈیو کے لیے سب سے زیادہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔اوراب اتنے تجربہ کارہوچکے ہیں کہ بیک وقت کئی پروگراموں کو نمٹا سکتے ہیں۔سلام ناصر اورقمرحسین کے جانے کے بعد بچوں کے پروگرام کی کمپیئرنگ حسین سحر کے سپرد کی گئی تھی۔وجہ یہ تھی کہ وہ عرصے سے بچوں کاادب تخلیق کررہے ہیں۔لیکن جب حسین سحر بچوں میں بیٹھ کر خود کوبھی بچہ ہی محسوس کرنے لگے تو انہوں نے یہ بچگانہ کام اقبال ارشد کے سپرد کردیا۔اب اقبال ارشد کاحوصلہ دیکھئے کہ وہ دوسرے پروگرام توچھوڑ دیتے ہیں لیکن گزشتہ دوتین برس سے بچوں کے پروگرام میں بالالتزام شرکت کرتے ہیں۔جمعہ کی صبح نذرانے والا مشاعرہ بھی ہوتو اسے نظراندازکردیتے ہیں۔یہ پروگرام کی خامی نہیں بلکہ خوبی ہے کہ بچے چپ رہتے ہیں اور بھائی جان (اقبال ارشد)بولتے چلے جاتے ہیں۔
ریڈیو ملتان کے ہرپروڈیوسر نے کام نمٹانے کے لیے ایک عدد ایجنٹ مقررکیا ہوا ہے۔جو پروگرام کی ترتیب  کے علاوہ مختلف لوگوں کے درمیان ہرکارے کے فرائض بھی انجام دیتا ہے۔اوریوں اسے ہرہفتے کسی ریڈیوپروگرام میں شریک کرلیاجاتا ہے۔ادبی پروگرام کی خوبی یہ ہے کہ اسے جس پروڈیوسر کے سپرد بھی کیاجاتا ہے وہ دیکھتے ہی دیکھتے شاعر بن جاتا ہے۔اس کی مانگ شہر کے اندر اورشہر کے باہر بڑے بڑے مشاعروں میں اچانک پیدا ہوجاتی ہے۔داد اورنذرانہ دونوں افراط سے ملتے ہیں۔اور یہ لین دین اس محبت اور خلوص سے ہوتا ہے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ایک پروڈیوسر پانچ پروگرام پہلے تک ایک مصرعہ بھی ٹھیک سے نہیں پڑھتے تھے۔اب حال ہی میں کل پاکستان مشاعرہ پڑھ کر کامیاب لوٹے ہیں۔ادبی پروگرام کے یہ پروڈیوسر اس پروگرام کے دوران ہی شاعر بنے تھے۔ان کی غزلیں دھوم دھام سے سنی گئیں۔المیہ یہ ہوا کہ ادھر ادبی پروگرام دوسرے پروڈیوسر کے سپرد ہوا ادھر پہلے صاحب کی شاعری کا دورختم ہوگیا ۔اور دوسرے نے شاعری شروع کردی۔وہ چونکہ اب تک اس پروگرام کے پروڈیوسرچلے آرہے ہیں اس لیے ان کی شاعری بھی رواں دواں ہے۔ان ہی پر موقوف نہیں اس پروگرام کی بدولت شاعری اب ان کی سابقہ نسل میں بھی منتقل ہوگئی ہے۔حضرت فقیر نور جعفری کی شاعری پر شاید پی ایچ ڈی کامقالہ بھی لکھاجائے گا۔فی الحال یہی بات کافی ہے کہ فقیر نورجعفری صاحب ریڈیو کے تحت ہونے والے ہرمشاعرے میں بہتر مقام پر پڑھائے جاتے ہیں۔بہتر مقام تو خیر خود اخترجعفری کوبھی مل جاتا ہے۔لیکن اس میں اختر صاحب کی احتیاط بھی شامل ہے۔وہ مشاعرہ گاہ میں اس وقت داخل ہوتے ہیں جب تمام بزرگ شعراءاپنا کلام سنا چکے ہوتے ہیں۔ایک دن ہم نے ایک صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ ملتان کے شاعروں اور ادیبوں کے نام جانتے ہیں کہنے لگے بالکل جانتا ہوں۔ہم نے کہاذرا گنوائیں تو کہنے لگے عاصی کرنالی،عرش صدیقی،حسین سحر،اقبال ارشد،اقبال ساغرصدیقی،انواراحمد،اے بی اشرف،عامرفہیم،سید سلطان احمد،انورجمال،فقیر نورجعفری،حزیں صدیقی،ارشد ملتانی۔۔۔اوربس۔ہم نے کہابھائی یہ تو صرف ایک درجن شاعروں کے نام ہیں جبکہ ملتان تو کم ازکم ایک سنیکڑہ شاعروں سے بھراپڑا ہے۔کہنے لگے ہم تو انہی کوجانتے ہیں سوال کیا آپ کی معلومات کادائرہ کیا ہے۔کہنے لگے ریڈیو کاادبی پروگرام۔ہرمرتبہ انہی لوگوں کو مدعو کیاجاتاہے۔ کوئی اور شاعر ادیب ہوتا تو کیا وہ نہ بلایاجاتا؟اس فہرست کودیکھیں تو تین طرح کے لوگ نظرآتے ہیں۔پہلا نمبر پروفیسروں کاہے یعنی عاصی کرنالی،حسین سحر،عامرفہیم،اے بی اشرف،انواراحمد اورانورجمال وغیرہ۔دوسرا نمبر افسروں کاہے یعنی عرش صدیقی اوراقبال ارشد۔صحافیوں کے کوٹے میں اقبال ساغرصدیقی،سید سلطان احمد اور حزیں صدیقی کومدعو کرلیاجاتا ہے۔رہ گئے فقیر نورجعفری تو وہ کس کوٹے میں شمارہوں گے؟ویسے سچ یہ ہے کہ فقیر صاحب مشاعروں کی جان ہیں۔ان کے بغیر ہرپروگرام پھیکانظرآتا ہے۔
ادبی پروگرام کے علاوہ ادیب اورشاعر دیگر پروگراموں کے سکرپٹ بھی لکھتے ہیں۔دوڈھائی سال پہلے ملتان ریڈیو سے ”سرودسحر“ کے نام سے ایک ہلکاپھلکا پروگرام نشرہوتا تھاجس میں فکاہیہ جملے اور لطیفے دلچسپ انداز میں نشرکیے جاتے تھے۔پہلے پہل تو یہ پروگرام مزاحیہ ادیب لکھتے تھے پھر پروڈیوسرصاحبان نے یہ سکرپٹ بھاری بھرکم نثر لکھنے والے پروفیسروں کے سپرد کردیا۔اور آخری دنوں میں تو یہ حال ہوگیا کہ پروڈیوسر صاحب نے پرانے سکرپٹوں کے ٹوٹوں سے نیا سکرپٹ تیارکرلیا اورپروگرام نشرہونے کے بعد چیک پروڈیوسر صاحب کے بھانجے یابھتیجے کے نام جاری ہوگیا۔آج کل صورتحال یہ ہے کہ ایک ادیب کو چاریا پانچ پروگراموں کے مسودے تیارکرناہوتے ہیں۔مثلاً ادبی پروگرام کے فوراً بعد محنت کشوں ،کاشتکار وں اور فوجی بھائیوں کے پروگرام کے لیے سکرپٹ لکھے جاتے ہیں۔مارشل لاءدور کی بات دوسری ہے ان دنوں تو سرکاری افسروں اورپروفیسروں کی خواہش ہوتی تھی کہ ان سے فوجی بھائیوں کے پروگرا م کے لیے فیچر یا ڈرامے لکھوائے جائیں۔
اوراب ذکرکرتے ہیں سٹیشن ڈائریکٹر ناصرالیاس کا۔اتفاق یہ ہے کہ پروڈیوسروں کی بڑی تعداد ناصرالیاس کو نظربد سے دیکھتی ہے۔دوچارماہ پہلے سٹیشن ڈائریکٹرکی شان میں لکھی گئی خوبصورت مزاحیہ نظمیں فوٹو سٹیٹ کی شکل میں تقسیم ہوئیں توسب کی نظریں صادق قمر کی طرف اٹھیں۔صادق قمر صاحب طرز شاعر ہیں اورملتان سے ان کاتعلق پرانا ہے۔ایک طویل عرصہ کراچی میں گزارنے کے بعد حال ہی میں ملتان واپس آئے ہیں۔لیکن مقامی ریڈیوافسروں کے ساتھ ان کی تاحال نہیں بن سکی۔
قارئین محترم،ہم مرنجاں مرنج آدمی ہیں۔ہم نہ توکسی ریڈیوافسر کوناراض کرناچاہتے ہیں اور نہ پروڈیوسر کے باہمی اختلافات کو ہوا دینا ہمارا مقصود ہے۔ہم تو بس یہ چاہتے ہیں کہ ریڈیو پروگراموں کے معیار کو بلند کیاجائے۔مخصوص لوگوں کی اجارہ داری ختم کی جائے۔آخر اگلے وقتوں کے یادگارَزمانہ قسم کے لوگوں پر کب تک تکیہ کیاجائے گا۔
پندرہ روزہ دیدشنید لاہور۔یکم اگست1986ء
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker