رضی الدین رضیسرائیکی وسیبلکھاری

ملتان مرا رومان : یادیں (34 ) ۔۔ رضی الدین رضی

ملتان کتنی بار اجڑا ؟

بعض مؤ رخین نے اس کی تاریخ و تہذیب کے آثار چھ ہزار سال پہلے تک بھی بیان کیے ہیں۔شہر کی قدامت پانچ ہزار سال ہے یا چھ ہزار سال لیکن مؤ رخین اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا میں اتنی قدامت والا کوئی اورزندہ شہر موجودنہیں ۔ایسا شہرجوہزاروں برس بیت جانے کے بعد بھی سانس لے رہا ہواور جہاں ہزاروں سال سے زندگی متحرک ہو ۔ان ہزاروں برسوں کے دوران یقیناً شہر کئی بار تباہی کاشکار ہوا ہوگا۔کئی مرتبہ آسمانی و زمینی آفات نے اسے لپیٹ میں لیا ہوگا۔کئی بار حملہ آوروں نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجائی ہوگی۔ہزاروں لاکھوں افراد کو تہہ تیغ کیاگیا ہوگا لیکن ان تمام آفات کے بعد اس شہر میں ایک بار پھر زندگی رواں دواں ہوئی۔

البیرونی ا ور ملتان کی قدامت

ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ شاید یہ شہر اولیاءاور صوفیاءکا مسکن ہونے کی وجہ سے آج تک زندہ ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس خطے میں صوفیاءکی آمد تو صرف ایک ہزار سال پہلے شروع ہوئی تھی اس سے پہلے بھی تو کم وبیش چارہزار سال سے یہ شہر مسلسل آبادتھا ۔74درجہ طول بلد اور 31درجہ عرض بلد پرواقع اس شہر کے قدیم ناموں کے بارے میں بھی بہت سی روایات ہیں۔اس شہر کا پہلانام میسان بتایا جاتا ہے۔البیرونی کاکہنا ہے کہ جب وہ گیارہویں صدی عیسوی میں ملتان آیا تو اس شہر کے باسی اسے دولاکھ سال سے زیادہ قدیم شہر سمجھتے تھے۔



کچھ اور پرانے نام اور روایات

شہر کا ایک اور معلوم نام کشپ پورہ ہے جسے راجہ ہرنا کشپ سے موسوم کیاگیاہے۔البیرونی نے اسے ملتان کا پہلاقدیم نام گردانا اور اسے حضرت عیسیٰؑ کی ولادت سے ڈیڑھ ہزارسال کے پہلے کازمانہ قراردیا۔راجہ ہرنا کشپ کے بعد راجہ پرہلاد بھگت تخت نشین ہوا تو شہر پرہلاد پورہ کہلانے لگا۔پھرہنس پورہ اور بھاگ پورہ بھی کہلایا۔سورج دیوتا کے پجاریوں کی نسبت سے شہر کو سمب پورہ قراردیاگیا۔ایک اورنام مول استھان پورہ بھی اس شہر کے حوالے سے بہت معروف ہے ۔اس نام کی بھی بہت سی روایات ہیں۔کچھ روایات کے مطابق مول یا مولا کے معنی اصلی اور استھان کے معنی ٹھکانے کے ہیں اورسورج کی روشنی چونکہ سبھی روشنیوں کی اصل مانی جاتی ہے اس لیے یہ شہر مول استھان ،مولا استھان پھر مولتان اور اب ملتان بن گیا۔بعض مؤ رخین مولتان کو مالی قوم سے بھی وابستہ کرتے ہیں جو دوہزار سال پہلے اس شہر میں آباد تھی جب سکندراعظم نے اس شہر پر حملہ کیاتھا۔اورروایات کے مطابق وہ مالی قوم کے جنگجوﺅں سے مقابلے کے دوران خونی برج کے مقام پر ایک زہریلے تیر کانشانہ بنا جوبعدازاں اس کی موت کاسبب بنا۔



ہاتھی دانت والا بازاراور محل کہاں تھا ؟

شہر کے نام کے بارے میں مختلف سیاحوں نے اپنے سفر ناموں اور مؤرخین نے اپنی تواریخ میں ایک اور وجہ بھی بتائی ہے۔ان کاکہناہے کہ یہ نام آدتیہ مندر میں موجود ایک بت کے باعث پڑا۔یہ بت خانہ دراصل ایک شاندار محل تھا جو ملتان میں ہاتھی دانت والے بازار کے قریب تعمیر کیاگیاتھا۔شہر کی گنجان آبادی میں واقع اس محل کا بلند گنبد آسمان سے باتیں کرتاتھا اوراس کے اردگردپجاریوں کے مکانات ہوتے تھے۔نامورچینی سیاح ہیون تسانگ نے اسی محل کے بارے میں لکھا ہے کہ یہاں پھولوں کے حصار میں ایک تالاب تھا ۔تالاب میں بہت سی سیڑھیاں تھیں تاکہ یہاں غسل کےلئے جانےوالے یاتریوں کو کسی مشکل کاسامنا نہ کرناپڑے

آدتیہ دیوتا کے بت کے لئے طلائی تحائف

دریائے راوی کے کنارے آباد کیا جانےوالا یہ شہر اپنے محل وقوع ،تاریخی اہمیت اورزرخیز زمین کی وجہ سے ہمیشہ حملہ آوروں کا نشانہ رہا۔ہرعہد اورہرزمانے میں طاقتور لوگوں نے اس شہر پر قبضے کی کوشش کی۔بے شمار جنگیں ہوئیں۔ہرعہد میں اس شہر کو قتل وغارت اور تباہی و بربادی کاسامنا کرنا پڑا اوریہ سب اس لیے ہوا کہ یہ شہر صدیوں سے ایک بڑا تجارتی مرکز بھی تھا۔سو حملہ آور لوٹ مار کی غرض سے یہاں آتے اور شہر کو تاراج کرجاتے۔آدتیہ مندر میں ایک بت تھا جسے آدتیہ دیوتا کا بت کہاجاتاتھا۔یہ بت صدیوں تک قائم رہا اور اس پر طلائی تحائف چڑھائے جاتے تھے ۔سونا اس شہر میں اس کثرت کے ساتھ موجودتھا کہ عرب سیاحوں نے ملتان کو بیت الذہب کا نام دے دیا۔

شہر پر پہلے حملے اور دیگر شورشوں کا احوال



مؤ رخین کے مطابق شہر پرپہلا حملہ مصر کے بادشاہ اوسیرس نے کیاتھا۔یہ قدیم ایرانی حکمرانوں کی قلم روبھی رہا۔تارتاریوں اور سفید ہنونے بھی ملتان پرحملہ کیا۔اس شہر پر چندرگپت موریہ کی بھی حکمرانی رہی۔ملتان راجہ داہر کی اقلیم رہا اور پھر محمد بن قاسم نے بھی اس شہرکو فتح کیا۔مغل دور میں ملتان مختلف ادوار میں شورشوں کی زد میں رہا۔راجے ،مہاراجے اس شہر کے حکام مقررہوئے اور پھر مغلوں کے بعد سکھوں کاعہد اور پھر انگریز کی حکمرانی۔پانچ ہزارسال کی تاریخ کو اس کی جزئیات کے ساتھ بیان نہیں کیاجاسکتاکہ اس کے لیے تو کئی ہزار صفحات درکارہونگے۔ ہاں البتہ شہر کی تہذیب کو جانچنے کےلئے اس کامختصر تاریخی احوال بیان کرنا ضروری تھا اوراس لیے ضروری تھا کہ تہذیب، تمدن اور ثقافت کو تاریخ سے الگ نہیں کیاجاسکتا۔

( جاری)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker