رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

حیدر گردیزی اور بابا ہوٹل کی ادبی بیٹھک ( وفات : 7 جون 1991 ء ) ۔۔ رضی الدین رضی

حیدر گردیزی اس شہر کی ان چند شخصیات میں سے تھے جن کی موت کو ایک طویل عرصہ تک محسوس کیا گیا ۔ وہ مجلسی آدمی تھے محفلوں کی رونق تھے ۔زندگی کے دیگر معمولات کی طرح ان کی موت بھی بہت غیر معمولی تھی۔ شاہ صاحب کی عادت تھی کہ وہ بسا اوقات محفل سے اچانک اٹھ کر چلے جاتے تھے ۔ سگریٹ پیتے پیتے ہوٹل سے باہر نکلتے اور ان کے جانے کے کچھ دیر بعد احباب کو معلوم ہوتا کہ شاہ صاحب جا چکے ہیں ۔ 7جون 1991ءکو بھی انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ لوگ یہی سمجھتے رہے کہ وہ ذرا ہسپتال تک گئے ہیں ابھی واپس آجائیں گے ،مگر معلوم یہ ہو ا کہ شاہ صاحب اس دنیا سے ہی جا چکے ہیں ۔ بہت حیران کر دینے والی موت تھی ۔ موت سے ایک ہفتہ قبل انہوں نے اپنے بیٹے کا ولیمہ کیا ۔ شہر کے تمام ادیبوں ، شاعروں اور سیاسی و سماجی شخصیات کو مدعو کیا ۔ ایک ایک کی خیریت دریافت کی ۔ یہ مجھ سمیت بہت سے احباب کے ساتھ ان کی آخری ملاقات تھی ۔ کسی کو شائبہ تک نہ تھا کہ انہوں نے بیٹے کے ولیمے کے ساتھ ساتھ دوستوں سے اپنی آخری ملا قا ت کا اہتمام بھی کر رکھا ہے ۔ اور جب ایک ہفتہ بعد ان کی موت کی خبر آئی تو کوئی بھی اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا ۔
حیدر گردیز ی ملتان کی ایک تہذیبی شخصیت تھے ۔ اونچا لمباقد ،سرخ و سفید رنگت اور گرجدار آواز ۔ بہت بارعب شخصیت تھی ۔ مشاعروں میں کلام پڑھنے کا انداز بھی بہت منفرد تھا ، ایک ایک لفظ کو اس انداز میں ادا کرتے تھے کہ آواز کے زیرو بم سے لفظوں کے معانی اور شعر میں بیان کیا جانے والا منظر بھی سامع کی نظروں کے سامنے آجاتا تھا ۔ شاہ صاحب سے میری پہلی ملاقات 1983ءمیں ہوئی ۔ وہ نواں شہر کے بابا ہوٹل میں بیٹھتے تھے ۔ وہ ہوٹل اس زمانے میں شہر کے ادیبوں ،شاعروں کا مسکن تھا ۔ ارشد ملتانی ، اقبال ارشد ، سلمان غنی اور اصغر علی شاہ اس محفل کے مستقل رکن تھے ۔ڈاکٹر محمد امین ،انور جمال،کرامت گردیزی ، ممتاز اطہر ، اطہر ناسک ،اختر شمار ،طفیل ابنِ گل اور بہت سے ادیب و شاعر گاہے گاہے اس محفل میں شریک ہوتے تھے ۔ اس ہوٹل کوملتان کا پاک ٹی ہاؤ س کہا جاتا تھا ۔ ہم جب بھی وہاں جاتے دوچار ادیب و شاعر اور صحافی ضرور چائے پیتے مل جاتے تھے ۔ بیرون شہر سے آنے والے ادیبوں کی اکثریت بھی ملتان پہنچتے ہی سب سے پہلے اس ہوٹل میں آتی تھی اور عموماً انہیں یہاں کوئی نہ کوئی قلمکار مل ہی جاتا تھا۔ حیدر گردیزی اس محفل کی مرکزی شخصیت تھے ۔ ایک میزاُن کے لئے مخصوص تھی ۔ سردی ہو یا گرمی وہ صبح شام اپنے مخصوص وقت پر آتے اور پھر آہستہ آہستہ ان کے گرد پروانے جمع ہوجاتے ۔ بس پھر ایسی محفل جمتی کہ وقت گزرنے کا احساس بھی نہ ہوتا تھا ۔ شعرو ادب ،سیاست ،مذہب ، ثقافت غرض یہ کہ ہر موضوع زیرِ بحث آتا تھا ۔ احباب ایک دوسرے کو نئی غزلیں سناتے ،مشاعروں کے پروگرام بنتے اور حاضر مشاعرے ہوتے ۔عموماً شاہ صاحب یا اقبال ارشد بلند آواز میں کوئی مصرعہ دیتے اور پھر ہوٹل کے مختلف کونوں میں بیٹھے شاعر ان مصرعوں پر گرہیں لگانے لگتے ۔ ایسی اوٹ پٹانگ غزلیں اور ایسے یادگار مصرعے سننے کو ملتے کہ لطف آجاتا ۔ انہی محفلوں میں ارشد ملتانی نے اقبال ارشد سے مخاطب ہو کر کہا تھا ۔
ہم تو ارشد ہی رہ گئے ارشد
لوگ ارشد حسین ارشد ہیں
یہیں ایک شاعر کے مصرعے پر گرہ لگاتے ہوئے حیدر گردیزی مرحوم نے شعر کو یوں مکمل کیا تھا ۔
کاسہ سر کو اپنے پھوڑیں گے
چائے پی کر گلاس توڑیں گے
اور اسی بزم میں کہا جانے والا ایک شعر کچھ اس طرح تھا ۔
یکطرفہ ٹریفک ہے حسرت کی طبیعت بھی
آتا ہے تو آتا ہے جاتا ہے تو جاتا ہے
ان محفلوں اور ان حاضر شاعروں نے ہم جیسے نوآموز شعراءکے لئے ٹریننگ سینٹر کا کام کیا ۔
شاہ صاحب بہت زود گو شاعر تھے ۔ ایسے مشاعروں میں اکثر یہ ہوتا تھا کہ مجھ سمیت بہت سے احباب مصرعہ ہی سوچتے رہ جاتے اور حیدر گردیزی اور اقبال ارشد مصرعے کہہ کہہ کر غزل مکمل کردیتے ۔ شاہ صاحب کی زودگوئی کا یہ عالم تھا کہ ہوٹل میں آکر بیٹھتے ۔سلمان غنی یا کسی اور کو آوازدے کر سامنے بٹھا لیتے ۔ اب شاہ صاحب مصرعے بولتے جاتے او رسامنے والا شاعر انہیں کاغذ پر نقل کرتا جا تا ۔ بارہا یہ ہوتا کہ لکھنے والے کاقلم شاہ صاحب کے مصرعوں کی رفتار سے ہم آہنگ نہ ہو پاتا۔ کسی مشاعرے میں جانے سے پہلے شاہ صاحب اسی انداز میں غزل ،نظم یا مرثیہ کہہ کرجاتے تھے ۔ ایک بارہم مشاعرے میں جانے کے لئے ہوٹل پہنچے تو شاہ صاحب کوئی غزل لکھ رہے تھے ۔ انداز وہی تھا، آپ مصرعے بولتے جا رہے تھے اور سلمان غنی انہیں کاغذ پر نقل کررہے تھے ۔ روانگی کے وقت کاغذ سلمان غنی کی جیب میں رہ گیا ۔ مشاعرہ شروع ہوا سٹیج پر جا کر شاہ صاحب نے جیب ٹٹولی تو یاد آیا کہ تازہ کلام تو سلمان غنی کی جیب میں ہے ۔ مائیک سے شاہ صاحب نے سلمان غنی کو آواز دی ”سلمان مجھے نظم تو دو۔ “ سلمان غنی نے جیب سے نظم نکال کر حاضرین کو دکھائی اور کہا ”دیکھو میں شاہ صاحب کو نظم دے رہا ہوں ۔شاہ صاحب مشاعروں میں میری غزلیں سناتے ہیں ۔“ اس کے بعد ایک طویل عرصے تک سلمان غنی کا شاہ صاحب سے مذاق چلتا رہا کہ ”شاہ صاحب آپ مشاعروں میں میری نظمیں نہ پڑھا کریں ۔“
حیدرگردیزی روایتی بزرگ نہیں تھے ۔ انہوں نے خود پر بزرگی کا کوئی مصنوعی خول نہیں چڑھا رکھا تھا ۔وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور اپنی محفل میں بیٹھنے والوں کے ساتھ برابری کی سطح پر پیش آتے ۔ کئی مرتبہ وہ ہماری شرارتوں میں بھی غیر محسوس انداز میں شریک ہو جاتے تھے ۔ شہر کے ادیبوں میں کوئی لڑائی جھگڑا ہوجاتا اور معاملہ زیادہ بگڑنے لگتا تو حیدر گردیزی صورتحال کو سنبھال لیتے تھے ۔
بحیثیت شاعرشاہ صاحب کا اسلوب انتہائی منفرد تھا ۔ ان کے کلام میں بلا کی روانی تھی۔ اشعار میں نئی نئی تراکیب استعمال کرتے تھے ۔ مشاعرے میں شاہ صاحب جب اپنے منفرد انداز میں گرج دار آواز کے ساتھ کلام پڑھتے تو حاضرین مبہوت رہ جاتے ۔ مجھے کوئی ایسا مشاعرہ یاد نہیں جس میں شاہ صاحب نے کلام پڑھا ہو اور انہیں داد نہ ملی ہو ۔ وہ ہر مرتبہ مشاعرہ لُوٹ کر جاتے اور ان کے بعد آنے والے شعراءمشکل میں گرفتار ہو جاتے ۔حیدر گردیزی کی زندگی میں ان کی چھ کتابیں شائع ہوئیں جن میں لا فتیٰ الاعلی (مناقب) ، لی خمسةُ  (مسدس)، ساہ دی بُکل (سرائیکی ہائیکو) ،چاندنی کے ورق (اردو ہائیکو) ،مرثیہ حبیب ابنِ مظاہر (مرثیہ)، ہتھاں تے چندر (سرائیکی نظمیں ) شامل ہیں ۔ وہ غزلوں کا مجموعہ بھی لانا چاہتے تھے مگر زندگی نے ان سے وفا نہ کی ۔ حیدر گردیزی ملتان کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا محور تھے ۔ اُن کے دم سے اس شہر کی محفلیں آباد تھیں ۔ ملتان کے ادیبوں نے ان کی کمی کوشدت کے ساتھ محسوس کیا ، یہ کوئی معمولی بات تو نہیں ہے کہ ایک شخص کی موت کے نتیجے میں شہر کی ایک ادبی بیٹھک ہی ختم ہوگئی ۔ وہ جس ہوٹل میں محفل آراستہ کرتے تھے اور ان کے دم سے جس ہوٹل کو ملتان کا پاک ٹی ہاؤس کہا جانے لگا تھا، شاہ صاحب کی موت کے بعد ادیبوں شاعروں نے وہاں جانا ترک کردیا ۔ وہ محفلیں وہ قہقہے اور مشاعرے سب ماضی کا حصہ ہوگئے ۔
18 جون:1991 ءروزنامہ نوائے وقت ملتان
فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker