رضی الدین رضیکالملکھاری

خیر مبارک دوستو ، خیر مبارک ۔۔ رضی الدین رضی

جنم دن کی بہت ساری مبارکبادیں اور درازی عمر کی ڈھیروں دعائیں وصول کرنے کے بعد یہ سوال تو ذہن میں ضرور ابھرتا ہے کہ جس معاشرے میں ہم سانس لے رہے ہیں وہاں کسی کو درازی عمر کی دعا دینا ”دعا “کے زمرے میں بھی آتا ہے یا نہیں۔ ہم نے یہ جیون جس حال اور جس رنگ میں گزارا وہ ہم ہی جانتے ہیں۔ ہمارے دوستوں کو بخوبی معلوم ہے کہ ہم تو عید کی مبارک باد وصول کرنے سے بھی ہمیشہ کتراتے ہیں۔ جنم دن کی مبارک باد تو بہت دور کی بات ہے۔ ہم نے کہیں یہ سوال اٹھایا تھا کہ جسے ہم زندگی سمجھتے ہیں وہ زندگی بھی ہے یا نہیں؟ اور اگر واقعی زندگی ہے تو کس کی ہے؟ کہیں ایسا تونہیں کہ ہم جسے اپنی زندگی سمجھتے ہیں وہ زندگی ہی کسی اور کی ہو اور ہم اسے صرف بسر کرنے پر مامور ہوں؟ جنم دن کے موقع پر یہ اور ایسے بہت سے سوالات دوبارہ بہت سے سوالیہ نشانات کے ساتھ سامنے آگئے۔ دوستوں کی محبتیں اپنی جگہ، ان کے خلوص سے بھی ہمیں انکار نہیں ۔ لیکن اپنی ذات سے یہ سوال تو کرنا چاہیے کہ ہم نے آخر ایسی کون سی زندگی گزاری کہ جس پر مبارکباد ضروری تھی۔عمر گزشتہ کے تمام سال ہمیں تاش کے بکھرے ہوئے پتوں کی طرح دکھائی دیتے ہیں اوران پتوں میں ایک پتا حکم کا ہے جس نے ہمارے سارے جیون کو رائیگاں کر دیا۔ غلامی کے یہ سال گزارنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ہم جیسے لوگ اگر اس دنیا میں نہ بھی آتے تو کاروبار دنیا میں کوئی فرق نہ پڑتا۔ ہم نے یہ سارا سفر طفل تسلیوں میں ہی گزاردیا۔ زندگی کی معنویت اور رشتوں کا بھرم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا چلا گیا۔ ہاں یہ مبارکباد کا لمحہ تو ہے اوراس لیے ہے کہ ہم نے زندہ نہ ہونے کے باوجود زندہ رہنے کا ڈھونگ رچایا۔ ہم مرنے کے باوجود دفنائے نہ جا سکے۔ ہم سچ بولنے کے باوجود جھوٹے اور درباری کہلائے اور اس کے باوجود ہم خود کو سچا سمجھتے رہے۔مبارک باد تو بہت ضروری ہے اوراس لیے ضروری ہے کہ جس معاشرے میں روزانہ بہت سے لوگ خودکشی کرلیتے ہیں اس معاشرے میں ہم جیسے بزدل بہت بہادری کے ساتھ زندہ ہیں۔ جی ہاں، ہمیں مبارکباد دیجئے کہ ہم غلام ہو کربھی خود کو آقا سمجھتے ہیں اور وہ جو ہمارے آقا ہیں وہ تمام تر کوشش کے باوجود ہمیں اپنی غلامی میں نہیں رکھ سکے۔ غلام تو ہم صرف محبت کے رہے ۔ اس محبت کے جو کبھی ایک جذبہ ہوتا تھا لیکن وقت کی روانی نے اس کی سچائی کو بھی دھندلا دیا۔ اب محبت بھی ثبوت مانگتی ہے۔ لفظوں کی محتاج ہوگئی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جذبے کسی اظہار کے بغیر دل سے دل تک کا سفر کرتے تھے۔ مبارکباد دیجئے کہ محبت کا یہ جادو بھی ختم ہو گیا۔ محبت کو محبت کرنے والوں نے ہی برباد کر دیا۔ کس نے ہمیں چاہا اور کسے ہم نے چاہا؟ یہ کہانی بے معنی ہوچکی ہے۔ لیکن محبت ہی وہ بنیادی جذبہ ہے جو اب بھی جینے کا حوصلہ دیتا ہے اور اذیت کے چند اور سال جینے کی خواہش بیدارکرتا ہے۔ خواہ کسی کو ہماری یا ہمیں کسی کی محبت کا یقین نہ بھی ہو لیکن محبت تو محبت ہی ہوتی ہے ۔ مبارک باد دیجئے کہ سب کچھ گنوا کر بھی ہم نے ان بکھرے ہوئے برسوں کے دوران محبت کے جذبے کو سنبھال کر رکھا۔ اوراس لیے سنبھال کر رکھا کہ ہم خود نہیں بکھرنا چاہتے تھے۔ زندگی کتنی ہی اذیت ناک اور رائیگاں کیوں نہ ہو یہ پھربھی بہت خوبصورت ہوتی ہے اور اس لیے خوبصورت ہوتی ہے کہ اس کے پہلو میں کہیں موت بھی موجود ہوتی ہے۔ موت زندگی کو خوبصورت بناتی ہے۔ اورہمیں مبارک باد دیجئے کہ موت نے بچپن سے ہی ہمارا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ہمیں مرنے نہیں دیا۔ ایک ایسے ماحول میں کہ جب سب کچھ دکھاوا بن چکا ہے اورایک ایسے ماحول میں کہ جب ماں سے محبت بھی کسی ایک دن کی محتاج ہو گئی ہے اور مدرز ڈے کے موقع پر اپنی ماں کی توہین کرنے والے بھی اس کے ساتھ تصویریں بنواکر فیس بک کی زینت بنا رہے ہیں۔ ہمیں یہ کہنے دیجئے کہ بے شمار مبارکبادوں اور درازی عمر کی دعاؤں میں اگر دکھاوا بھی موجودہے ۔ اگر یہ سب کچھ فیشن بھی بن چکا ہے تو ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ مبارک باد دینے والوں میں اگر کوئی ایک شخص بھی ایسا ہے جس نے خلوص اور محبت کے ساتھ ہمیں مبارک باد دی ہے تو اس کے طفیل ہم ان سینکڑوں دعاؤں اورمبارک بادوں کو قبول کرتے ہیں اوراس یقین کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ یہ سب دعائیں اور مبارکبادیں محبت کا پھیلاؤ ہیں اور ہم صرف محبت پر یقین رکھتے ہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker