رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں ( 21 ) ۔۔ رضی الدین رضی

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے۔۔۔

کبھی کبھی دل میں یہ خیال آتا ہے کہ ہم جو آج اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں۔ہم جو آج جدید ٹیکنالوجی ،فاسٹ فوڈ ،برانڈڈ مصنوعات اور جدیدترین ذرائع آمدورفت استعمال کررہے ہیں ۔اگر ہم آج کے عہد میں نہ ہوتے ۔ہم پانچ ہزار سال قبل کے ملتان میں ہوتے تو کیسے ہوتے ؟ ہمارا لباس کیساہوتا؟ ہمارارہن سہن کیساہوتا؟ اور ہماری زبان کیا ہوتی؟ چشم تصور وا کیجئے اور پانچ ہزار سال پہلے کے اس ملتان میں پہنچ جائیں جب ملتان والوں کو رہن سہن اور کھانے پینے کی تمیز ہی نہیں تھی۔اگر ہم اس زمانے میں ہوتے تو ہم جو آج دیدہ زیب ملبوسات زیب تن کرکے خوشبوﺅں میں نہائے ہوئے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں تو کیا ہمارے تن پربھی پتے ہوتے۔ہم پتوں سے اپنا تن ڈھانپتے اور جانوروں کا شکارکرکے اپنی خوراک حاصل کرتے۔ جھونپڑیوں میں رہتے ۔پتوں کو پیس کر اپنے زخموں کولگاتے۔ اورانہی سے اپنے دیگرعوار ض کا علاج کرتے۔

ہم کس مذہب کے پیروکار ہوتے ؟

یہ وہ زمانہ تھا جب ملتان والوں کو رہن سہن کا سلیقہ نہیں آتا تھا۔ وہ جینے تو کیا مرنے کے ڈھنگ سے بھی واقف نہیں تھے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ مرنے والوں کی لاشیں یا تو جانوروں کو ڈال دی جاتی تھیں یا پھرانہیں ٹکڑے ٹکڑے کرکے خود کھا لیا جاتاتھا۔ لاشیں جلانے ،بہانے یا دفن کرنے کا طریقہ تو بہت بعد میں آیا تھا۔اور اس زمانے میں جب کوئی بہت بوڑھا ہوجاتا تھا ۔چلنے پھرنے کے قابل نہ رہتا تھا یا کسی مہلک بیماری کے باعث مفلوج ہوجاتاتھا اور ناقابل علاج قراردیئے جانے کے بعد اہل خانہ پر بوجھ بن جاتاتھا تو اس زمانے میں ایسے لوگوں کو علاج معالجے یا دیکھ بھال کے لیے کہیں اور منتقل کرنا تو ممکن ہی نہیں تھا۔ سو انہیں خود ذبح کرکے ان کا گوشت کھا لیاجاتا تھا یا پھرانہیں کسی جانورکو کھلا کر اس جانورکا گوشت خودکھا لیاجاتاتھا۔ذرا سوچئے کہ ہم اس زمانے میں ہوتے تو کیسے ہوتے۔اور اس زمانے کا ملتان کیسا ہوتا؟ یا اگرہم عہد قرا مطہ میں ہوتے تو ہمارامذہب کیاہوتا؟ اور جب ملتان کا نام میسان تھا ، یا جب یہ کشپ پورہ کے نام سے آباد کیاگیا تھا ، ہم اگر اس زمانے میں ہوتے تو ہمارا مذہب کیا ہوتا؟

سورج دیوتا اور چڑھتے سورج کے پجاری

ملتان پر ہر حملہ آور اپنی تہذیب ،ثقافت ،زبان اور مذہب کے ساتھ حملہ آور ہوا۔ ہرعہد میں یہاں معاشرتی اور ثقافتی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس شہر نے ہر دور میں مختلف مذاہب دیکھے اور ہر آنے والے نے ،ہرحملہ آ ور نے یہاں کے لوگوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ ہم اگر آج نہ ہوتے کسی اور زمانے میں ہوتے تو ہم اس زمانے کے حکمرانوں کے عقائد اور مذاہب کے زیراثر زندگی گزاررہے ہوتے۔ ممکن ہے ہم سورج دیوتا کے پجاری ہوتے۔ لیکن ٹھہریں ، ذرا غور کریں چڑھتے سورج کی پرستش تو ہم آج اکیسویں صدی میں بھی کرتے ہیں۔ لیکن اگرہم سورج پرستوں کے عہد میں ہوتے تو باقاعدہ سورج کی پوجاکرتے۔

مندروں اور مزارات پر چڑھاوے

اپنے زمانے کا کیسا مستحکم عقیدہ تھا کہ آج ہزاروں برس بعد بھی ہمارے معاشرے میں محاورے اور بعض لوگوں کے عقیدے کی صورت میں موجود ہے۔یہ بھی تو ممکن ہے کہ ہم توحید پرست اس ڈھب سے ہوتے کہ رام کو ہی وحدا نیت کا مظہر سمجھتے۔بت پرستی کے دور میں سانس لینے والے سبھی ملتانی بتوں کی پوجاکرتے تھے ۔ مجسمے تراشے جاتے تھے ۔ یہاں بڑے بڑے مندر تھے اور مندروں میں چڑھاوے چڑھتے تھے۔جیسے اب مزارات پر چڑھتے ہیں۔

مسجدکی تعمیر اور محمد بن قاسم کی لوٹ مار

محمد بن قاسم اسلام کا جھنڈا لے کر ملتان آیاتواسے بتایاگیا کہ یہاں ایک قدیم قلعہ ہے جس پر سورج دیوتا کامندر ہے اور اس کے تہہ خانے میں زیورات سے بھرے صندوق اور سینکڑوں من خالص سونا بھی موجودہے۔ محمد بن قاسم نے قلعے پر ایک مسجد کی بنیاد رکھی اورپھر اس مندر سے سونا لے کر رخصت ہوگیا۔ برصغیر میں اسلام کا پرچم بلند ہوا ۔فرض پورا ہوگیا اور مال غنیمت بھی ہاتھ لگا۔کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اگرا س زمانے میں ہم اورآپ موجودہوتے تو ہم کس کے ساتھ ہوتے۔ کیا ہم مندر کے کسی کونے میں چھپ جاتے ،مندر سے کہیں دور بھاگ جاتے اور دور سے محمد بن قاسم کو سونا لوٹتے دیکھتے یا پھر ہم اسلام قبول کرکے محمد بن قاسم کی فوج میں شامل ہوچکے ہوتے۔ہم تکبیر کے نعرے لگاتے ہوئے محمد بن قاسم کے ساتھ قلعے پر جا کر مسجد کے سنگ بنیاد کی تقریب میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے اور پھر مندر سے سونا لوٹنے میں بھی محمد بن قاسم کی مدد کرتے۔اس سینکڑوں من سونے میں سے کچھ سونا تو اس نے اپنے سپاہیوں میں بھی تقسیم کرناتھا۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker