رضی الدین رضیکالملکھاری

ضیاءشاہدکی آڈیو اصلی یا نقلی؟ تحقیقات ضروری ہے: ڈرتے ڈرتے /رضی الدین رضی

ضیاءشاہد اردو صحافت کا ایک معتبر نام ہے۔ ایک ایسی ہستی کہ جن کی صحافتی خدمات نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہےں۔ایک کارکن صحافی کی حیثیت سے انہوں نے بہت کم عمری میں عملی زندگی کا آغاز کیا۔مختلف اخبارات وجرائد میں کام کے دوران انہیں نامور صحافیوں کی رفاقت میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ایک رپورٹر ،کالم نگار ،ایڈیٹر،میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے ضیاءشاہد نے بہت سی نئی روایات قائم کیں۔ انہوں نے روزنامہ جنگ میں فورم کے بانی کی حیثیت سے جنگ فورم متعارف کروایاجوآج ہراخبار کا لازمی حصہ ہے۔عوامی عدالت ،کھلی کچہری،شکایات سیل سمیت بہت سی جدتیں ضیاءشاہد کے نا م ہی لکھی جاتی ہیں۔مختلف اخبارات میں خدمات انجام دینے کے بعد انہوں نے1990 میں روزنامہ پاکستان کااجراءکیا۔اوراس اخبار کے ذریعے اردو صحافت میں وہ بہت کچھ متعارف کرایا جو اس سے پہلے اردو اخبارات میں رائج نہیں تھا۔زراعت، کامرس، کھیل ،شوبز ،نوجوانوں ،خواتین ،بچوں کے روزانہ صفحات کی اشاعت اسی اخبار کے ذریعے شروع ہوئی۔اس کے بعد انہوں نے 1992روزنامہ خبریں کا اجراءکیا اور اسے ایک کامیاب اخبار بنادیا۔اس اخبار میں بھی انہوں نے صحافت کے نئے زاویئے اور نئے موضوعات متعارف کروائے۔روزنامہ خبریں لاہور،کراچی،اسلام آباد،حیدرآباد،ملتان سمیت کئی شہروں سے شائع ہوتا ہے۔”جہاں ظلم وہاں خبریں“آج بھی ایک ایسا نعرہ ہے جو اس اخبار کی پالیسی ظاہر کرتاہے۔جن لوگوں کے خلاف کوئی بات کرنے کی جرات بھی نہیں کرتاتھا ضیاءشاہد ان کے خلاف عوام کی آواز بنے۔جب آپ بڑے لوگوں کے ساتھ ٹکرارہے ہوتے ہیں اور میڈیا مالکان کوبھی اپنا دشمن بنالیتے ہیں تو پھر آپ خود بھی الزامات کی زد میں آجاتے ہیں۔ضیاءشاہد پہلے روز سے ہی الزامات کی زد میں ہیں۔ان پر لوگوں کا سرمایہ واپس نہ کرنے کا الزام بھی لگا ۔یہ وہ سرمایہ تھا جو انہوں نے روزنامہ خبریں کے اجراءکے لیے لوگوں سے وصول کیاتھا اوراس کے عوض انہیں اپنی کمپنی کا شیئر ہولڈر بنایاتھا۔ان کے ساتھ کام کرنے والے ہمیشہ ان کی بد زبانی کابھی ذکر کرتے ہیں ۔ان کے خلاف مالی بدعنوانیوں اور قبضوں کے الزامات بھی عائد کیے گئے ۔یہ الزام بھی لگا کہ انہوں نے یوسف نامی شخص کو یوسف کذاب قراردے کر اس کی عمارت پر قبضہ کیا جو اب خبریں ٹاور کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ اور پھر یوسف کو جیل میں قتل کروادیاگیا اوراس کے قتل میں استعمال ہونے والا پستول بھی خبریں کے رپورٹرایاز شجاع نے جیل میں پہنچایا۔اس بات کااعتراف خود ضیاءشاہد بھی اکمل شہزاد گھمن کو دیئے گئے انٹرویو میں کرچکے ہیں جو ان کی کتاب ”میڈیا منڈی“کے صفحہ 168پر موجودہے۔ضیا شاہد کا کہنا ہے کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ ان کے جیل رپورٹر نے پستول جیل پہنچایا تھا تو میں نے اسے ملازمت سے فارغ کر دیا ۔ضیاءشاہد کے خلاف بعض الزامات کی تصدیق نہیں ہوئی۔ بعض الزامات کا ضیاءشاہد صاحب نے اعتراف کرلیا۔لیکن اس کے باوجود بہت کچھ ایسا ہے جس کا کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔کچھ سینہ گزٹ ہے جو ان کارکنوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچا جو کبھی ان کے ساتھ کام کرتے تھے۔اور پھر تنخواہ نہ ملنے پر اخبار چھوڑ آئے یابقول ان کے ا نہیں تنخواہ مانگنے پر اخبار سے نکال دیاگیا۔ان کے خلاف بہت سے الزامات کی بہرحال تصدیق نہ ہوسکی۔ ان الزامات میں کچھ اخلاقی نوعیت کے الزامات بھی تھے۔ جن کی بازگشت بارہا سنائی دیتی رہی۔گزشتہ ہفتے ضیاءشاہد کے حوالے سے ایک آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ اس آڈیو میں مبینہ طورپر ایک شخص خود کو ضیاءشاہد ظاہر کرکے خاتون کے ساتھ شرم ناک گفتگو کررہاہے۔ اس گفتگو کے مندرجات کو اس کالم کا حصہ بنانا ممکن ہی نہیں لیکن اس گفتگو میں کمسن بچیوں کو جنسی بے راہ روی کی جانب مائل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی چیزوں کے بارے میں عموماً شکوک وشبہات ہی رہتے ہیں اور پہلی نظر میں ان پر یقین کرناممکن نہیں
ہوتا۔ہم نے بھی اس آڈیو کو چند لمحے سننے کے بعد جعلی سمجھ کر نظراندازکردیا لیکن اگلے روز یہ آڈیو مزید متحرک ہوگئی حتی کہ 25جون کے روزنامہ خبریں کے صفحہ اول پر یہ خبر شائع کی گئی کہ روزنامہ خبریں کیونکہ بچیوں سے زیادتی اور ان کی ویڈیوبنانے والے گروہ کے خلاف سرگرم ہے اس لیے اس گروہ نے چیف ایڈیٹر خبریں ضیاءشاہد کی جعلی آڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کردی ہے۔ خبر میں کہاگیاتھا کہ روزنامہ خبریں تین ہفتے قبل ایسے گروہ کے خلاف کارروائی کی تیاری کرچکا تھا اور ایف آئی اے کے ذریعے چھاپے کا فیصلہ بھی ہوگیا تھا کہ متعلقہ گروہ کو خبر ہوگئی اوراس نے محترم ضیاءشاہد کے خلاف جعلی ویڈیو وائرل کردی۔اسی اخبارمیں ایک اور خبر میں بتایاگیا کہ ماضی میں بھی بعض لوگ مشہور شخصیات کی پیروڈی کرچکے ہیں۔دنیا بھر میں مذہبی ،سیاسی رہنماؤں کے آڈیو ز وائرل ہو کر بعدازاں جعلی ثابت ہوئے۔خبر میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ ضیاءالحق کے دور میں ایک فنکار نے چوہدری نظام دین کی آواز میں ایک آڈیو بنا کر پورے ملک میں پھیلا دی تھی جو بعد ازاں جعلی ثابت ہوئی اور مرزا سلطان عرف نظام دین نے ایک پریس کانفرنس میں تردید کی تھی کہ یہ آواز میری نہیں۔ان ساری خبروں نے ہمارے اس شک کو یقین میں بدل دیا کہ ضیاءشاہد کے بارے میں یہ غیراخلاقی آڈیو جعلی ہے اور اس کے ذریعے ان کے حاسدین انہیںبدنام کرنا چاہتے ہیں۔ضیاءصاحب کے خلاف ایسی ایک سازش اس سے پہلے بھی ہوئی تھی۔ اداکارہ ریما کے خلاف جب روزنامہ خبریں میں مہم شروع ہوئی تو انہوں نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیاتھا کہ ایک اخبار کا ایڈیٹرمجھے بلاتا تھا میں نہیں گئی تو میرے خلاف لکھاجارہاہے۔ ضیاءشاہد نے بعدازاں اداکارہ ریماکو خبریں کا کالم نگاربنادیا۔تاہم ایک انٹرویو میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف اداکارہ ریما سے بیان روزنامہ جنگ کے عاشق چوہدری نے دلوایا تھا۔ تاہم بعدازاں ریما کے ساتھ ضیاءشاہد صاحب کی صلح ہوگئی۔
محترم ضیاءشاہد کی یہ آڈیو ہمیں توجہ کے ساتھ اس وقت سننا پڑی جب ہماری توجہ صائمہ ملک صاحبہ کے ایک کالم ”بیوٹی پارلر اور بڈھے ٹھرکیوں کا نیا دھندا“ کی جانب سے مبذول کرائی گئی۔ یہ کالم کئی روز سے ہمارے سامنے آرہاتھا لیکن چونکہ موضوع کا ہم سے تعلق نہیں تھا اس لیے ہم نے اس کالم کو پڑھنا مناسب نہ سمجھا۔ہمیں بتایاگیا کہ آڈیو میں جو خاتون ضیاءصاحب سے فرمائش کررہی ہے کہ میرا بھی خبریں کی لکھاری کے طورپر اپنے اخبار میں انٹرویو شائع کردیں اس نے اس کالم کے ذریعے یہ اعتراف کیا ہے کہ جو آڈیو وائرل ہوئی وہ میری گفتگو ہے۔ صائمہ ملک لکھتی ہیں ”میں نے ان صاحب کا نمبر لیا اوررابطہ کیا ۔مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔اس کے لئے مجھے کتنا نیچے گرناپڑا وہ ایک زخم ہے جو میں ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ مجھے اس بندے کی ہر لغوگفتگو بڑے تحمل سے سننا پڑی۔کوئی اور موقع ہوتا تو شاید میں اسے مارہی ڈالتی۔ میں نے اس شیطان کا اعتماد جیتا اور اس کے ساتھ فون پر اور ملاقات کرکے تفصیلات حاصل کیں۔“
یہاں تک بھی ہمیں یقین نہیں تھا کہ صائمہ ملک جس کا ذکر کررہی ہیں وہ ضیاءشاہد ہیں۔اسی کالم میں وہ لکھتی ہیں ” ان سب بیوروکریٹس ،بزنس پرسنز اور کلیدی شخص تک پہنچ چکی ہوں جو اس مافیا کاحصہ ہیں۔مگر میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ 75سالہ بوڑھا صحافی جو آٹھ منزلہ عمارت میں بیٹھ کر ملک کا نامور میڈیا ٹائیکون کہلاتا ہے میں اس کا نام کیسے لکھوں۔جس ملک میں جھوٹ کوسچ اور سچ کو جھوٹ بنانا قانون خریدنے والوں کے بائیں ہاتھ کاکھیل ہے وہاں میرے بیان کی کیا حیثیت ہوگی کسی عدالت میں ۔“
اصل کہانی کیا ہے اس کاسراغ لگانے کامطالبہ خود ضیاءشاہد صاحب بھی کررہے ہیں۔وہ اپنے اخبار میں مطالبہ کرچکے ہیں کہ ایف آئی اے کے ذریعے اس جعلی آڈیو کی تحقیقات کرائی جائے۔ضیاءشاہد جس آڈیو کو جعلی کہتے ہیں اور جس کے بارے میں مجھ سمیت بیشتر صحافیوں کایہ خیال تھا کہ وہ صحافیوں کوبدنام کرنے کی سازش ہے اس آڈیو کے بارے میں اگر صائمہ ملک دعوی کرتی ہیں کہ یہ ان کی گفتگو ہے تو پھراس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔معلوم ہوناچاہیے کہ وہ 75سالہ صحافی اگر ضیاءشاہد نہیں تو پھر کون تھا۔فی زمانہ کسی بھی آڈیو کی فورنزک لیب تصدیق کوئی مشکل کام نہیں اور لاہور کی فورنزک لیب تو ویسے بھی کارکردگی میں بہت مشہور ہے۔۔چیف جسٹس آف پاکستان اگر بزنس ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف کاروائی کرسکتے ہیں تو ہمیں یہ مقدمہ ان کی عدالت میں لے کرجانا چاہیے۔ اے پی این ایس ،سی پی این ای،پی ایف یوجے سمیت اخباری مالکان اورصحافیوں کی تمام تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع پرمجرمانہ خاموشی اختیارکرنے کی بجائے محترم ضیاءشاہد کا بھرپور ساتھ دیں ۔انہیں تنہا نہ چھوڑیں اور اس جعلی آڈیو کو بے نقاب کرکے صحافت پر لگنے والے اس دھبے کو صاف کیاجائے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker