سرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں (29 ) ۔۔ رضی الدین رضی

گرمی سے بچاؤ ، طرزِ تعمیر اور نیلا رنگ

گردوگرما ،گدا وگورستان کے باسیوں نے شہر کی تعمیر میں بھی اس بات کاخیال رکھا کہ شہرکے باسی موسمی اثرات سے محفوظ رہیں۔تعمیرات میں لکڑی کا زیادہ استعمال اس لیے ہوا کہ دریا کے کنارے واقع اس شہر کے باسیوں کو ہردورمیں لکڑی وافر مقدار میں دستیاب تھی۔یوں چوبی بالکنیاں ملتان کے طرز تعمیر کی شناخت بن گئیں۔بیشترعمارتوں میں نیلے رنگ کے شیشوں کااستعمال کیاگیا۔اسی طرح مساجد اور مزارات سمیت بہت سی اہم عمارتوں میں نیلی ٹائل کا استعمال اور کاشی گری دیکھنے میں آتی ہے۔نیلا رنگ ٹھنڈک کااحساس دلاتا ہے اور شدید گرم موسم والے اس شہر کی عمارتوں میں استعمال ہونےوالا یہ نیلارنگ بھی موسم کی حدت سے نبردآزما ہونے کی ایک کوشش ہے۔

آئس کریم والی ہتھ ریہڑی سے ڈیپ فریزر تک

ہمارے بچپن کے ملتان میں درختوں کی اتنی بہتات تھی کہ گرمی کی شدت ہمیں محسوس ہی نہ ہوتی تھی۔ اونچی چھتوں والے ہوادار مکانوں میں ایک آدھ بجلی کا پنکھا گرمی کے مقابلے کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا۔ گھڑے اورصراحی کا ٹھنڈا پانی گرمی کی شدت کم کرتا تھا۔ دوپہر کو یا شام ڈھلے شکنجبین تیارکی جاتی تھی۔ آئس کریم اورقلفی گرمی کا خاص تحفہ ہوتی تھی۔ لکڑی کی ہتھ ریہڑی پر آئس کریم والا گلی میں آکرجب مخصوص آوازلگاتا تو سب بچے ماؤں کے روکنے کے باوجود ننگے پاؤں گھروں سے باہر نکلتے اور کاغذ میں لپٹی ہوئی آئس کریم لے کر واپس آجاتے شدید گرمی کے باوجود آئس کریم کی خواہش میں ان کے پاؤں بھی نہیں جلتے تھے۔ کاغذ میں لپٹی ہوئی یہ آئس کریم اب مختلف برانڈزکی آئس کریموں میں تبدیل ہوگئی ہے۔ہتھ ریڑھیوں کی جگہ ڈیپ فریزر اب مختلف دکانوں پرموجود ہیں جن میں آئس کریم محفوظ کی جاتی ہے۔ لیکن یہ ڈیپ فریزرتوبہت بعدمیں آئے

کون آئس کریم کا بسکٹ کون پھینکتا تھا ؟

ہتھ ریڑھی اورقلفیوں کے زمانے کے بعد ملتان میں سب سے پہلے کینٹ کے علاقے میں کون آئس کریم متعارف ہوئی تھی یہ ہمارے سکول کادور تھا۔ ہم نے پہلی بار کون آئس کریم کے ساتھ اس کے بسکٹ کا بھی لطف لیا ، اوربہت سے لوگ توایسے تھے جنہیں ابتداء میں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ جس بسکٹ کو ہاتھ میں تھام کر وہ کون آئس کریم کھارہے ہیں وہ بسکٹ بھی کھانے کی چیز ہے ، وگرنہ تو کئی لوگ آئس کریم کھانے کے بعد اس بسکٹ کو کوئی غیرضروری چیز سمجھ کرپھینک دیتے تھے ۔

برف کے پھٹوں پر دھینگا مشتی

برف شہر کے مختلف علاقوں میں پھٹوں پر فروخت ہوتی تھی جو گھر پہنچتے پہنچتے آدھی رہ جاتی تھی ۔شہرمیں کچھ برف خانے بھی ہوتے تھے جہاں برف پھٹوں کے مقابلے میں ارزاں نرخوں پردستیاب ہوتی تھی لوگ دوردراز علاقوں سے بھی زیادہ برف کے لالچ میں ان کارخانوں تک آتے تھے اور بہت ہجوم میں دھینگا مشتی کے بعد برف حاصل کرتے تھے ، یہ الگ بات کہ شدید گرمی میں ارزاں نرخوں پر برف لے کر جب وہ گھرپہنچتے تھے تومعلوم ہوتاتھاکہ برف اتنی ہی رہ گئی جتنی پھٹے سے ملتی ہے ۔

اسی کی کی بھیس وٹائے یار تیرےملنے نوں

لو صاحب برف پر یاد آیا کہ ہمارے ایک معزز دوست اپنی محبوبہ کی خوشنودی کے لئے ایک بار ناز سینما سے ڈبل پھاٹک تک سر پر برف رکھ کر لائے تھے اور اس دوران ان کا چہرہ مبارک برف محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کئے جانے والے برادے ، پسینے اور برف کے پانی کی آمیزش سے مزید خوبصورت ہو گیا تھا ۔ المیہ یہ ہوا کہ جس محبوبہ کے لئے انہوں نے اتنی مشقت جھیلی اس نے وہ برف ان کے رقیب کی مدارت کے لئے منگوائی تھی کہ وہ بھی چلچلاتی دھوپ میں اپنے مشن پر وہاں آیا ہوا تھا ۔

( جاری )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker