رضی الدین رضیکالمکتب نمالکھاری

عاصی کرنالی کی کتاب اور گھامڑ گجراتی : ہوتل بابا کا کالم (13 ) ۔۔ رضی الدین رضی

پروفیسر عاصی کرنالی کی کتاب ہم نے ایک کتب فروش کی دکان پردیکھی تھی۔ٹائٹل بہت اچھا تھایعنی رنگوں کا استعمال کم اور سفیدی زیادہ تھی۔ایسے ٹائٹل ہمیں ہمیشہ اچھے لگتے ہیں۔دکان پرہی کتاب کی سرسری ورق گردانی کی توہم اس نتیجے پرپہنچے کہ اگر کتاب کے اندربھی سیاہی کم اور سفیدی زیادہ ہوتی تو بہتر تھا۔کیونکہ اس طرح قاری جلد ازجلد کتاب کے مطالعے سے فراغت حاصل کرلیتا۔اوراگر اندر کے صفحات بالکل ہی صاف رکھے جاتے تو اس کااوربھی فائدہ ہوتا۔یہ کتاب اندر سے ڈائری کاکام دیتی اور باہر سے کتاب ہی نظرآتی۔یوں ایک ٹکٹ میں دومزے ہوجاتے۔اس وقت تو ہم نے یہ کتاب واپس رکھ دی اور سوچا کہ پروفیسر حسین سحر سے مفت حاصل کرلیں گے ۔آخر چھاپی بھی توانہوں نے ہے۔پھر معلوم ہوا کہ جب سے شاکرحسین شاکر نے کتابوں کی دکان کھولی ہے حسین سحر نے احباب کو کتابیں مفت دینا بند کردی ہیں۔ویسے بھی ہمارا شمار ان کے احباب میں نہیں ہوتا۔
کتاب کتب فروش کی دکان پررکھ کرہم واپس گھرآگئے۔کچھ دیر بعد صوفی عبدالقدوس اپنے شاگردگھامڑ گجراتی کے ہمراہ ہمارے غریب خانے پرتشریف لائے ۔بغل میں ”لبِ خنداں“تھی اورشاگرد کو اسی کتاب کی تقریب رونمائی کے دعوت نامے تھمارکھے تھے۔کہنے لگے آج کل بہت مصروف ہوں۔عاصی کرنالی نے کارڈوں کی تقسیم ہمارے سپرد کردی ہے۔چونکہ پڑوسی ہیں اس لیے انکاربھی نہیں کیاجاسکتا۔دعوت نامہ صوفی صاحب نے ہمیں بھی دیا ۔صدارت ڈاکٹرجمیل جالبی کی تھی اور مقررین میں اے بی اشرف،انواراحمد،شمیم ترمذی،حسین سحر،خالد پرویز،مناظر حسین نظر اوررضی الدین رضی کے نام درج تھے۔ہمیں آخری تین ناموں پر اعتراض تھا۔خالد پرویز سے ہمیں شکایت ہے کہ ادھر وہ سٹیج پرآتے ہیں ادھرلوگ ”لائٹ آن کرو۔۔لائٹ آن کرو“کاشورمچادیتے ہیں۔مناظرحسین نظر کے بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ وہ ادیب ہی نہیں اور رضی الدین رضی سے ہمارا اختلاف یہ ہے کہ انہوں نے سٹیج پرآکر کبھی کسی کے لیے خیر کے کلمات نہیں کہے۔ہم بھی تقریب میں ہرگز نہ جاتے اگر وہاں جمیل جالبی نہ آرہے ہوتے۔حقیقت یہی ہے کہ اس شدید گرمی میں اگر اتنے بہت سارے لوگ آرٹس کونسل پہنچ گئے تو صرف جمیل جالبی کی کشش تھی۔وگرنہ عاصی کرنالی تو اس شہر کی سڑکوں پر اپنے کھچاڑا سکوٹر سمیت پھرتے ہی رہتے ہیں۔کبھی خود سکوٹر پر سوارہوتے ہیں اورکبھی سکوٹر ان پرسوارہوتاہے۔تقریب کی نظامت شاکرحسین شاکر کے سپرد تھی ۔پہلے مقرر کے طورپر رضی الدین رضی سٹیج پرآئے مگر خلاف معمول ہاتھ ہلکارکھا ۔مضامین کی تعریف کرنے کی بجائے جملوں کی ساخت اور اسلوب پر بحث کرتے ہوئے اس بات پر اطمینان کااظہارکیا کہ عاصی کرنالی نے اپنے شگفتہ مضامین کو انشائیہ قراردینے سے گریز کیاہے۔وگرنہ آج کل تو انشائیوں کے نام پر ایسے ایسے مضامین بھی شائع کردیئے جاتے ہیں جن میں جملے بھی درست نہیں ہوتے۔پروفیسر انورجمال اگر تقریب میں موجودہوتے تو اس جملے پر خوب داد دیتے کیونکہ رضی الدین رضی نے واضح طورپر شہزاد قیصر کی کتاب کی جانب اشارہ کیاتھا۔خالد پرویز نے اپنے مضمون کو خاکے کانام دیا ۔اکثریت کاخیال تھا کہ اس مضمون میں اورتوبہت کچھ ہے مگر خاکے والی بات نہیں۔پروفیسر حسین سحر نے بھی عاصی کرنالی کی خوب تعریف کی مگر لطف ہمیں شمیم حیدرترمذی کے مضمون پرآیا ۔ہم صرف اس لیے تقریب میں بیٹھے تھے کہ ہمیں جمیل جالبی کی گفتگو سننا تھی ۔جالبی صاحب نے آدھے سے زیادہ مضمون میں ملتان کے موسم اور ملتانیوں کی مہمان نوازی کاذکر کیا اور جب عاصی صاحب کاذکر آیا تو انہوں نے یہ مشورہ دے ڈالا کہ عاصی کرنالی کو پیروڈی لکھنی چاہیے کیونکہ اردو ادب میں پیروڈی کی بہت ضرورت ہے۔جالبی صاحب کے اس مشورے کاحاضرین نے بھرپورخیرمقدم کیا۔ویسے بھی عمر کاتقاضایہی ہے کہ عاصی صاحب اب غزل چھوڑ کر پیروڈی میں طبع آزمائی کریں۔
( مطبوعہ : روزنامہ جسارت کراچی ۔۔یکم جولائی1988ء )
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker