رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں (30 ) ۔۔ رضی الدین رضی

برف کے مضر صحت لذیذ گولے اور گولی والی بوتل

خیر چھوڑیں اس قصے کو کہ ہم آپ کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ گرمیوں میں ہم برف کے گولے بہت شوق سے کھاتے تھے اورہمیں یہ فکر بھی نہ ہوتی تھی کہ ان گولوں پر جو میٹھا رنگ ڈالا جارہاہے اس کے ہماری صحت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے ۔ سچ پوچھیں تو برف کے گولوں نے ’’مضرصحت ‘‘ ہونے کے باوجودکبھی ہماری صحت پر منفی اثرات مرتب نہیں کیے تھے۔اب تو برف کے یہ گولے بھی پیالوں میں پیش کئے جاتے ہیں اوران پررنگ دارپانی کی بجائے بہت سے میٹھے لوازمات اورشربت ڈالے جاتے ہیں لیکن جولطف سرکنڈے والے گولے میں تھا وہ پیالیوں والے گولے میں کہاں؟ پیالی میں کُوٹ کر ڈالی گئی برف کو گولہ تو بہر حال نہیں کہا جا سکتا ۔کوک اور دیگر مشروبات توبہت بعد میں آئے وگرنہ ملتانیوں کا پسندیدہ مشروب تو گولی والی بوتل ہی تھا، جی ہاں اس شہر میں بندوق ہی نہیں بوتل بھی گولی والی ہوتی تھی ۔ایک خاص ڈیزائن کی بنی ہوئی یہ بوتل بھی اب ماضی کاحصہ بنتی جارہی ہے۔اندرون شہر والے آئس کریم یا قلفی کی بجائے فالودے سے لطف اندوز ہوتے تھے۔



سول علاقوں میں بھی پینے کا صاف پانی

پینے کا صاف پانی سول علاقوں میں بھی وافر مقدار میں موجود ہوتاتھا،گھروں میں ہینڈپمپ کا پانی بھی آج کے فلٹر پلانٹ والے پانی سے بہتر ہوتا تھا۔ گلی محلوں میں مختلف چوراہوں پر سرکاری نل سے لوگ پانی بھرتے تھے اور آپس میں لڑتے تھے۔ یہ پانی مخصوص اوقات میں دن میں تین مرتبہ فراہم کیا جاتا تھا اوران اوقات میں نلوں کے باہر بالٹیوں ، برتنوں کی قطاریں اورلوگوں کا ہجوم ہوتاتھااورہم جو اپنے گھرکی کھڑکی سے سامنے والے نل پرلوگوں کوکبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑتا دیکھتے تھے توسوچتے تھے کہ یہ غریب لوگ کیایہ اپنے گھر پرہینڈ پمپ بھی نہیں لگواسکتے؟ اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھاکہ ایک وہ زمانہ بھی آئے گاجب ہم بھی پانی کابرتن لئے کسی واٹرپلانٹ کے باہرقطار میں موجود ہوں گے ، ہمارے گھرمیں ہینڈپمپ ہی نہیں پانی والی موٹر بھی ہوگی لیکن ا س کے باوجودہم ’’غریب ‘‘ہوچکے ہوں گے ۔



سورج سوا نیزے سے بھی نیچے آ گیا

وقت زقند لگا کر آگے بڑھ گیا۔ وہ سڑکیں جہاں گھنے درخت ہواکرتے تھے فلائی اوورز،میٹرو اور دورویہ کشادہ سڑکوں کی تعمیر کے نتیجے میں درختوں سے خالی ہوگئیں۔ کینٹ کامال روڈ ہو یا ابدالی روڈ ،بہاولپور روڈ ہو یا نواب پور روڈاب یہاں لوگ سائے کوبھی ترستے ہیں۔اور تو اورہاؤسنگ کالونیوں کے کاروبار نے شہراورگردونواح سے آموں کے باغات کابھی صفایا کردیا۔شاہ شمس کی بوٹی بھوننے کے لیے جو سورج سوا نیزے پرآیاتھا وہ کچھ اور نیچے آگیا ہے۔

( جاری)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker