رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

جشنِ ندیم اور ایک بد نصیب کی خوش نصیبی : ہوتل بابا کا کالم (9 ) ۔۔ رضی الدین رضی

اس ہفتے کی سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ صلاح الدین حیدر اور تاثیر وجدان کی طرح اس مرتبہ ہمیں بھی ”جشن ندیم“ میں شرکت کے لئے دعوت نامہ موصول ہوا جس میں واضح طورپر لکھا تھا کہ اپنے محبوب شاعر کی 70ویں سالگرہ میں شرکت کے لئے ”اپنے طورپر“تشریف لائیں۔ہم تو خیر مشاعروں کے معاملے میں بھی زاد سفر کے قائل نہیں ہیں اور مشاعرہ پڑھنے کا موقع ملنے کی دیر ہے اپنے جیب سے کرایہ لگا کر مشاعرہ گاہ میں پہنچ جاتے ہیں ، یہ تو پھر ندیم صاحب کی سالگرہ کا معاملہ تھا۔ہم بھلا پیچھے کیوں رہتے؟فوراً تاثیر وجدان کے ساتھ مل کرپروگرام بنایا اور لاہور کے لئے روانہ ہوگئے۔لاہور پہنچتے ہی ہمیں احساس ہوا کہ ہم ایک بڑے شہر میں آگئے ہیں۔کہاں ملتان اورکہاں لاہور؟وہاں باباہوٹل کی لڑائیاں یہاں ٹی ہاﺅس کے معرکے۔ملتان کا کوئی بڑاشاعر یا ادیب مربھی جائے تو احباب کو خبر نہیں ہوتی۔لاہور کے کسی معمولی شاعر یا شاعر نما شخص کو چھینک بھی آجائے تو اخبارات میں تصویریں چھپ جاتی ہیں۔اسی سالگرہ کولیجئے کبھی آپ نے ملتان کے کسی ادیب یا شاعر کو سالگرہ مناتے دیکھا۔اول تو ابھی یہاں کے بیشتر اہم شعراکرام نے 70کے ہندسے کو چھوا ہی نہیں۔60کے پیٹے میں کچھ لوگ پہنچ چکے اور کچھ پہنچنے والے ہیں۔لیکن کسی نے کبھی سالگرہ کے بارے میں سوچا ہی نہیں۔ویسے قاسمی صاحب کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے بعد ہمارا جی چاہنے لگا ہے کہ ہم بھی اپنے بزرگوں کو زندہ درگور کرنے کی کوئی سبیل نکالیں۔مثلاً عرش صدیقی،عاصی کرنالی یا حزیں صدیقی میں سے کسی ایک کا جشن منایا جاسکتا ہے۔جشنِ عرش،جشنِ کرنالی یا جشنِ حزیں دھوم دھام سے منایا جانا چاہیے۔”جشنِ حزیں “ کی تو ترکیب بھی بہت خوبصورت ہے، تقریب کا آپ خوداندازہ کرسکتے ہیں کہ کیسی ہوگی۔سچی بات تو یہ ہے کہ قاسمی صاحب کو ملنے والے بے تحاشا تحفے (جن میں گلدستوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی)دیکھ کر ایک بار توہمارا اپنا جی چاہا کہ ملتان میں ”جشن ہوتل بابا“کے انعقاد کامطالبہ کردیں۔ساٹھ ستر برس کے نہ سہی آئندہ برس ہم پچاس برس کے توہوہی جائیں گے۔اگر ہمیں ہماری سالگرہ کے موقع پر اتنے گلدستے مل گئے تو وعدہ کرتے ہیں کہ ہم کالم نگاری وغیرہ چھوڑ کر گلدستے بیچنے کاکام شروع کردیں گے۔
”جشنِ ندیم“ کی تقریب میں شرکت کے لیے جب ہم ہال میں پہنچے تو وہاں پہلے ہی براحال تھا۔ادیب اورشاعر ایسے جمع تھے جیسے ان کاجمعہ بازار لگا ہو۔ہم ویسے ہی ملتانی پردیسی تھے ۔اتنے سارے ادیبوں کو اپنے سامنے دیکھا تو حیران رہ گئے۔یہ امجد اسلام امجد ہیں تو وہ حسن رضوی،ادھر عطاءالحق قاسمی ہیں تو دوسری جانب شوکت علی اورثمینہ احمد۔پروین شاکر پرنظرپڑی تو ہمیں احمد ندیم قاسمی کی وہ نظم یادآگئی جوانہوں نے اپنے نام سے شائع کرائی اور پھر تردید بھی نہ کی۔اسی چہرہ شماری کے دوران ہمیں اخترشمار ،خواجہ اسلم ندیم،رضی الدین رضی اورمحمد اسلام تبسم نظرآگئے۔ملتان کے یہ چاروں جوان ایک ہی صف میں محمود و ایاز بنے بیٹھے تھے۔رضی تو خیر لاہور ہی میں ہوتے ہیں اس لئے انہیں دیکھ کر نہ تو حیرت ہوئی اور نہ ہی خوشی۔لیکن اسلام تبسم کو لاہورکی اس تقریب میں دیکھ کر ہماری حیرت کی کوئی انتہانہ رہی۔یہ نوجوان تو ملتان کی تقریبات میں بہت کم شریک ہوتا ہے۔بھلا لاہور کیسے پہنچ گیا۔اخترشمار سے ملے تو معلوم ہوا کہ وہ بھی اب مستقل لاہور میں ہی آگیا ہے۔خواجہ اسلم ندیم سے ملتے ہی ہمیں ان کے بھائی ندیم اسلم بہت یاد آئے جن کاہائیکو کا مجموعہ ”پہلی دستک“ کے نام سے شائع ہواتو سب نے دعا کی کہ خدا کرے کہ یہ پہلی دستک آخری دستک ہی ثابت ہو۔موصوف نے جس زور شور کے ساتھ ہائیکو کے دروازے پر دستکیں دیں اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ شاید وہ ہائیکو کا دروازہ توڑ کرہی دم لیں گے۔ہم ذیل میں ان کی کتاب سے صرف ایک ہائیکو نمونے کے طورپر درج کررہے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے اس سے زیادہ ہائیکو درج کردیئے تو آپ بھی تاب نہ لاسکیں گے۔ہائیکو کچھ اس طرح ہے۔
میں سمندر کے درمیان نوید
اورکشتی میں ہوگیاسوراخ
اب مجھے انتظارِغرقابی
گلدستوں اور تحفوں کے ایک طویل دور کے بعد جب قاسمی صاحب نے اپنی تقریب کے دوران یہ مژدہ َ جاں فزا سنایا کہ ”میں ایک آدھ بدنصیب کوچھوڑ کرسب کوگلے لگانے کوتیارہوں“۔توہمیں اس بدنصیب کی خوش نصیبی پر بہت رشک آیا۔اس جملے کے ساتھ ہی ہال میں یہ چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں کہ آخر وہ ”بدنصیب “کون ہے۔اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ قاسمی صاحب نے یہ جملہ طائرلاہوتی کے بارے میں کہاہے۔یہ شک اس لیے بھی یقین میں تبدیل ہوگیا کہ طائرلاہوتی اس تقریب میں نظرہی نہیں آئے جبکہ ان کے استاد محترم بہ نفس نفیس موجودتھے۔ممکن ہے کہ قاسمی صاحب نے طائرلاہوتی کو تقریب میں آنے کی دعوت ہی نہ دی ہو۔کیونکہ اگرانہیں مدعو کیاجاتا تو وہ ”اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال“کاورد کرتے ہوئے تقریب میں ضرور پہنچتے ۔ہم تقریب کے دوران منیرنیازی اور انتظار حسین سمیت بہت سے شاعروں اورادیبوں کو ڈھونڈتے رہے لیکن ان میں کوئی موجودہی نہیں تھا۔البتہ لودھراں کے مبشر وسیم لودھی ہمیں ایک جگہ دکھائی دیئے۔موصوف کسی زمانے میں وفا حجازی کے سہارے شاعری بھی کیاکرتے تھے۔آج کل ایک ایسے شاعر کے سہارے شعر کہتے ہیں جو خود شاعری میں بیساکھیوں کامحتاج ہے۔

پندرہ روزہ دیدشنید لاہور۔یکم دسمبر1986ء

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker