رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں (26 ) ۔۔ رضی الدین رضی

قلعہ ملتان کی قدامت کے بارے میں قیاس آرائیاں

قلعہ ملتان فصیل کے ذریعے شہر کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔قلعے میں موجود محلات اور دیگر عمارتیں اپنے عہدکے فن تعمیر کا نمونہ تھیں۔یہ قلعہ کتنا قدیم تھا اس بارے میں بھی کوئی بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی۔مختلف تواریخ میں اس قلعے کی تعمیر کے مختلف ادوار بیان کئے گئے ہیں ۔پیر حسام الدین راشدی لکھتے ہیں کہ ”قلعہ ملتان برصغیر کے تمام قلعوں میں قدیم تر ہے۔اس قلعے میں پرہلاد جی کامندر ہے جس کازمانہ طوفان نوح ؑسے قریب تر بتایاجاتا ہے“لیکن اس زمانے کو قرینِ قیاس قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

قلعے کی پر اسرار سرنگیں

قلعے میں موجود بہت سی سرنگیں ایک طویل عرصے تک اہل ملتان کی توجہ کامرکز رہیں۔یہ سرنگیں قلعے سے اندرون شہر کے مختلف مقامات تک جاتی تھیں شاید کسی حملے کی صورت میں یہ حکمرانوں کے فرار کا ایک محفوظ راستہ تھا۔ایسی ہی ایک سرنگ کادہانہ قیام پاکستان کے بعدتک بوہڑ گیٹ کے علاقے میں بھی موجودتھا۔نام ور مؤرخ اور صحافی حنیف چوہدری کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ سرنگ دیکھی ہوئی ہے اور اس کے بارے میں کئی پراسرار کہانیاں لوگوں میں گردش کرتی تھیں‌۔

شہر دریا کے مغربی اور قلعہ مشرقی کنارے پر تھا ؟

پرہلادجی کامندراور سورج دیوتا کا سورج کنڈ کے نام سے مندر دو ایسی عبادت گاہیں تھی جن کے آثار اب بھی ملتان میں موجودہیں۔ایک روایت کے مطابق سورج کنڈ مندر دریا کے مغربی کنارے پر موجود تھا اور ہزاروں برس قبل شہر بھی مغربی کنارے پر ہی تھا ۔ مشرقی کنارے پر صرف قلعہ تھا ۔ بعد ازں شہر بھی قلعہ کے ساتھ ہی اس جگہ منتقل ہوگیا جہا ں یہ آج بھی موجود ہے ۔مورخین کاکہناہے کہ سورج دیوتا کے مندر میں ایک بہت بڑا میلہ لگتا تھا جس میں لاکھوں افراد شرکت کرتے تھے۔



ایسے ہی میلے شہر میں ہر دور میں مختلف مقامات پر لگائے جاتے رہے جو ہر عہد میں شہر کے تہذیبی خدوخال نکھارنے میں معاون ثابت ہوئے۔

ہزاروں سال پہلے کا رہن سہن اور پہناوے

شہر میں جو عمارتیں آج موجودہیں ان سے شہر کی چند سوسال پرانے طرزتعمیر اور تہذیب کا اندازہ کیاجاسکتا ہے۔ہزاروں سال پہلے یہاں رہن سہن اور پہناوا کیسا تھا اورکوئی پہناوا تھا بھی یا نہیں اس بارے میں صرف قیاس ہی ممکن ہے۔اس زمانے کے لوگ کیسے گھروں میں رہتے تھے۔درودیوارکیسے تھے ،دشمن سے بچاﺅ کےلئے کیا تدابیر اختیار کی جاتی تھیں۔شادی بیاہ کے رسم ورواج کیسے تھے ۔اس بارے میں تاریخ کی کتابوں میں بہت کم تفصیل موجودہے لیکن آج کے رسوم ورواج ،آج کے پہناووں یا چند سوسال پرانے رسوم ورواج اور پہناووں اور اندازِ زندگی سے کچھ باتیں بہرحال قرین قیاس معلوم ہوتی ہیں۔

ڈولیاں تاروں کی چھاؤں میں کیوں رخصت ہو تی تھیں ؟

جس طرح ہمیں قدیم شہر کے طرزتعمیر کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ اس میں شہر کے موسمی حالات کو مدنظررکھاگیاتھا ایسا ہی کچھ یہاں کے رسوم ورواج سے بھی جھلکتا ہے۔خاص طورپر ملتان کے قدیم روایتی باشندے آج بھی بیٹیوں کی ڈولیاں تاروں کی چھاﺅں میں رخصت کرتے ہیں۔ملتان اوراس کے مضافات میں شادی بیاہ کی تقریبات آج بھی رات گئے تک جاری رہتی ہیں اوراس کی بنیادی وجہ بھی شہر کا وہ گرم موسم ہے جس کے نتیجے میں یہاں دن کے وقت تقریبات کا انعقاد ممکن ہی نہیں تھا۔سو یہاں کے لوگ ایسی تقریبات عموماً رات کے وقت کرتے تھے۔

مٹی گارے کے مکان اور حویلیاں

اسی طرح دیہی علاقوں میں کھلے اور ہوا دار مکان آج بھی قدیم تہذیب کی جھلک دکھاتے ہیں۔مٹی گارے سے بنے ہوئے ان کچے مکانوں میں آج بھی زنان خانہ اور مردانہ الگ الگ ہوتے ہیں۔قدیم حویلیوں میں بھی اسی قسم کاطرز تعمیر تھاجس میں گھر کا ایک حصہ مردوں کی بیٹھک کےلئے وقف ہوتاتھا۔پرانے مکانوں میں چھت پر دھواں نکالنے کےلئے چمنیاں آج بھی دکھائی دیتی ہیں۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker