رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں (23 ) ۔۔ رضی الدین رضی

تنگ و تاریک آڑی ترچھی گلیاں ، دفاعی لکیر

اورپھر ایک مکان کے اندر داخل ہوتے ہیں ،باہر سے ایک چھوٹا سا معمولی مکان اور اندر داخل ہوئے تو جیسے ہم کسی ٹوٹے ہوئے دروازے سے بہت بڑی حویلی میں آگئے۔بڑے بڑے کمرے ،لکڑی اورشیشے کا بے تحاشا کام، بلند چھتیں اورچھتوں پر ہاتھ سے کھینچنے والے پنکھے ، اور پنکھوں کی بھلا ضرورت ہی کہاں پڑتی تھی اس ہوا دار حویلی میں۔عجب طرز تعمیر کہ ہر طرف سے ہوا کے جھونکے، کمرے ٹھنڈے ، کہ ان پرگارے کا لیپ اور بالکونی سے باہرجھانکیں تو نیچے وہی تنگ گلی اور یہی تنگ آڑھی ترچھی اورکہیں سے کشادہ اور پھر سے تنگ ہوتی گلیاں ہی تو شہر کی دفاعی لکیر تھیں۔ سیدھی نہیں آڑھی ترچھی ،گھومتی کہیں سے کشادہ ہوتی اورپھر سے قبر بنتی ہوئی لکیر۔

یہ تاتاری بھلا کس زبان میں شور مچاتے ہیں ؟

اور پھرایک منظر یہ دکھائی دیتا ہے کہ حملہ آور نیزے ،بھالے اٹھائے گلی میں داخل ہوتے ہیں ۔وہ نعرے لگا رہے ہیں۔گالیاں دے رہے ہیں۔شور مچا رہے ہیں۔کون سی زبان میں بات کررہے ہیں۔کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔بس ایک شور ہے ،ایک چیخ وپکارہے۔ اور یہ تاتاریو ں کاحملہ ہے۔ جو خراسان ،غزنی اورغور پر حملوں کے بعد سندھ کے راستے ملتان آئے ۔سندھ میں انہوں نے بہت تباہی مچائی اور اب چالیس روز سے شہر کا محاصرہ کیے بیٹھے تھے۔

محاصرے ،دروازوں پر لڑائی اور بدبو چھوڑتی لاشیں

یہ شہر محاصروں کاتو خیرعادی تھا۔ کوئی قبیلہ ،کوئی لشکر،کوئی فوج جب بھی شہر پر حملہ آور ہوتی تو اسی طرح کئی کئی روز محاصرہ کیے رکھتی۔ اپنی پوزیشنیں مضبوط کرتی ، شہر کو رسد منقطع کرتی اور پھر حملہ آور ہوجاتی۔ تاتاریوں کی آمد کابھی شہر والوں کو پہلے سے علم تھا۔شہر کے دروازے بند کردیئے گئے تھے۔ دروازوں کے اوپر پہرے دار،اور النگ پر بھی پہرے دار چوکس ، شہر کی حفاظت کے لیے تیار۔پہلی لڑائی شہر کے مختلف دروازوں پر ہوئی اور یہ لڑائی بھی کوئی نئی نہیں تھی۔ملتانیوں نے شہر بچانے کے لیے ایسی کئی لڑائیاں لڑی تھیں۔شہر کے دروازوں پر لاشیں کئی کئی روز پڑی رہتی تھیں۔ اندر کوئی قبرستان نہیں تھا۔ اور دروازوں کے باہر حملہ آور ہوتے تھے ۔سو یہ لاشیں پڑی رہتی تھیں۔کبھی رات کی تاریکی میں موقع ملتا تو شہر کے محافظ جاکر اپنے کسی ساتھی کو کہیں دفن کرآتے یا دور ویرانے میں پھینک آتے کہ ان کی بدبو شہر والوں کے لیے زندگی اجیرن نہ کردے۔ ورنہ تو لاشیں پڑی رہتی تھیں۔ النگ کے ساتھ کے علاقوں میں بدبو پھیلنے لگتی اور جینا محال ہوجاتا۔

چھتوں سے پتھروں اور ابلتے پانی کی بارش

چالیس دن کے محاصرے اورکئی روز کی لڑائی کے بعد یہ تاتاری جنونی ہورہے تھے۔ ان کے منہ سے جھاگ نکلتی تھی ۔آنکھوں سے خون ٹپکتا تھا۔ بھنوئیں تنی ہوئی تھیں۔ اورجیسے ہی وہ نامعلوم زبان میں شورمچاتے اس تنگ و تاریک گلی میں آئے تو ہنگامہ سن کر سب عورتیں بچے ،بوڑھے جو احاطوں میں بیٹھے تھے گھروں میں داخل ہوئے اور مرد تو احاطوں میں بیٹھتے ہی نہیں تھے۔ ان میں سے کچھ مقابلے کے لیے شہر کی فصیل پر موجودتھے اور کچھ نے پہلے ہی گھروں کی چھتوں پر پوزیشنیں سنبھال رکھی تھیں۔رات بھرجاری رہنے والی لڑائی کے بعد سب کویقین تھا آج تاتاری شہر میں داخل ہوجائیں گے۔اور وہ ہوگئے۔نیزے سنبھالے ،نہ سمجھ آٰنے والی زبان میں شورمچاتے تاتاریوں پر چھتوں سے پتھروں کی بارش ہونے لگی۔ نہتے شہریوں کے پاس دو ہی تو ہتھیارتھے ۔پتھر یا ابلتا ہوا پانی۔اور پتھرﺅں کے ساتھ کھولتا ہوا پانی بھی تاتاریوں پر برسنے لگا۔مرد پتھراﺅ کررہے تھے اور عورتیں چولہوں پر دھرا پانی برتنوں میں ڈال ڈال کر چھتوں سے پھینکتی تھیں۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker