رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں ( 14 ) ۔۔ رضی الدین رضی

ماں جی کی حلیم اور عاشورہ کا جلوس

عاشورہ کے جلوس دیکھنے کے لئے ہمیں شہر نہیں جانا پڑتا تھا کہ وہ جلوس صدر بازار سے ہی گزرتا تھا ۔صدر بازار میں ڈاکٹر محمد حسین کے کلینک کے سامنے ڈینٹل ڈاکٹر محمد اسلم کا گھر تھا ڈینٹل ڈاکٹر تو میں نے آج کی زبان میں لکھ دیا ورنہ ان کی دوکان کے باہر تو دندان ساز کا بورڈ لگا تھا ۔وہاں جا کر ہم ماں جی سے حلیم بھی کھاتے اور بالکونی سے ماتمی جلوس بھی دیکھتے ۔مکانوں کی چھتوں اور کھڑکیوں پر عورتوں اور بچوں کا ہجوم ہوتا سڑکیں ہر عمر کر مردوں سے بھری ہوتیں ۔اتنا ہجوم کہ تا حدِ نظر سر ہی سر دکھائی دیتے تھے ۔نہ کوئی رکاوٹ ، نہ کوئی تلاشی ،نہ کسی خود کش کا خطرہ ،نہ بم دھماکے کا ڈر ،اور تو اور یہ جلوس دیکھنا کفر ،یا بدعت کے زمرے میں بھی نہ آتا تھا ۔

شبِ عاشور اور گتکے والے حفیظ صاحب

جلوس کے آگے ایک گتکہ پارٹی ہوتی تھی ۔اس گتکے کا اہتمام اہلِ سنت کرتے تھے اور اس میں ڈنڈوں ،تلوارں،نیزوں،بھالوں اور دوسرے سامان ِ حرب کے ذریعے میدانِ جنگ کا نقشہ پیش کیا جاتا تھا ۔ نوجوان آپس میں مقابلہ کرتے ،ایک دوسرے کے وار روکتے ،ساتھ میں نوبت بجتی تھی۔یہ گتکہ سات محرم کی رات شروع ہوتا ، شبِ عاشور یہ گتکہ پارٹی ہمارے گھر کے سامنے میدان لگاتی تھی ۔مجھے یاد ہے کہ اس رات ہم سب گھر والے گیارہ ،بارہ بجے تک جاگتے تھے اور گتکہ دیکھ کر سوتے تھے۔گتکے کا اہتمام حفیظ صاحب کرتے تھے ۔وہ اسی محلے میں پلے بڑھے اور پھر روزگار کے لئے کراچی منتقل ہو گئے ۔کراچی سے وہ سال میں ایک مرتبہ عاشورہ کے موقع پر ہی ملتان آتے اور گتکہ کھیل کر واپس چلے جاتے ۔سنا ہے انہوں نے محرم کے موقع پر گتکہ کھیلنے کی منت مان رکھی تھی ۔



بدعتیں رائج ہوئیں‌ تو منت توڑ دی گئی

پھر جب اس ملک میں اسلام کے نام پر کفر کے فتوے عام ہوئے اور بدعتیں رائج ہوئیں تو حفیظ صاحب بھی گتکے سے تائب ہو گئے ۔انہوں نے نہ صرف گتکہ ختم کیا بلکہ کفارہ بھی ادا کیا ۔معلوم نہیں و ہ کفارہ توبہ کا تھا یا منت توڑنے کا ۔بہر حال اس روز کے بعد وہ محرم کی بجائے کبھی کبھارعید پر ملتان آتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں قتل کی دھمکیاں ہر گز نہیں دی گئیں۔ذکر یہ ہو رہا تھا کہ شہر میرے لئے صرف گھنٹہ گھر ،حسین آگاہی اور چوک بازار تھا ۔شاکر نے ملتان کی جو قدامت بچپن میں ہی دیکھ لی تھی وہ مجھ پر بہت بعد میں آشکار ہوئی۔میں تو بابُو محلے کے شیراں والے مکان اور جین مندر کو ہی قدیم ملتان سمجھتا تھا۔

سوہنی ملتان کی مٹی میں‌گم ہے ؟

شاکر نے کالج کے زمانے میں مجھے قدیم ملتان دکھایا ۔اندرون شہر کے جن گلی کوچوں سے وہ واقف ہے اور جن احاطوں اور محلوں کے نام اور راستے وہ جانتا ہے ان میں سے بہت سوں سے آج بھی میں نا واقف ہوں۔انہی راستوں کو دیکھ کر ملتان کو جاننے اور کھوجنے کی خواہش ہوئی تو اس کی قدامت اور عظمت آشکار ہوتی چلی گئی ۔ معلوم ہوا کہ دیائے راوی کی ایک شاخ تو بن لوہاراں والی جگہ سے گزرتی تھی اور دوسری جانب چناب تھا۔سوہنی کے کچے گھڑے والا چناب۔اور سوہنی نے تو چناب کو جھنگ کے قریب عبور کرنے کی کوشش کی تھی ۔اور پھروہ اس کی وسعتوں میں کہیں گم ہوگئی تھی۔شاید وہ اسی جانب آئی ہو کہ چناب تو ملتان کی جانب ہی بہتاتھا۔ سو سوہنی کا گھڑا اور خود سوہنی ممکن ہے ملتان کی مٹی میں ہی کہیں گم ہو۔



ملتان ملبے پر آباد ہوا یا ٹیلے پر ؟

اور جب راوی ملتان میں بہتاتھا اور صدیوں پہلے بلکہ ہزاروں برس پہلے شاہ یوسف گردیز یہاں آئے تھے اور شہر آباد ہواتھا۔تو کیا یہ شہر بھی ملبے پر ہی تعمیر ہوا تھا ؟ ہزاروں سال کی شکست و ریخت کے دوران جب عمارتیں ملبے کاڈھیر بن گئیں۔ اور وہ ملبہ بلند ہوتا چلاگیا اور ملبے کے ساتھ شہر بھی سربلند ہوتاگیا۔ کہتے ہیں شاہ یوسف گردیز نے دریا کے قریب ہی کسی بلندی پر ملتان کو آباد کیاتھا۔یہ بلندی کسی ٹیلے کی تھی یا ملبے کی یہ تو معلوم نہیں‌۔شہر بہرحال اسی لیے بلندی پر آباد ہوا کہ اسے دریاسے محفوظ رکھا جاسکے۔

( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker