رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

اقبال مبارک اور جنازگاہوں میں تبدیل ہوتےدفتر ۔۔ رضی الدین رضی

اقبال مبارک نے اِس مرتبہ دوستوں کوخیرمبارک بھی نہ کہا، وہ خیرمبارک جووہ اکثراپنانام پکارنے پرکہاکرتاتھا،بس اس نے عجلت میں رخت سفرباندھا،دکھوں کاسفرمختصرکیااوراگلے جہان کے سفرپرروانہ ہوگیا۔لیکن جاتے ہوئے ہمارالاڈلاہمیں ہمارے میڈیاکامستقبل بھی بتاگیا۔اقبال مبارک جاتے ہوئے اخبار کے دفتر کو جناز گاہ میں تبدیل کرگیا، اوراس لئے تبدیل کرگیاکہ اُس کے ساتھی اور اُس کے رفقاءاس کے جنازے میں شرکت نہیں کرسکے تھے۔ وہ شدید صدمے یاشایدبے پناہ دفتری مصروفیات کے باعث اُس اقبال مبارک کے جنازے اور تدفین میں شریک نہ ہوسکے جوکم وبیش رُبع صدی سے اُن کے ساتھ کام کرتاتھا،ان کاہم نوالہ اورہم پیالہ تھا۔پھر اُس کے ساتھیوں نے اُس کی تدفین کے بعد اپنے ہی دفترمیں صفیں بچھائی اوراپنے اقبال مبارک کی غائبانہ نمازجنازہ اداکردی۔کارکنوں کے پاس خاموش احتجاج کااورکوئی طریقہ بھی تونہیں تھا۔اوریہ ایسا احتجاج تھاجس پرکسی کی ناراضی کابھی کوئی خطرہ نہیں تھا،کسی جرمانے یاتنخواہ کم ہونے کاامکان نہیں تھا۔



یہ بے بسی کی انتہاہوتی ہے کہ آپ اتنے مجبورہوں کہ جب آپ کے ساتھ کام کرنے والاآپ کاساتھی آپکارفیق کار اور آپ کا پیارا جاں کنی کے عالم میں ہو توآپ میں سے کسی کے پاس اتنی مہلت بھی نہ ہو اورکسی کو اتنی فرصت اور اتنی اجازت بھی نہ ہو کہ وہ اسے سہارادے کر اس کے ساتھ ہسپتال تک جاسکے۔اقبال مبارک کی وجہ سے یہ” اعزاز “بھی ملتان کے حصے میں آ گیاکہ پہلی بار ایک کارکن صحافی کا جنازہ اس کے دفترمیں اداکیاگیا۔یہ مثال شاید دنیا میں کسی اوراخبار کے دفترمیں نہیں ملے گی ۔
ایک ایسے ماحول میں کہ جب صحافتی ادارے بندکئے جارہے ہیں ،ڈاﺅن سائزنگ کاعمل تیزی کے ساتھ جاری ہے اور کارکنوں کو بے روزگار کیا جا رہاہے اُس ماحول میں اقبال مبارک کی موت اُس سنگین صورتحال کو ظاہر کرتی ہے جس میں آج کے صحافی کام کررہے ہیں ۔
حالات اتنے بُرے توضرورہیں کہ موت کے منڈلاتے سائے میں بھی ایک کارکن گھرسے دفترکےلئے روانہ ہوجاتاہے۔معمول کے مطابق اپناٹفن بھی ساتھ لاتاہے کہ وہ اِس یقین کے ساتھ دفترآرہاتھاکہ اُس کی خراب طبیعت دوستوں میں جاکرسنبھل جائےگی۔ لیکن طبیعت مزیدبگڑگئی پھر وہ دفترآکربتاتاہے کہ میری طبیعت بہت خراب ہے مجھ سے کام نہیں ہورہا۔حالات کاراچھے ہوتے تو وہ گھر بیٹھ کرہی اپنے دفترکواپنی طبیعت کی خرابی سے آگاہ کردیتا۔حالات اچھے ہوتے توشاید وہ اُس ذہنی دباﺅ کاشکاربھی نہ ہوتا جس دباﺅمیں اخبارات اورچینلوں کے بچے کھچے کارکن اپنے اپنے دفاترمیں اپنی زندگی کے دن پورے کررہے ہیں ۔وہ روزانہ اس دھڑکے کے ساتھ اپنے دفترمیں داخل ہوتے ہیں کہ دیکھیں آج کس کس کی رخصتی کاپروانہ اُس کامنتظرہے؟ کس کی تنخواہ آدھی اورجرمانہ دوگناکردیاگیاہے ؟



17فروری کی دوپہر ہم تحسین غنی اورامریکہ سے آئی ہوئی مہمان شاعرہ حمیرہ رحمن کے ہمراہ دہلی گیٹ کی گلیوں سے گزرے توہمیں فاروق عدیل یادآگیا،وہ بھی ایک کارکن صحافی تھااورلڑکپن سے ہی اخباری صنعت کے ساتھ وابستہ ہوگیاتھا۔فاروق عدیل اس لئے یادآیاکہ ہم اسے ملنے کےلئے دہلی گیٹ جایاکرتے تھے۔وہ جس بے بسی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوا اس کی ایک الگ کہانی ہے لیکن اُسی شام اقبال مبارک کی موت کے بعد احساس ہوا کہ جیسے فاروق عدیل اقبال مبارک سے کہیں زیادہ خوش قسمت تھااتناخوش قسمت کہ اُس کے جنازے پراُس کے ساتھ کام کرنے والے اُس کے تمام دوست تو موجود تھے ۔فاروق عدیل کی موت میں بے بسی ضرورتھی مگروہ غربت ہرگز نہیں تھی جس کاشکار اقبال مبارک ہوا۔فاروق عدیل زندگی میں تو شاید تنہائی کاشکارہوا ہوگا دوستوں نے اس کے مخدوش حالات دیکھ کر اس سے کنارہ کشی بھی کی ہوگی ،لیکن جوتنہائی اقبال مبارک کے جنازے نے دیکھی اُس کے تصور سے بھی رُوح کانپ جاتی ہے ۔18فروری کی شب جب قیصرعباس صابرنے اقبال مبارک کی گلابوں سے ڈھکی ہوئی تازہ قبرکی تصویرلگائی اورلکھاکہ” اقبال مبارک آپ کے ساتھ پچیس برس کے رَت جگے کاٹنے والے دوست اورنیوزروم میں ایک ساتھ چائے پینے والے آج بھی مصروف تھے آپ کاجنازہ صحافی دوستوں کی بے حسی کی سب سے بڑی مثال ہے “۔اورپھر اُس پوسٹ پراقبال مبارک کے دوست امین وارثی نے لکھا کہ اُس کابھائی جنازے پراُس کے ساتھیوں کی عدم شرکت پربہت دُکھی تھا۔توہم نے سوچا کہ قیصرعباس سے کہیں گے کہ اقبال مبارک کے دوستوں سے کوئی شکوہ نہ کرے کہ فی زمانہ سب بہت مجبور ہیں اورنیوز روم والوں کو تو اپنے عزیزوں کے جنازے میں جانے کی اجازت بھی بڑی مشکل سے ملتی ہے ۔
اقبال مبارک لاڈلاتھاہم سب کالاڈلاتھا،قہقہے لگانے والا،لطیفے سنانے والا،اپنے دکھوں کوچھپاکرہنسنے والا،ایک ایسااخباری کارکن جس نے اپنے باقی ساتھیوں کی طرح بہت کم عمری میں اخبارکی مشقت شروع کردی تھی ۔راتوں کو ڈیوٹیاں دیتاتھااوررات کی ڈیوٹی دینے والوں کو تو خواب دیکھنے کی مہلت کم ہی ملتی ہے ۔وہ میرے قمرالحق قمر کا لاڈلا تھا اور اسی کادِیاہوانام اخباری صنعت میں اس کی پہچان بن گیا۔اقبال مبارک نے اپنے جیون میں بہت کم مبارک ساعتیں دیکھیں ۔وہ ایک جذباتی نوجوان تھا،ایک تخلیقی نوجوان تھاوہ صرف صحافی یانیوز روم کا کلرک نہیں تھا،وہ لکھناجانتاتھابہت تلخ لکھتاتھااوراس لئے تلخ لکھتا تھا کہ وہ بندہ مزدورتھاجس کے بارے میں اقبال خودکہہ گئے کہ اس کے اوقات بہت تلخ ہوتے ہیں اورجن کے اوقات بڑے تلخ ہوتے ہیں ان کی تحریروں میں بھی تلخی آجاتی ہے۔اقبال مبارک سیاسی وسماجی ناہمواریوں کااپنے قلم سے پوسٹ مارٹم کرتاتھا۔وہ ایک ترقی پسند اور روشن خیال نوجوان تھاوہ جمہوریت پسندتھاوہ صحافیوں کے حقوق کی تنظیموں سے وابستہ تھاوہ بہت اچھی طرح جانتاتھاکہ صحافیوں کوان کے حقوق کبھی نہیں مل سکتے ۔وہ اچھی طرح جانتاتھاکہ صحافیوں کے نام نہادلیڈروں نے صرف اپنے حالات بہترکرنے کےلئے کارکنوں کے حالات تبدیل کرنے کانعرہ لگارکھاہے لیکن اس کے باوجودوہ ان تنظیموں کاحصہ بھی رہتاتھااورابھی چند روز پہلے ہی تو وہ صحافیوں کی ایک تنظیم کابلامقابلہ مندوب منتخب ہواتھا۔اُس کے دفترمیں اُس کے بہت سے ساتھیوں نے باری باری اس کے گلے میں پھولوں کے ہارڈالے اُسے گلدستے پیش کئے ۔وہ ہارڈالنے کے دوران اورگلدستے لیتے ہوئے یقیناََ قہقہے بھی لگاتا رہاہوگالطیفے بھی سناتارہاہوگالیکن اُس نے یہ ہرگزنہ سوچاہوگاکہ اُس کے گلے میں پھول ڈالنے والے اس کے دوست اُس کی قبرپرپھول ڈالنے بھی نہیں آئیں گے ۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker