رضی الدین رضیکالملکھاری

کپتان ، تاوان اور نیا پاکستان : ڈرتے ڈرتے / رضی الدین رضی

پچیس جولائی کے انتخابات کے بعدحکومت سازی کے تمام مراحل بہت جذباتی ماحول میں طے ہوئے۔اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر حکمران جماعت اور اپوزیشن ارکان نے وہ شور شرابہ کیا کہ دنیا کے سامنے ہماری مزاحیہ تصویر مزید مضحکہ خیز ہوگئی۔دنیا کیا، جمہوری رویوں میں تو ہم اپنے پڑوسیوں سے بھی کوسوں پیچھے ہیں۔ایک ہجوم ہے جسے اپنی منزل کا تعین کرنے میں دشواری ہے اور بے حد شکوک و شبہات بھی۔نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف کا برسر اقتدار آنا بھی اس بے یقینی کو ختم نہیں کرسکا۔ہم نئے راستے پر آ تو گئے لیکن منزل پر پہنچنے کا یقین نہیں ہے۔اس بے یقینی کی بڑی ٹھوس وجوہات ہیں۔گزشتہ 71 برس کے دوران جمہوریت کے جوچند وقفے آئے ان میں ہمیں بارہا ایسے تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا کہ اب سراب کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ہر ایک کے پاس اپنا اپنا سچ ہے کوئی دوسرے کے سچ کو ماننے پر تیار ہی نہیں۔جمہوری عدم تسلسل نے لوگوں کو سیاسی طور پر مختلف انتہاﺅں پر کھڑا کردیا ہے۔اصول و ضوابط، برداشت اور حوصلے کی بجائے تمام رویے اسی انتہا سے طے ہوتے ہیں۔جب کوئی ہمیں انتہا پسند کہتا ہے تو ہمیں برا لگتا ہے اور ہم اسے کوستے ہیں۔ہم مخالفین کے رویے کو بھی اسی انتہا سے پرکھتے ہیں اور لوگوں کے وعدوں کو بھی اسی انتہا پر جا کر جانچنے کی کوشش کرتے ہیں جس انتہا پر ہم خود موجود ہوتے ہیں۔ان انتہا پسند رویوں کی جڑیں پچھلے 40 برسوں پر پھیلی ہوئی ہیں جب سماجی تکثیریت کا منظم انداز میں ’قتل عام‘ کیا گیا اور ثقافتی اور مذہبی تنوع کو ختم کرنے کی شعوری کوشش کا آغاز ہوا۔تقسیم کے عمل اور انتہا پسندی کے ’روڈ میپ‘ کو ریاست کی اشیر باد حاصل تھی۔لوگوں کے رویے میں ایک طرح کی شدت پسندی در آئی۔مختلف گروہوں اور افراد کو فکری، قومی، لسانی اور نسلی بنیادوں پر احساس برتری اور کمتری میں مبتلا کیا گیا۔تعصب کی آبیاری سے متعصبانہ طرز عمل کو فروغ ملا جس نے صرف نفرت کی فضا ہموار کی۔انتہا پسندی عقائد و نظریات تک محدود نہیں رہی تھی بلکہ اس کا دائرہ سیاست، وطنیت، قومیت اور نسلی و لسانی تفاخر تک پھیلا دیا گیا۔چالیس سال پہلے حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ صرف ایک ’ادارہ‘ جاری کرتا تھا۔ اب یہ کام سیاسی کہلائے جانے والے گروہوں نے بھی سنبھال لیا ہے۔عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے اور حلف اٹھانے کے بعد بہت سے ایسے سوالات سامنے آئے ہیں جو نہ آتے تو بہتر تھا۔اقتدار کے ابتدائی دنوں میں بہت سوچ سمجھ کر اور پھونک پھونک کر قدم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ایسے میں اگر کچھ غلطیاں ہوجائیں یا کروا دی جائیں تو لوگوں کی امیدیں مایوسی میں بدلنا شروع ہوجاتی ہیں۔نعرے لگا کر حکومت حاصل تو کی جا سکتی ہے لیکن نعروں کی مدد سے حکومت چلائی نہیں جاتی۔اس وقت وزیر اعظم عمران خان کو بہت سے چیلنجز کاسامنا ہے۔’دشمن‘ پہلے ہی اس تاک میں ہیں کہ عمران خان کوئی غلطی کریں اور جگ ہنسائی کا باعث بن جائیں۔’دشمن‘ قابل شناخت ہے لیکن آستینوں میں رینگنے والے’دوستوں‘ سے بچنا اصل چیلنج ہے۔کچھ ’لوگ‘ ایسے ہوتے ہیں حکمران جن پر اندھا اعتماد کرتے ہیں لیکن یہی لوگ غلطیاں کرواتے ہیں اور برے وقتوں کے ساتھی اچھے وقتوں میں تاوان کے طلب گار ہوجاتے ہیں۔عمران خان بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے برے وقتوں کے ساتھیوں میں سے کون کون تاوان طلب کررہا ہے؟حکومت سازی میں جہانگیر ترین کے عمل دخل پر کڑی تنقید ہوئی لیکن انہوں نے ایک دیرینہ دوست کی حیثیت سے عمران خان کے لیے اپنے تمام وسائل جھونک دیے۔اس پر بہت سے اعتراضات بھی سامنے آئے لیکن آخر کار سب کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ پاکستان میں حکومت سازی کا رائج الوقت طریقہ کار یہی ہے اور اس میں تبدیلی لانا ممکن نہیں۔حکومت کے ابتدائی دو تین روز میں ہی عمران شاہ کے تھپڑ والا واقعہ رونما ہوگیا۔پہلے تھپڑ اور اس کے بعد معافی کی ویڈیو نے کالم نگاروں اور اینکروں کو لکھنے اور بولنے کے لیے بہت کچھ فراہم کردیا۔یہ معاملہ ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔صرف شوکاز نوٹس جاری کرکے ان نوجوانوں اورووٹروں کو مطمئن نہیں کیاجاسکتا جنہوں نے 26 جولائی کو عمران خان کی پہلی تقریر میں کیے گئے اس وعدے پریقین کر لیا تھا کہ وہ پاکستان کو مدینے جیسی ریاست بنائیں گے۔پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے لیے جن صاحب کو چنا گیا ہے ان کی شہرت کیسی ہے یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔کرپشن کے الزامات، قتل کے مقدمات، بوگس بھرتیاں اور ایسے ہی کئی اور معاملات ہیں کہ جن کا پنڈورا باکس اسی روز کھل گیا جس روز عمران خان نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا۔آج حلف اٹھانے والی کابینہ میں بھی بعض نام ایسے ہیں جن پر مخالفین کو انگلی اٹھانے کا موقع ملے گا۔ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ عمران خان سے یہ غلطیاں جو لوگ بھی کروا رہے ہیں عمران خان انہیں جلد پہچان لیں گے اور برے دنوں کے ساتھیوں کو تاوان ادا کرنے سے انکار بھی کر دیں گے۔قوم کو کپتان سے ایسے ہی دلیرانہ فیصلوں کی توقع ہے۔
( بشکریہ : پنجاب لوک سجاگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker