2018 انتخاباترضی الدین رضیکالملکھاری

ہم آج ووٹ کیوں ڈالیں گے ؟ : ڈرتے ڈرتے / رضی الدین رضی

گزشتہ ہفتے جب مسلم لیگ ن کے رہنما اور شیخ رشید کے مد مقابل مضبوط امیدوار حنیف عباسی کورات کے گیارہ بجے سزاسنائی گئی اوران سے پہلے نواز شریف کے خلاف طویل انتظارکے بعد عجلت میں عدالتی فیصلہ آیااورعدالتوں اورالیکشن کمیشن نے سزااورجزاءکے الگ الگ معیار مقررکئے توہماراجی چاہاکہ 25جولائی کو”گردوپیش“ میں عام انتخابات کی خبر اس شہ سرخی کے ساتھ شائع کریں کہ ”آج عوامی عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی “ عوامی عدالت کی گفتگو ہم آج کل مسلم لیگی رہنماﺅں سے تسلسل کے ساتھ سن رہے ہیں ۔پھرہمیں یاد آیا کہ عوامی عدالت والی شہ سرخی توپہلے بھی ہم نے کسی اخبار میں لگائی تھی ۔جی ہاں یہ1990ء کی بات ہے جب 6اگست کو غلام اسحق خان نے بے نظیربھٹو کی حکومت برطرف کی تھی اورغلام مصطفی جتوئی کو نگران وزیراعظم مقررکردیاتھا۔پھر مصطفی کھر ،رفیع رضا ،الہی بخش سومرواورسرتاج عزیز کونگران کابینہ میں شامل کر لیا گیا۔پنجاب میں میاں اظہر اورسندھ میں محمودہارون کو گورنربنادیاگیا۔اس کے بعد صوبائی اسمبلیاں بھی توڑدی گئیں اور ایک روز بعد ہی سات اگست کو صاحبزادہ یعقوب اورچوہدری شجاعت بھی کابینہ میں شامل ہوگئے اورغلام حیدر وائیں نے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ ،میرافضل نے سرحد ، جام صادق نے سندھ اور ہمایوں خان مری نے بلوچستان میں نگران وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔جیسے اب نوازشریف اوران کے حامیوں کویہ شکوہ ہے کہ نگران حکومتوں اورکابینہ میں ان کے مخالفوں کوشامل کیاگیاہے بالکل اسی طرح اس زمانے میں محترمہ بے نطیر بھٹو بھی یہ شکوہ کرتی تھیں کہ اسحق خان نے ان کے مخالفوں کو نگران سیٹ اپ میں شامل کرلیاہے۔نگران وزیراعظم غلام مصطفی جتوئی نے اعلان کیا کہ احتساب کا عمل 1977سے شرو ع ہوگا۔اس اعلان کے بعد پیپلزپارٹی کی بہت سی اہم شخصیات کو حراست میں لے لیاگیا۔بے نظیر بھٹو اوران کے ساتھیوں نے اسمبلیاں توڑنے کے فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کردیا۔انتخابات کے لئے 24اکتوبرکی تاریخ مقررکی گئی تھی ۔الیکشن سے صرف دس روز پہلے 14اکتوبرکولاہور ہائیکورٹ نے اسمبلی توڑنے اوروزیراعظم کی برطرفی کے فیصلے کو درست قراردیدیا۔پھر پیپلزپارٹی کے کارکن مایوس ہوکرگھروں میں بیٹھ گئے ۔اور آئی جے آئی نے واضح اکثریت حاصل کرلی ۔جنرل حمید گل کی پشت پناہی سے اس اتحاد کو 105نشستیں ملیں ۔بے نظیربھٹو نے 100حلقوں میں دوبارہ گنتی کامطالبہ کردیالیکن اسے الیکشن کمیشن نے مستردکردیا ۔ پھرنواز شریف پہلی بار وزیراعظم منتخب ہوگئے ۔یہی وہ زمانہ تھاجب ہم نے الیکشن سے دس روز قبل آنے والے عدالتی فیصلے کومدنظررکھ کر ”آج عوامی عدالت لگے گی:“کی سرخی جمائی تھی ۔یہ روداد بیان کرنے کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ ہم مسلسل ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں جہاں ایک ہی جیسی عدالتیں ہرمرتبہ ایک ہی فیصلہ سنا دیتی ہیں۔ فرق صرف اتناہے کہ اس بار یہ فیصلہ پہلی مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے نواز شریف کے خلاف آیا ہے ۔ اسی نواز شریف کے خلاف جواس سے پہلے ایسے فیصلوں پرخوش ہواکرتے تھے اورفیصلوں کی زدمیں آنے والوں کو بے ایمان اورملک دشمن کہاکرتے تھے اورکہتے تھے کہ یہ لوگ اللہ کی پکڑمیں آگئے ہیں ۔کیسی عجیب بات ہے کہ تاریخ آج نواز شریف کو لکیر کے اس جانب لے آئی ہے جہاں مزاحمت کرنے والے ہوا کرتے تھے ۔آج جب ملک میں ایک بارپھر انتخابات کاڈھونگ رچایاجارہاہے ہماے ذہن میں بہت سے سوالات ہیں ۔ایک ایسے معاشرے میں اورایک ایسے ملک میں جہاں ہم بھیڑبکریوں کو معلوم ہو کہ ہماری رائے اہمیت ہی نہیں رکھتی اورجہاں ہمیں یہ بھی علم ہو کہ ذبح کرنے والے ہاتھ پاﺅں باندھ کراورآنکھوں پرپٹی باندھ کرذبح کرتے ہیں اورپھر چھری بھی وہ استعمال کرتے ہیں جوکُندہوتی ہے اورذبح ہونے والے کو تڑپنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی پھربھی ہمیں یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ ہماری رائے شاید کہیں اپناکوئی کردار اداکررہی ہے ۔ ہم جو کچھ آج دیکھ رہے یہ نیا نہیں ۔ ماضی میں بھی اسے قبل ازوقت دھاندلی کانام دیاجاتاتھا۔ماضی میں بھی ملکی سالمیت کے تحفظ کے نام پر حمید گل جیسے لوگوں نے سیاسی اتحاد بنوائے ۔نواز شریف کولیڈربنایا،مرکزاورپنجاب کی لڑائی شروع کروائی ،آئی ایس آئی کے فنڈزتقسیم کئے گئے ،لیکن ہم پھر بھی ووٹ کاسٹ کرتے تھے یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں اوریہ جانتے ہوئے بھی کہ نتائج پہلے ہی کہیں مرتب کئے جاچکے ہیں ۔برطرف ہونے والے کو بھی معلوم ہوتاتھاکہ اسے دوبارہ برسراقتدارنہیں آنا۔اورجسے اقتدارمیں لانا ہوتاتھاوہ عموماََنواز شریف ہوتے تھےایک ایسے معاشرے میں اورایک ایسے ملک میں جہاں ہم بھیڑبکریوں کو معلوم ہو کہ ہماری رائے اہمیت ہی نہیں رکھتی اورجہاں ہمیں یہ بھی علم ہو کہ ذبح کرنے والے ہاتھ پاﺅں باندھ کراورآنکھوں پرپٹی باندھ کرذبح کرتے ہیں اورپھر چھری بھی وہ استعمال کرتے ہیں جوکُندہوتی ہے اورذبح ہونے والے کو تڑپنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی پھربھی ہمیں یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ ہماری رائے شاید کہیں اپناکوئی کردار اداکررہی ہے ۔ ہم جو کچھ آج دیکھ رہے یہ نیا نہیں ۔ ماضی میں بھی اسے قبل ازوقت دھاندلی کانام دیاجاتاتھا۔ماضی میں بھی ملکی سالمیت کے تحفظ کے نام پر حمید گل جیسے لوگوں نے سیاسی اتحاد بنوائے ۔نواز شریف کولیڈربنایا،مرکزاورپنجاب کی لڑائی شروع کروائی ،آئی ایس آئی کے فنڈزتقسیم کئے گئے ،لیکن ہم پھر بھی ووٹ کاسٹ کرتے تھے یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں اوریہ جانتے ہوئے بھی کہ نتائج پہلے ہی کہیں مرتب کئے جاچکے ہیں ۔برطرف ہونے والے کو بھی معلوم ہوتاتھاکہ اسے دوبارہ برسراقتدارنہیں آنا۔اورجسے اقتدارمیں لانا ہوتاتھا وہ بھی اس سارے عمل میں برابرکا شریک ہوتاتھااور یہ ہستی عموماََنواز شریف کی ہوتی تھی ۔ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکرانے والی جماعت کے ووٹررہے،ہم بھٹو صاحب اورمحترمہ بے نظیربھٹو کے نام پرووٹ دیتے رہے ۔پھرحالات نے پلٹاکھایا وہ سب جو اس وقت نواز شریف کے ساتھ تھے وہ ایک ایک کرکے ا لگ ہوتے گئے ۔وہ اسٹیبلشمنٹ جس نے خودنواز شریف کوطاقتوربنایاتھا وہ نواز شریف کی طاقت کے سامنے خودکوبے بس محسوس کرنے لگی۔اب وقت آگیاتھاکہ نئے غدارتخلیق کئے جاتے ۔گزشتہ چالیس برسوں سے ایک ہی پارٹی غدارچلی آرہی تھی اوراسی پارٹی کے قائدین رزق خاک کئے جاتے تھے اورپھر جب اس سیاسی جماعت کے تمام قائدین رخصت ہوگئے تواس کے لیڈر آصف زرداری نے یہ فیصلہ کیاکہ اب ہم نے ان قوتوں سے لڑائی نہیں کرنی صرف دھمکیوں سے کام چلاناہے ،مدمقابل نہیں آنا،گولی کانشانہ نہیں بننا،پھنداگلے میں نہیں ڈالنا۔ہم نے ان کے ساتھ اسی انداز میں چلناہے جس اندازمیں نوازشریف چلتے ہیں ،جس اندازمیں مولوی چلتے ہیں اورجس انداز میں کچھ اور جماعتں سیاسی جماعتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں ۔سوانہوں نے دوسراراستہ اپنایا اور وہ سیاسی موت کاراستہ تھا، جان بچانے کاراستہ تھا۔نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلزپارٹی کے نظریاتی کارکن اس کاساتھ چھوڑگئے وہ جو اسٹیبلشمنٹ اوراستحصالی قوتوں سے ٹکراناچاہتے تھے انہیں یہ مصالحت اورمصلحت والارویہ پسند نہ آیا اوردوسری جانب ہم نے یہ دیکھا کہ اسٹیبلشمنٹ اب اپنے ہی مہرے سے تنگ آچکی ہے اپنی ہی کٹھ پتلی کی گردن مروڑناچاہتی ہے اس لئے کٹھ پتلی نے اپنی مرضی سے تماشہ دکھانے کی کوشش شروع کردی ہے ۔نواز شریف کووقت اورتاریخ اسی موڑ پرلے آئی جس موڑ پرپیپلزپارٹی ہوتی تھی ۔اوروہ جوکچھ اس کے ساتھ کرتے تھے وہ سب ان کے ساتھ ہونے لگا۔آج وہ اوران کے ساتھی الیکشن کے موقع پرجیل میں موجودہیں بالکل اسی طرح جیسے پیپلزپارٹی کے رہنما جیل سے الیکشن لڑاکرتے تھے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے امیدواروں کی بھی کوئی حیثیت نہیں ۔ یہ ایک دھمکی میں ڈھیر ہو جانے والے لوگ ہیں ۔ یہ ہوا کے رخ کو پہچانتے ہیں ۔ یہ سردار ہیں‌، وڈیرے ہیں ، یہ مخدوم ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے استحصال کا سامان کرتے ہیں ۔ لیکن ہمیں اس کے باوجود ووٹ دینا ہے ۔ اس امید پر دینا ہے کہ یہ انتخابی عمل مزید مستحکم ہو جائے تو شائد کسی روز ہم اصل مجرموں اور اصل قاتلوں کو بھی کٹہرے میں دیکھ سکیں اور وہ جو ہمیں نشانہ بناتے ہیں کسی روز اپنے ووٹ سے ہم بھی انہیں نشانہ بنا سکیں کہ ہم بندوق والے نہیں ہم تو ووٹ والے ہیں ۔ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکرانے والی جماعت کے ووٹررہے،ہم بھٹو صاحب اورمحترمہ بے نظیربھٹو کے نام پرووٹ دیتے رہے ۔پھرحالات نے پلٹاکھایا وہ سب جو اس وقت نواز شریف کے ساتھ تھے وہ ایک ایک کرکے لگ ہوتے گئے ۔وہ اسٹیبلشمنٹ جس نے خودنواز شریف کوطاقتوربنایاتھاخودنواز شریف کی طاقت کے سامنے خودکوبے بس محسوس کرنے لگی۔اب وقت آگیاہے کہ نئے غدارتخلیق کئے جائیں ۔گزشتہ چالیس برسوں سے ایک ہی پارٹی غدارچلی آرہی تھی اوراسی پارٹی کے قائدین رزق خاک کئے جاتے تھے اورپھر جب اس سیاسی جماعت کے تمام قائدین رخصت ہوگئے تواس کے لیڈر آصف زرداری نے یہ فیصلہ کیاکہ اب ہم نے ان قوتوں سے لڑائی نہیں کرنی صرف دھمکیوں سے کام چلاناہے ،مدمقابل نہیں آنا،گولی کانشانہ نہیں بننا،پھنداگلے میں نہیں ڈالنا۔ہم نے ان کے ساتھ اسی انداز میں چلناہے جس اندازامیں نوازشریف چلتے ہیں ،جس اندازمیں مولوی چلتے ہیں اورجس انداز کے ساتھ کچھ اور سیاسی جماعتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں ۔سوانہوں نے دوسراراستہ اپنایاوہی راستہ جوسیاسی موت کاراستہ تھاجوجان بچانے کاراستہ تھا۔نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلزپارٹی کے نظریاتی کارکن اس کاساتھ چھوڑتے چلئے گئے وہ جو اسٹیبلشمنٹ اوراستحصالی قوتوں سے ٹکراناچاہتے تھے انہیں یہ مصالحت اورمصلحت والارویہ پسند نہ آیا اوردوسری جانب ہم نے یہ دیکھا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنے ہی مہرے سے تنگ آچکی ہے اپنی ہی کٹھ پتلی کی گردن مروڑناچاہتی ہے اس لئے کہ کٹھ پتلی نے اپنی مرضی سے تماشہ دکھانے کی کوشش شروع کردی ۔نواز شریف کووقت اورتاریخ اسی موڑ پرلے آئی جس موڑ پرپیپلزپارٹی ہوتی تھی ۔اوروہ جوکچھ اس کے ساتھ کرتے تھے وہ سب ان کے ساتھ ہونے لگا۔آج وہ اوران کے ساتھی الیکشن کے موقع پرجیل میں موجودہیں بالکل اسی طرح جیسے پیپلزپارٹی کے رہنما جیل سے الیکشن لڑاکرتے تھے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے امیدواروں کی بھی کوئی حیثیت نہیں ۔ یہ ایک دھمکی میں ڈھیر ہو جانے والے لوگ ہیں ۔ یہ ہوا کے رخ کو پہچانتے ہیں ۔ یہ سردار ہیں‌، وڈیرے ہیں ، یہ مخدوم ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے استحصال کا سامان کرتے ہیں ۔ لیکن ہمیں اس کے باوجود ووٹ دینا ہے ۔ اس امید پر دینا ہے کہ یہ انتخابی عمل مزید مستحکم ہو جائے تو شائد کسی روز ہم اپنے اصل مجرموں اور اصل قاتلوں کو بھی کٹہرے میں دیکھ سکیں اور وہ جو ہمیں نشانہ بناتے ہیں کسی روز اپنے ووٹ سے ہم بھی انہیں نشانہ بنا سکیں ۔ کہ ہم بندوق والے نہیں ہم تو ووٹ والے ہیں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker